Daily Mashriq


سرحدکھلتے ہی دہشت گردوں کا پھر حملہ

سرحدکھلتے ہی دہشت گردوں کا پھر حملہ

پاک افغان سرحد کا پونے تین ہفتوں کی طویل بندش کے بعد دو روز کے لئے کھولنے کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان رابطوں کی بحالی کا پہلا قدم ہے جس سے سرحد کے دونوں پار مشکلات میں گھرے عوام کو آمد و رفت کی سہولت میسر آئے گی۔ پاک افغان سرحد کی بندش کے باعث سرحد کے دونوں جانب اور خاص طور پر افغانستان کے شہریوں کی مشکلات ہی سنگین مسائل نہ تھے بلکہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد کی بندش کے باعث تازہ میوہ جات اور اشیائے خوردنی کے ٹرکوں سمیت سامان سے لدے سینکڑوں ٹرک پونے تین ہفتوں سے سرحد پار کرنے کے انتظار میں کھڑے تھے۔ تازہ سبزی' میوہ جات اور اشیائے خوردنی کا خراب ہو جانا فطری امر تھا جبکہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی بندش سے نہ صرف عوام اور کاروباری طبقہ مشکلات کا شکار تھا بلکہ ملکی خزانہ کو روزانہ کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہو رہا تھا۔ بہر حال سرحد کھلنے سے ان افغان باشندوں کی مشکلات میں کمی آئے گی جو ہنگامی حالات میں سرحد بند کیے جانے کے باعث ، پاکستان میں پھنس گئے تھے اور ان تاجروں کی مشکلات کا ازالہ ہو گا جن کی مال بردار گاڑیاں سرحد بند ہو جانے کی وجہ سے سرحد کھلنے کے انتظار میں کھڑی ہیں ۔ پہلے پاک افغان سرحد اس وقت بند کی گئی تھی جب پاکستان کے چاروں صوبوں میں دہشت گردی کی نئی لہر ابھری تھی اور حملہ آور افغان باشندے پائے گئے تھے۔ افغانستان سے روزانہ تیس سے پینتیس ہزار افراد پاکستان میں داخل ہوتے ہیں ، کچھ کاروبار کی غرض سے ، اورکچھ مختصر تعداد میں تعلیم اور علاج معالجے کی غرض سے پاکستان آتے ہیں۔ روزانہ اتنی بڑی تعداد کی پڑتال کرنا کہ ان میں سے کوئی دہشت گردپاکستان میں داخل ہونے کی کوشش کر رہا ہے یا نہیں، ممکن نہیں۔ اس لیے فوری طور پر فیصلہ کیا گیا کہ سرحد بند کر دی جائے اور اس فیصلے کا مثبت اثر ہوا۔ پاکستان کی فوج ، رینجرز اور سول آرمڈ فورسز نے ملک بھر میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں پر گرفت کرنے کی جو کارروائی شروع کی تھی اس میں اہم کامیابیاں حاصل ہوئیں۔ اگرچہ پاک افغان سرحد بند کرنے کا فیصلہ ہنگامی صورت حال میں فوری فیصلے کے طور پر ہوا اور اس سے مطلوبہ نتائج کے حصول میں مدد بھی ملی تاہم اس سرحد کو مستقل طور پر بند رکھنا پاکستان کا مقصد نہ تھا۔ لیکن سرحد دوبارہ کھولنے کا مطلب یہ بھی نہیںہونا چاہیے کہ پہلے کی طرح تیس پینتیس ہزار افراد روزانہ پاکستان آئیں اور پڑتال کے عمل کو ناکام بناتے ہوئے پاکستان میں داخل ہوں اور پھر واپس بھی آئیں ۔ روزانہ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے والے ہزاروں افراد میں یہ اندازہ نہیںلگایا جا سکتا کہ ان میں کون ایسے لوگ ہیں جو پاکستان سے فرار ہو کر افغانستان میںمقیم ہیں اور مذموم عزائم کے لیے پاکستان میں واپس آ نا چاہتے ہیں۔ پاکستان اور افغانستان کی سرحد کے دونوں طرف آباد لوگوں کے آپس میں نہایت اچھے اور مذہبی ، لسانی تعلقات ہیں جو دونوں ملکوںکے تعلقات کو بہتر سے بہتر بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔ لیکن پاکستان اور افغانستان دو آزاد اور خود مختار ملک ہیں۔ اور ایک دوسرے کی آزادی اور خود مختاری کو تسلیم کرتے ہیں۔ دونوں ملک اس اصول کو بھی تسلیم کرتے ہیں کہ ایک کی سرزمین دوسرے کے خلاف استعمال نہیںہونی چاہیے۔ بعض وجوہ کی بنا پر افغانستان نے پاکستان سے فرار ہو کر پناہ لینے والے ناپسندیدہ افراد کو افغانستان میں داخل ہونے اور وہاں اپنی کمین گاہیں قائم کرنے سے نہیں روکا۔ اب افغانستان کا فرض ہے کہ وہ انہیں گرفتار کرکے پاکستان کے حوالے کرے ، اگر ایسا ممکن نہیں تو انہیں دوبارہ پاکستان میں داخل ہونے سے روکے۔ اور اگر اس حوالے سے پاکستان کے تعاون کی ضرورت محسوس کی جائے تو وہ حاصل کیا جائے کیونکہ آزاد اور خود مختار ملک ہونے کی حیثیت سے اس کا فرض ہے کہ اپنی سرزمین کو کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دے۔اسے بد قسمتی ہی گردانا جائے گا کہ پاکستان کی طرف سے سرحد کھولنے کے اعلان کے عین روز مہمند ایجنسی میں افغانستان سے دہشت گردوں کے حملہ میں پانچ فوجی جوان شہید ہوگئے۔ اس حملے کا پاکستانی فورسز کی جانب سے جواب دینا مجبوری تھی۔ ہمارے تئیں اس طرح کے واقعات جب بھی پیش آئیں گے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی ہی کا باعث بنیں گے۔ اس حملے سے یہ از خود آشکار ہے کہ افغانستان میں چھپے دہشت گرد گروہ دونوں ملکوں کے درمیان حالات کو معمول پر آنے نہیں دیتے۔ جب تک اس سازش کا دونوں ممالک مل کر مقابلہ نہیں کریں گے اور خاص طور پر افغانستان اپنی سر زمین میں متحرک دہشت گرد گروپوں کے خلاف موثر کارروائی نہیں کرے گا یا پھر پاکستان کو دہشت گردوں کی سر کوبی کے لئے سرحد پار مواقع فراہم نہیں کرے گا تب تک دونوں کے لئے اچھے ہمسایوں کی طرح رہنا ممکن نہ ہوگا۔ افغانستان کی حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کرے اوراپنے علاقے میں دہشت گردوں کے مراکز کو ختم کرکے سرحدی کشیدگی کا سبب بننے والے حالات کا خاتمہ کرے۔

متعلقہ خبریں