Daily Mashriq


جہیز کے خلاف بل

جہیز کے خلاف بل

خیبر پختون خوا صوبائی اسمبلی میں جماعت اسلامی کی خاتون رکن راشدہ رفعت نے ایک بل پیش کیا ۔ بل میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ شادی کی تقریبات میں جہیز لینے اور دینے پر مکمل پابندی لگائی جائے ۔ جہیزلینے اور دینے کی صورت میں تین ماہ قید اور ٢ لاکھ روپے جُرمانے کی سزادی جائے۔ وہ لوگ جو دلہن کے خاندان پر دبائو ڈال کر جہیز کا تقاضہ کریں اُنکے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ شادی کے مو قع پر جوڑے کو جو تحفہ دیا جائے اس کی مالیت دس ہزار سے زیادہ نہ ہو۔ولیمہ کا خرچہ 75 ہزار روپے سے زیادہ نہ ہو۔ بارات اور نکاح کی تقاریب میں مہمانوں کی تو اضع مشروب سے کی جائے۔ اس میں شبہ نہیں کہ جہیز کی مو جودہ شکل ایک تباہ کُن رسم بن گئی ہے۔لڑکی کو ماں باپ رخصت ہوتے وقت جو کچھ دیتے ہیں وہ ایک امر مستحسن اور انسانی فطرت کاتقاضا ہے مگر غیروں کی دیکھا دیکھی اب مسلمانوں میں بھی جہیز کی رسم ایک ناگوار جبری مطالبہ کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ جہیز کے ظالمانہ اورغیر انسانی مطالبوں کو پو را کر نے کے لئے آج کتنے گھرتباہ و بر باد ہو چکے ہیں ۔ بد قسمتی سے لاکھوں بہنیں بیٹیاں گھروں میں جہیز نہ ہو نے کی وجہ سے بو ڑھی ہوجاتی ہیں یا شادی نہ ہونے کی وجہ سے غلط روش اختیار کرتی ہیںیا نفسیاتی مریض بن کر خود کشی کرلیتی ہیں۔حقیقت تو یہ ہے کہ لڑکی اگر اپنے والدین سے کوئی مطالبہ کرے تو کر سکتی ہے کیونکہ ماں باپ سے فر مائش اسکا پیدائشی حق ہے اگر چہ اسے بھی مطالبہ کر تے وقت اپنے والدین کی بساط کا جائزہ لینا ضروری ہے، مگر داماد یا اس کے گھر والوں کو کس نے حق دیاہے کہ لڑکی یا اس کے والدین سے کسی قسم کا سوال، تقاضا یا مطالبہ کریں ، یہ تو یقیناً ایک طرح کی بھیک ہے ، جسے رسم و رواج کے نام پر قبول کیا جارہا ہے۔ اسلام دو ہی صورتوں میں بھیک مانگنے کی اجازت دیتا ہے یا تو سائل کا کوئی حق دوسرے سے متعلق ہو یا پھر سائل اتنا تنگدست ہوکہ اسکی گزر اوقات مشکل ہو اور سوال کے بغیر کوئی چارہ کار ہی نہ ہو تو اس کا سوال کر نا جائز ہے۔ وہ بھی بقدر حا جت ، حا جت و ضرورت سے زیادہ مانگنا بھی جائز نہیں۔ داماد کا ساس سسر پر کوئی لازمی حق تو ہو تا نہیںجسکا مطالبہ اس کے لئے جائز ہو۔ لہٰذا اب دوسری صورت تنگدستی والی رہ جاتی ہے جب کہ سماج میں اسکی بھی کوئی گنجا ئش نہیں کہ تنگ دست داماد اپنی تنگدستی کا اظہار کر کے سسرال والوں سے کچھ مانگے۔ حالانکہ اگر واقعی تنگدست ہو تو بقدر ضرورت مانگ سکتا ہے۔ اور جب دونوں صورتیں نہیں تو یقینایہ سوال ممنوع وناجائز ہے کیونکہ بلا ضرورت مانگنے کی اسلام میں سختی سے ممانعت کی گئی ہے۔

