Daily Mashriq


پی ایس ایل کے فائنل کی جیت

پی ایس ایل کے فائنل کی جیت

پاکستان کے دل لاہور میں پی ایس ایل کے فائنل کے کامیاب انعقاد کے بعد یہ مبارکباد دینے اور سمیٹنے کا وقت ہے۔ پشاور زلمی کو اس فائنل کی فتح مبارک ہو۔ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو اس فائنل کے مقابلے میں اترنا مبارک ہو۔ پاک فوج اور سیاسی قیادت اورپاکستان کرکٹ بورڈکو پاکستان میں فائنل کاانعقاد کرنے کامشکل فیصلہ کرنا مبارک ہو۔ سیکورٹی کے اداروں کے ان ہزاروں اہلکاروں' افسروں کومبارکباد جنہوں نے کھلاڑیوں کو دیکھنے کی بجائے تماشائیوں کے تحفظ کیلئے اطراف پر نظر رکھی اور انہیں بھی جولاہور کے علاوہ ملک کے دیگر شہروںاور قصبوںمیں دہشت گردی کے کسی ممکنہ اقدام کو روکنے کیلئے مستعد رہے۔یہ معرکہ سرکرلیا گیا لیکن جنگ ابھی جاری ہے۔ دشمن خاموشی کے وقفے کے بعد یکایک حملہ آور ہوکر بار بار عوام کو امید اور مایو سی میں مبتلا کرکے بداعتمادی میں مبتلا کرناچاہتاہے تاکہ ان کااپنے ریاستی اداروں پر اعتمادمتزلزل ہو جائے جوقومی اتحاد کی بنیاد ہے۔وزیراعظم نواز شریف نے کہاہے کہ ہم نے دنیا پر واضح کر دیا ہے کہ ہماری تنہائی کے دن ختم ہوگئے۔ دیگر رہنمائوں نے بھی ایسے بیانات جاری کیے ہیں کہ پی ایس ایل فائنل کے کامیاب انعقادکے ساتھ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھل گئے ہیں۔ عمران خان کے بیان کامفہوم یہ تھا کہ اس فائنل کے انعقاد سے دنیا کو یہ پیغام گیا ہے کہ پاکستان میں کوئی بڑا ایونٹ کروانے کیلئے ہزاروں سیکورٹی اہلکاروں کو مامور کرنے کی ضرورت پڑتی ہے۔ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھلنے میں ابھی کئی مراحل باقی ہیں خاص طور پر وہ بیانیہ جسے بھارت نے سالہاسال کی کوشش کے ذریعے دہشت گردی کے ساتھ پاکستان کا تعلق جوڑنے کے حوالے سے دنیا میں رائج کررکھاہے تاہم عمران خان کی تنبیہہ کے باوجود دنیا کو یہ مثبت پیغام گیا ہے کہ فوج اور سول انتظامیہ کی کوششوں سے دہشت گردوں کو کم از کم عارضی طور پر ہی سہی اپنے عزائم کو بروئے کار لانے سے خوفزدہ کیا جاسکتاہے تاہم اصل پیغام دنیا کو یہ گیاہے کہ پاکستان کے عوام ہر قسم کے خطرات کے باوجود پانچ دن میں آٹھ خودکش حملوں کی دہشت گردی کی لہرکے باوجود حوصلہ مند ہیں' دہشت گردوں کے قوم کو خوف میں مبتلا کرنے کے عزائم کو مسترد کرتے ہیں۔ امن و آشتی کے ماحول میں اجتماعی مواقع کوجشن کی طرح مناتے کی کوششوں میں شریک ہوتے ہیں۔

