Daily Mashriq


گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا

آج جون کے مہینے کی 8 تاریخ ہے اور پاکستان سمیت ساری دنیا میں سمندروں کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔جس کا مقصد دنیا والوں کو سمندر کے حوالے سے بہت سی باتیں بتانی ہیں جن میں سے ایک بات یہ بھی ہے کہ اگر سمندر نہ ہوتے تو ہم بھی نہ ہوتے۔ ہم اتنا تو جانتے ہی ہیں کہ سمندر پانی کے بہت بہت بہت بڑے ذخیرے کو کہتے ہیں۔ اتنا بڑا ذخیرہ جس کے اندر پوری کی پوری آبی حیات اپنی زندگی کے شب و روز گزار رہی ہے۔ سمندر کے اندر جنگلات بھی ہیں۔ بڑے بڑے پہاڑ اور ٹیلے بھی موجودہیں۔ سمندروں کا رقبہ خشکی سے پانچ گنا زیادہ ہے۔ شواہد بتاتے ہیں کہ کسی زمانے میں سطح زمین پر خشکی نام کی کوئی چیز نہیں تھی چہار سو ، ٹھوس مائع اور گیس کی صورت پانی ہی پانی تھا۔ زمین پر کھڑے سارے پہاڑ اس پانی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ اور پانی کے بہاؤ کی وجہ سے سمندر کے ا ندر تہہ دار چٹانیں وجود میں آرہی تھیں۔ جن کا مشاہدہ آج بھی پاکستان کے کسی پر فضا مقام یا سلسلہ ہا ئے کوہ کی سیر کے دوران کیا جا سکتا ہے۔ پھر قدرت خداوندی سے یوں ہوا کہ کائنات کی وسعتوں میں گردش کرتے سیاروں اور ستاروں میں سے کوئی ایک سیارہ یا ستارہ زمین کے قریب سے گزرا جس کی کشش ثقل کی وجہ سے زمین کے سمندروں میں ایک طوفان بلا خیز اٹھا۔ یہاں زلزلے اور بھونچال آئے بہت بڑے دھماکے ہوئے اور زمین کا بہت سارا حصہ کٹ کر فضا میں معلق ہوگیا۔ فضا میں معلق ہونے کی وجہ زمین کی اپنی کشش ثقل ہے۔ زمین سے جدا ہونے والا حصہ اس کی کشش ثقل سے باہر نہ نکل سکا اور وہ اپنے خاص مدار پر زمین کے گرد گھومنے لگا۔ زمین کے گرد گھومنے والے اس حصہ کو زمین پر اتر کر بود و باش کرنے والی نسل آدم نے چاند کہہ کر پکارا اور اس کے متعلق مختلف مفروضے یا کہانیاں گھڑنے لگے۔ جیسا کہ عرض کیا کہ سائنس اور سائنسدان بتاتے ہیں کہ چاند زمین ہی سے کٹ کر اس کی کشش ثقل کا اسیر رہنے والا حصہ ہے اور وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ جس مقام سے زمین کا ایک حصہ قطع ہوکر چاند بنا اس مقام پر بہت بڑا گڑھا بن گیا اور زمین کی سطح پر ٹھا ٹھیں مارتا بہت سا پانی اپنی سطح ہموار رکھنے کی خاصیت کی وجہ سے اس گڑھے کی جانب بڑھا جس کے نتیجے میں سمندر میں ڈوبی خشکی نے سر اٹھایا اور سمندر کے اندر چھپے پہاڑ پانی سے باہر نکل آئے اور جس گڑھے میں زمین پر پھیلا پانی بہہ کر جمع ہوگیا اسے بحرالکاہل کے نام سے یاد کیا جانے لگا۔ گویا بحرالکاہل اس سمندر کا نام ہے جو زمین کے گرد گردش کرنے والے چاند کا سبب وجود ثابت ہوا۔ یہی وجہ ہے کہ اہل عقل و فراست یہ بات کرتے ہیں کہ اگر کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے کہ زمین کے گرد گھومنے والے چاند کو لاکر بحر الکاہل میں ڈبودیا جائے تو اس کا سارا پانی ایک بار پھر سارے کے سارے شجر و حجر کو اپنی لپیٹ میں لیکر زمین پر موجود خشکی کو ایک بار پھر پانی میں مل کے پانی انجام یہ کہ فانی کردے۔ مگر ایسا انسان کے بس کی بات نہیں۔ اور نہ ہی خالق کائنات کو ایسا کرنا منظور ہے۔ قدرت خدا وندی کا مقصد کرہ ارض پر چہار سو پانی کی حکمرانی کو ختم کرکے وہاں خشکی پیدا کرنی تھی اس لئے اس نے زمین کے قریب سے ایسا ستارا یا سیارہ گزارا کہ اس سے ایک حصہ قطع ہوکر خلا میں معلق ہوکر زمین کے گرد گھومنے لگا جس کے نتیجے میں زمین پر بحر کے علاوہ بر بھی پیدا ہوگئے۔اور دانائے راز کے اس فرمودے کا ایک جواز مل گیا کہ

دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے

بحر ظلمات میں دوڑا دئیے گھوڑے ہم نے

زمین پر خشکی کو وجود میں لانے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ یہاں حضرت آدم اور اماں حوا کو بھیجا جائے جن کی نسلیں زمین کے گرد گھومتے چاند کو دیکھ کر کہتی رہیں کہ

کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا ترا

کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ ترا

زمین جو نسل آدم کے آنے سے پہلے برف اور پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اس پر جزیرے اور براعظم پیدا ہوگئے جن پر کھڑے پہاڑ بیتے زمانے کی کہانیاں پیش کرنے لگے۔ اہل دانش نے چاند سورج اور ستاروں کامطالعہ کرنے کے علاوہ زمین پر پھیلے پانچ حصے پانی اور ایک حصہ خشکی کا مطالعہ کرتے وقت ہمیں بتایا کہ ہم چالیس فی صد پینے کا پانی سمندر وں کی وجہ سے حاصل کرتے ہیں 75 فی صد آکسیجن ہمیں سمندروں کی وجہ سے حاصل ہوتی ہے۔ سمندر کا پانی جس وقت آبی بخارات کی صورت فضا میں بلند ہوتا ہے تو وہ بادل بن کر ہوا کے دوش پر اڑتارہتا ہے اور جب کسی یخ بستہ مقام پر پہنچتا ہے تو اس کا وجود برف کے ذروں میں تبدیل ہوجاتا ہے ، جب برف کے ان ذروں کو ہوا اٹھا کر نگر نگر لے کر پھر نہیں سکتا تو یہ ذرے زمین پربارش بن کر گرنے لگتے ہیں ، زمیں پر گرنے کے بعد بارش کے یہی قطرے ہمارے ندی نالوں میں طغیانی کا باعث ثابت ہوتے ہیں یا پہاڑوں پر برف بن کر جم جاتے ہیں ، یا

کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاؤں گا

میں تو دریا ہوں سمندر میں اتر جاؤں گا

کی تمثیل پیش کرتے ہوئے دریاؤں سے گزر کر ایک بار پھر سمندر میں گر جاتے ہیں ، اے کاش کہ سمندر میں گرنے سے پہلے کے اس پانی کو روک کر اس سے بجلی پیدا کرنے کے علاوہ اپنے کھیتوں میں سونا اگا کر اس انہونی کو ہونی کردیتے کہ

گرتے ہیں سمندر میں بڑے شوق سے دریا

لیکن کسی دریا میں سمندر نہیں گرتا

متعلقہ خبریں