Daily Mashriq

صنعتوں کیلئے ٹیکس میں کمی کا تنازع: حکومت، ایکسپورٹرز آمنے سامنے

صنعتوں کیلئے ٹیکس میں کمی کا تنازع: حکومت، ایکسپورٹرز آمنے سامنے

لاہور: سابق وفاقی وزیر برائے خزانہ اسد عمر کے مستعفیٰ ہونے کے بعد عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے معاہدوں کی نئی شرائط کے تناظر میں حکومت اور پنجاب کے ایکسپوٹرز کے مابین بجٹ تجاویز میں برآمدی صنعتوں پر سیلز ٹیکس کے خاتمے کے معاملے پر تنازع شدت کرگیا۔

حکومت نے نئے مالی سال میں زیروریٹڈ پالیسی کے تحت پنجاب کی پانچ بڑی برآمدی صنعتوں کو ٹیکس میں غیر معمولی کمی کا عندیہ دیا تھا۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے رہنما نے ڈان کو بتایا کہ حکومت نے مقامی ایکسپورٹرز کی حوصلہ افزائی کے لیے گیس کی قیمت 6.5 ڈالر فی ایم ایم بیو ٹی یو اور بجلی کی ریٹ 0.75 ڈالر فی یونٹ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ حکومت کی اقتصادی کمیٹی نے سیلز ٹیکس میں 7.5 فیصد کمی پر غور کرنے کا بھی عندیہ دیا تھا۔

خیال رہے کہ ٹیکسٹائل صنعت میں موجودہ سیلز ٹیکس کی شرح 17 فیصد ہے۔

فیصل آباد سے تعلق رکھنے والے ایک ایکسپورٹر نے بتایا کہ ٹیکس میں کمی سے متعلق فیصلہ آج متوقع ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے سیلز ٹیکس ریٹ میں کمی آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط کردی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں کمی کا تعین اگلے مرحلے میں ہوگا جبکہ ایکسپورٹرز کی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ حکومت یقینی بنائی گی کہ فیڈرل بورڈ آف یونیور (ایف بی آر) 60 دن کے اندر ان کے سیلز ٹیکس کلیمز ادا کردے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’تاحال کوئی بھی بات حتمی نہیں ہے جب تک حکومت اعلان نہ کردے‘۔

خیال رہے کہ 6 جون کو وزیر مملکت برائے ریونیو بیرسٹر حماد اظہر نے ٹوئٹ میں کہا تھا کہ ’ٹیکس اور بجلی اور گیس کے ٹیرف سمیت دیگر امور پر ایکسپورٹرز سے مشاورت کا سلسلہ جاری ہے تاہم حتمی فیصلہ وفاقی کابینہ کے اجلاس میں ہوگا‘۔

وزیر مملکت برائے ریونیو کے ٹوئٹ سے واضح ہوتا ہے کہ تاحال کسی امور پر حتمی فیصلہ نہیں لیا جا سکا۔

موقف لینے کے لیے بیرسٹر حماد اظہر سے رابطہ کرنے کی متعدد مرتبہ کوشش کی گئی لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا۔

ایک ایکسپورٹر نے بتایا کہ مقامی صنعت کی ترقی صرف اسی میں ہے کہ ملک سے اشیا ایکسپورٹ ہوں۔

صنعت کار کا کہنا تھا کہ زیرو ریٹ پالیسی کے خاتمے سے دیگر چار صنعتیں بشمول آلات سازی، کھیلوں کاسامان، کارپیٹ اور چمڑے کی صنعت بری طرح متاثر ہوں گی۔

سیالکوٹ کے ایک تاجر نے بتایا کہ مذکورہ پالیسی کے نتیجے میں اسمال اور میڈیم برآمدی صنعتیں تباہ ہوجائیں گی۔

ان کا کہنا تھا کہ زیرو ریٹ پالیسی ختم ہوئی تو ملک کی برآمدات 3 ارب ڈالر تک گر سکتی ہے جو ہمارے لیے زندگی اور موت کے مترادف ہے، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے‘۔

متعلقہ خبریں