پاکستان میں پی ایس ایل کے فائنل میں اور اس سے قبل بیرون ملک مقابلوںمیں سارے پاکستان کے عوام کی میڈیا کے ذریعے پرجوش شرکت سے بین الاقوامی کمیونٹی پر واضح ہوگیا ہے کہ پاکستانی قوم دہشت گردی سے خوفزدہ نہیں ہے۔ اگر پاکستان دشمنی کی بنیاد پر اپنااتحاد برقرارکی پالیسی پر گامزن پاکستان کا ہمسایہ پاکستان میں دہشت گردوں کو سمگل کرنے کا بندوبست نہ کرے اور پاکستان میں دہشت گردی کیلئے اپنے ایجنٹ پیدا کرنے کی کوششوں سے باز آجائے تو پاکستانی قوم ایک پرامن اور صحت مند رویوں کی مالک 'کسی نسلی ' علاقائی' لسانی امتیاز کے بغیر دوستی اور محبت کے رشتے قائم کرنے والی اوران رشتوں کااحترام کرنے والی قوم ہے۔ دہشت گردوں کے پاکستان میں در آنے راستے روکے جارہے ہیں اوردشمن کے ایجنٹوں کی تلاش اور انہیں کیفر کردارتک پہنچانے کیلئے کومبنگ آپریشن جاری ہے اور ساری قوم اس کاخیرمقدم کررہی ہے اور ا س میں سیکورٹی اداروں کے ساتھ تعاون کررہی ہیں۔عمران خان کا یہ کہنا بے جا نہیں تھا کہ اس قدر سخت سیکورٹی میں پی ایس ایل کافائنل منعقد کروانے سے بیرون ملک یہ پیغام جاتا ہے کہ اتنی سخت سیکورٹی کے بغیر پاکستان میںکوئی بڑاایونٹ منعقد نہیں ہوسکتا۔ لیکن اس میں ایک مثبت پیغام بھی مضمرہے کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز ان کے منتظمین اور قیادت دہشت گردوں کو اپنے بلوں میں گھسے رہنے پر مجبور کرسکتی ہیں۔ ان کے ارادوں اور مقاصد کو ناکام بناسکتی ہیں۔

پاکستان کی سیکورٹی فورسز کی اہلیت اور صلاحیت کا یہ تقاضا کرنا ہے کہ نگرانی اور مستعدی کا یہ معیار جس کامظاہرہ پی ایس ایل کے فائنل کے انعقاد کیلئے کیا گیا برقرار رکھا جائے۔ کہا جارہا ہے کہ لاہور کے فائنل کی سیکورٹی پر 6 ہزار اہلکار مامور کیے گئے۔یہ بات قابل داد و تحسین ہے کہ کرکٹ میں ساری قوم کی پرجوش دلچسپی کے باوجود ان اہلکاروں نے فائنل میچ کی طرف توجہ ہونے کی بجائے اپنے فرائض پر نظر رکھی۔ سیکورٹی فورسز نے نہ صرف لاہور میں امن و امان کو یقینی بنایا بلکہ ملک کے دور دراز قصبوں اور شہروں میں بھی نگرانی اور خفیہ کاری کے اعلیٰ ترین معیار کا ثبوت دیا۔ اس لئے ارباب بست و کشاد کو اس طرف غور کرنا چاہیے کہ جس طرح پی ایس ایل فائنل کے انعقاد کیلئے پولیس فورس اور سیکورٹی کے دیگر اداروں کو صرف قومی سلامتی کے تقاضوں پر متوجہ رکھا گیا انہیں پروٹوکول' فرائض اور اہم شخصیات کی نقل و حرکت کے راستوں کی حفاظت کے فرائض سے مستثنیٰ رکھا گیا یہ طریقہ کار مستقل طور پر اپنایاجائے۔ جب ہم بار بار یہ کہتے ہیں کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف حالت جنگ میں ہے تو سیکورٹی فورسزکے اہلکاروں کو محض سیکورٹی کی طرف ہی متوجہ رکھا جاناچاہیے اوران سے پروٹوکول چوکیداری جیسی خدمات لینے سے گریز کیا جاناچاہیے۔ حالت جنگ کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کے عوام خطرے میں ہیں اس لئے پاکستان کے عوام کاتحفظ اولین مقصد ہوناچاہیے۔ پی ایس ایل فائنل کے انعقاد پر لاہوراور سارے پاکستان میں دہشت گردی سے مکمل امان یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان کی سیکورٹی فورسز اگر سیاسی عزم ہو، انتظامیہ نگران اور چوکس ہو' قیادت پوری طرح متوجہ ہو تو یہ مقصد سیکورٹی فورسز بغیر کسی اضافی نفری کے چند دن کے لئے حاصل کرسکتی ہیں تو سیاسی عزم انتظامیہ کی مستعدی اور قیادت کی ہمہ وقت توجہ سے یہ صورتحال مستقل طور پر برقرار رکھی جاسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں