Daily Mashriq

عدم برداشت کے شاخسانے

عدم برداشت کے شاخسانے

کبھی اپنے ارد گرددوڑتی بھاگتی زندگی پر سوچنے کا موقع ملتا ہے تو دل اداس ہوجاتا ہے ہم ایک ایسی زندگی جی رہے ہیں جس میں برداشت نام کو نہیںبہت ہی معمولی سی بات پر ہم مرنے مارنے پر تل جاتے ہیںہمارا واسطہ ہر روز بڑی دل دکھادینے والی خبروں سے پڑتا ہے عدم برداشت کے حوالے سے ہمارا شمار صف اول میں کیا جانا چاہیے یہ خبر یںملاحظہ کیجیے: عدم برداشت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ لوگ اللہ کے گھر میں بھی ایک دوسرے کی جان لینے میں کوئی قباحت محسوس نہیں کرتے ۔ تھانہ انقلاب کی حدود میں اعتکاف پر بیٹھے شخص نے مسجد کے اندر سہیل نامی لڑکے کو قتل کردیا ! ملزم اعتکاف کے باوجود دنیاوی باتوں میں مشغول تھا جس پر مقتول نے اسے منع کیا جسے ملزم برداشت نہیں کرسکا اور زبانی تکرار کے بعد بھائی اور باپ کی مدد سے سہیل پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی!عید کی خریداری کے دوران کراچی کی جامعہ کلاتھ مارکیٹ میں خواتین کی دو پارٹیوں کو ایک ہی سوٹ پسند آگیا پہلے تو اس سوٹ کے حصول کے لیے زبانی تکرار ہوئی پھر اس کے بعد جذبات بھڑک اٹھے اور دونوں پارٹیوں نے ایک دوسرے پر حملہ کردیا جس میں تھپڑوں، ناخنوںاور جوتوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا پانی پت کی اس تاریخی لڑائی میں خواتین اپنے دوپٹوں سے محروم ہوگئیں !خریداری کے لیے آئی ہوئی دوسری خواتین نے مارشل آرٹ کی مہارت کا مظاہرہ بغیر کوئی ٹکٹ خریدے مفت دیکھا!تھریشر باری پر تکرار26سالہ نوجوان قتل کردیا گیا !چند لمحوں کی بات تھی تھوڑی دیر بعد قاتل کی باری آجاتی لیکن اس نے عدم برداشت غرور اور تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے نوجوان کو بڑی بیدردی کے ساتھ موت کے گھاٹ اتاردیا !چارسدہ میں تین سگے بھائیوں کا بہیمانہ قتل بھی عدم برداشت کا شاخسانہ ہے ! دماغ سن ہے عقل حیران ہے ایک ہی سوال ذہن میں بار بار اٹھتا ہے یہ سب کیا ہورہا ہے ؟ایبٹ آباد میں علاقہ باجوڑ سے تعلق رکھنے والے ایک جوان نے اپنے سگے ماموںکو چھریاں مار کر قتل کردیاملزم کے تینوں ماموں زاد بھائی شدید زخمی مذاق کے دوران بات بگڑ گئی !اس بے رحمانہ اور وحشیانہ قتل میں جو بات غور طلب ہے وہ مذاق میں بات بگڑنے والی بات ہے یعنی ہماری انا اتنی بڑھ چکی ہے ہم غرورو تکبر میں اس حد تک آگے جاچکے ہیں کہ اپنے مزاج کے خلاف کوئی بات برداشت نہیں کرسکتے چاہے اس کے لیے ہمیں قتل جیسے گناہ عظیم کا ارتکاب ہی کیوں نہ کرنا پڑے !داماد کو پتھروں کے وار کرکے قتل کرنے والا سسر بیٹے سمیت گرفتار!تنازعہ ایک رشتے کا تھا جو گفت وشنید اور باہمی صلاح مشورے سے باآسانی حل ہوسکتا تھا لیکن ایک باپ نے اپنی بیٹی کا گھر اجاڑ دیا اور اپنے دین دنیا دونوں تباہ کردیے!تنگی کے 2بھائیوں کو گاڑی کے اندر زندہ جلانے کے 6ملزمان گرفتار!پچھلے بارہ برس سے کرومائٹ کے پہاڑ کا تنازعہ چل رہا تھا جس کا آسان حل ملزمان نے یہ نکالا کہ دونوں بھائیوں کو گاڑی کے اندر زندہ جلا کر ماردیا !تخت بھائی میں ہمسایوں میں تصادم کے نتیجے میں فائرنگ اور خنجر کے وار سے خواتین سمیت 6افراد زخمی!صوابی میں بچوں کی لڑائی میں بڑے کود پڑے دو خالہ زاد بھائی جاں بحق!بچے تو بچے ہوتے ہیں آپس میں لڑتے ہیں اور پھر تھوڑی دیر بعد انہیں وہ لڑائی یاد بھی نہیں رہتی لیکن اپنی انا کے ہاتھوں مقتول نام نہادبڑے (جنھیں بڑے کہنا شاید مناسب بھی نہیں) اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیںاور پھر نسل درنسل دشمنی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے گھر اجڑتے چلے جاتے ہیں اور قبرستان آباد ہوتے رہتے ہیں ہر روز نئی قبریں بنتی ہیں سہاگنوں کے سہاگ اجڑ جاتے ہیںبچے یتیم ہوجاتے ہیںبہنیں اپنے جوان بھائی کھو دیتی ہیں انہیں جن کا سہرا دیکھنا تھااب ان کے جنازے دیکھتی ہیںہنستے کھیلتے گھرانے ماتم کدوں میں تبدیل ہوجاتے ہیںیہ سب کیا ہے؟ اور کیوں ہو رہا ہے ؟کیا ہمیں جینے کا ڈھنگ نہیں سکھایا گیا ؟ اور اگر نہیں سکھایا گیا تو یہ کس کی ذمہ داری ہے؟ذمہ داریوں کی تفصیل تو اچھی خاصی طویل ہے ماں کی گود سے شروع ہونے والے سفر میں باپ کا کردار بھی بڑا اہم ہے پھر درس گاہیں آجاتی ہیں اساتذہ کرام بھی اپنے حصے کا کردار ادا کرتے ہیںہمارا ماحول اورمعاشرہ بھی ہماری شخصیت پر بھرپور انداز سے اثر انداز ہوتے ہیںجمعتہ المبارک کے خطبے کی اہمیت بھی کسی تشریح کی محتاج نہیں ہے ان خطبات میں بہت کچھ سکھانے کی کوشش کی جاتی ہے !لیکن اس سب کچھ کے باوجود بھی ہم تبدیل کیوں نہیں ہوتے ؟ ہمارے اخلاق کیوں کمزور ہیں؟ہماری انا ہمارا غرور و تکبر کیوں ختم نہیں ہوتے؟ہم ایک لمحے میں اچھے بھلے انسان سے بھیڑیے کیوں بن جاتے ہیں؟دوستو! میرے پاس تو ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں ہے میری موٹی عقل کے پر یہاں جل گئے ہیں اگر آپ کے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب ہو تو ہمیں بھی بتا دیںہم آپ کے جوابات کو اپنے کالم کا حصہ بنا کر دنیا کو آگاہ کردیں گے !کسی نے مٹکے سے پوچھا ! تم اتنے ٹھنڈے کیوں رہتے ہو؟ مٹکے نے مسکرا کر جواب دیا : جس کا حال ماضی اور مستقبل سب مٹی سے بنا ہوتو تکبر اور گرمی کس بات کی ! (باقی صفحہ7)

متعلقہ خبریں