Daily Mashriq


بحریہ ٹاؤن کی تجاوزات کیس سے بچنے کیلئے 9 ارب روپے کی پیشکش

بحریہ ٹاؤن کی تجاوزات کیس سے بچنے کیلئے 9 ارب روپے کی پیشکش

اسلام آباد: ملک کی سب سے بڑی نجی ہاؤسنگ سوسائٹی بحریہ ٹاؤن نے ضلع راولپنڈی میں جنگل کی 6 ہزار کینال اراضی پر قائم کی گئیں تجاوزات سے متعلق کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) کے ریفرنس سے بچنے کے لیے 9 ارب روپے کی پیشکش کردی۔

بحریہ ٹاؤن کی جانب سے یہ پیشکش سپریم کورٹ کے حکم کے تناظر میں کی گئی ہے، جس میں عدالت نے گذشتہ سال مئی میں دیئے گئے فیصلے پر عمل درآمد کے لیے نئے بینچ کی تشکیل کا حکم دیا تھا۔

سپریم کورٹ نے 4 مئی 2018 کو فیصلہ سنایا تھا کہ راولپنڈی میں جنگل کی اراضی، جو شہر سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر قائم ہے، پنجاب حکومت کی جانب سے غیر قانونی طریقے سے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی کو فراہم کی گئی اور ساتھ ہی عدالت نے نیب کو حکم دیا تھا کہ ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور ملزمان کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے۔

خیال رہے کہ عدالت عظمیٰ نے اس حوالے سے نظر ثانی درخواست مسترد جبکہ مذکورہ فیصلے پر عمل درآمد کے لیے جسٹس شیخ عظمت سعید کی سربراہی میں قائم بینچ تحلیل کردیا تھا۔

ہاؤسنگ سوسائٹی کے رہائشیوں کی جانب سے عدالت عظمیٰ میں تیسرے فریق کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملدرآمد بینچ میں ایک نظر ثانی درخواست دائر کی گئی تھی۔

بحریہ ٹاؤن کی جانب سے عدالتی حکم کے تناظر میں جواب جمع کروایا گیا، جس میں غیر قانونی تجاوزات کو قانونی حیثیت دینے کے لیے ابتدائی طور پر 13 ارب روپے کی پیشکش کی گئی تھی، تاہم جب عملدرآمد بینچ نے نجی ہاؤسنگ سوسائٹی سے اس حوالے سے پیش رفت سے متعلق تجویز طلب کی تو سوسائٹی کی جانب سے ایک درخواست میں تجاوزارت کو قانونی حیثیت دینے کے لیے فی کینال 15 لاکھ روپے کی پیشکش کی گئی۔

سپریم کورٹ نے 4 مئی کو اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ اراضی پر بحریہ ٹاؤن اور پنجاب کے محکمہ جنگلات کی جانب سے تجاوزارت قائم کی گئیں جبکہ اراضی سے متعلق دستاویزات میں علاقے کے بارے میں ناقابل یقین تصورات پیش کیے گئے۔

جسٹس اعجاز افضل خان کی جانب سے تحریر کیے گئے فیصلے میں محکمہ جنگلات، ریونیو اور سروے آف پاکستان کو حکم دیا گیا تھا کہ وہ بحریہ ٹاؤن اور محکمہ جنگلات کو نوٹس جاری کرنے کے بعد اراضی کا تعین کریں۔

عدالتی حکم کے مطابق 'نیب کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ کیس کی تحقیقات کرے اور ان تمام ذمہ داروں کے خلاف ریفرنس دائر کیا جائے جو کسی بھی سطح پر اور کسی بھی صورت میں اس جرم میں ملوث ہیں'۔

متعلقہ خبریں