حضرت ابو ہریرہ سے مر وی ہے کہ حضور ۖ نے ارشاد فر مایا جو مال بڑھانے کے لئے سوال کر تا ہے وہ انگا رے کاسوال کر تا ہے ۔ دوسر ے مو قع پر آقائے نامدار ۖ فر ماتے ہیںکہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مردوں کو بالا دستی اور حاکمیت عطا فر مائی ہے۔ قُر آن مجید فُرقان حمید میں ارشاد ہے ''الرجاء قوامون علی النسائ'' مرد عورتوں پر حاکم ہے ،مگر افسوس آج کا مرد حاکم ہو کر اپنے مقام و منصب کے خلاف عورت کے سامنے سائل اور ذلیل ہوتا ہے۔ ہمارے معا شرے میں جہیز نہ ملنے کی وجہ سے زیادہ تر بیٹیوں اور بچیوں کے بالوں میں چاندی لگ جاتی ہے۔اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ نفسیاتی مریض بن جاتی ہیں۔ بھارت کے ایک مشہور محقق فالاش کمار اپنے ایک مقالے میں کہتے ہیں کہ گزشتہ دس سال میں 10 ملین بچیاں یاتو پیدائش سے پہلے یا پیدائش کے فو راً بعد والدین نے ہلاک کردیں ۔تامل ناڈو اور را جستھان میں تو بڑے بڑے بل بو رڈ لگے ہوتے ہیں جس پر لکھا ہوتا ہے Invest Rs. 500 and Save Rs. 500000/-کہ الٹرا سائو نڈ پر500 روپے خرچ کر کے 5لاکھ بچائو،جو عام طو ر پر بچی کی پر ورش اور جہیز پر خرچ ہو تے ہیں۔ بدقسمتی سے ہندوئوں کے زیر اثر مسلمان اور بالخصوص پاکستانی معاشرے میں بچی کو اچھا نہیں سمجھا جاتا ۔ مگر اسلامی تعلیمات ہماری سوچ اور فکر کے بر عکس ہیں۔سورة الا نعام کی آیت نمبر 151 اور سورة بنی اسرائیل کی آیت نمبر 31 میں ارشاد خداوندی ہے اپنی اولاد کو مُفلسی کے خوف سے قتل نہ کرنا کیونکہ انکو اور تم کو ہم ہی رزق دیتے ہیں۔ کچھ شک نہیں کہ اسکا ما ر ڈالنا بڑا سخت گناہ ہے۔حضور ۖ ار شاد فر ماتے ہیں جو دو بچیوں کی صحیح طریقے سے تر بیت کرے گا قیامت کے دن میرے انتہائی قریب ہو گا۔اسلام میں مہر شرط ہے مگر جہیز شرط نہیں۔ مگر بد قسمتی سے ہم مہر کی جگہ جہیز پر زیادہ زور دیتے ہیں۔ آج کل ہم جو جہیز پر خرچ کر تے ہیں وہ قطعاً غیر اسلامی اور غیر شر عی ہے کیونکہ اسلام فضول خرچی اور اسراف کی کسی صور ت اجازت نہیں دیتا۔حضور ۖ نے فا طمتہ الزہرا کو جہیز میں جو سامان دیا تھا اُ س میں چمڑے کا گدا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے ، ایک درمیانی سائز کی چا در، بان کی ایک چارپائی، چمڑے کی ایک چھاگل، چمڑے کی ایک مشک اور مٹی کے دو گھڑے، ایک چکی ، چھوٹے دو بقرئی بازو بند۔حضور ۖ کا ارشاد ہے کہ بہترین شادی وہ ہے جو آسان ترین ہو۔اب ضرورت اس امر کی ہے کہ خیبر پختون خوا حکومت کو اس بل کے منظور ہو نے کے بعد اس پر سختی سے عمل کرنا چاہئے۔ کیونکہ قانون تو بنائے جاتے ہیں مگر اس پر عمل در آمد نہیں ہوتا ۔ میںجہیز اور ذاتی سود کے خلاف بل منظور کرنے پر خیبر پختون خوا اور خصوصاً جماعت اسلامی کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

متعلقہ خبریں