Daily Mashriq


ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام بھی آئے

ہونٹوں پہ کبھی ان کے میرا نام بھی آئے

بلوچستان سے دھر لئے جانے والے بھارتی بحریہ کے حاضر سروس کرنل کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کوایک سال ہوگیا ہے ۔گزشتہ برس مارچ میں ہی کلبھوشن یادیو کو گرفتار کرنے کے چند ہی روز بعد میڈیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا ۔بھارتی جاسوس نے میڈیا کو اپنی کارستانیوں کی پوری داستان سنادی تھی اور یوں دنیا کو معلوم ہوا تھا کہ خود کو معصوم اور مظلوم بنا کر پیش کرنے والا بھارت اس قدر معصوم بھی نہیں بلکہ وہ پاکستان کے خلاف ایک بھرپور درپردہ جنگ چھیڑے ہوئے ہے ۔ اس سے پہلے پاکستان کی طرف سے بھارت کی کارروائیوں کا اول تو ذکر ہی نہیں کیا جاتا تھا اور اگر رحمان ملک جیسے وزیر داخلہ کبھی کبھار یہ ذکر کرتے بھی تو یہ ''تیسراہاتھ'' کی ملفوف اصطلاح تک محدود رہتا ۔کلبھوشن یادیو پاکستان میں جاری دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کا سب سے مضبوط اور موثر ثبوت قرار پایا ۔

بھارت نے پہلے تو اس نام سے قطعی لاتعلقی کا اظہار کیا پھر دبے لفظوں میں یہ تسلیم کیا جانے لگا کہ اس نام کا ان کی بحریہ کا افسر چند برس سے غائب ہے تاہم اب وہ فوج کی نوکری چھوڑ چکا ہے۔جب کچھ اور وقت گزر گیا تو بھارت نے پاکستان سے قونصلر تک رسائی کی درخواست کی ۔کچھ عرصہ بعد بھارتی دفتر خارجہ کے ترجمان وکاس سوارپ نے کلبھوشن یادیو کا اعترافی بیان مسترد کیا اور کہا کہ بھارتی نیوی کا ایک افسر ایران میں تجارت کرتا تھا ممکن ہے اسے اغوا کیا گیا ہو۔ترجمان نے کہا تھا کہ کلبھوشن یادیو کی ویڈیو سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسے تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے ۔یوں بھارت نے کئی قسطوں میں کلبھوشن یادیو کو اپنا شہری ،اپنا افسر اور ایران میںمقیم تسلیم کیا ۔کہا جاتا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دووال نے کلبھوشن یادیو کو منظر پر نہ لانے کے لئے پاکستان پر دبائو اور منت سماجت سمیت ہر طریقہ استعمال کیا مگر پاکستان میں کچھ حلقوں نے اس پر کوئی سمجھوتہ کرنے سے گریز کیا اور عین اس وقت کلبھوشن یادیو کومیڈیا پر پیش کر دیا گیا جب ایران کے صدر حسن روحانی پاکستان کا دورہ کر رہے تھے ۔کلبھوشن یادیو ایرانی شہر چاہ بہار میں سونے کی تجارت کے بہانے ''را'' کا نیٹ ورک چلا رہا تھا اور بلوچستان کی حدود میں داخل ہو کر مسلح دہشت گردی کو منظم کرنا اس کا معمول تھا ۔کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کی پاکستان کے لئے وہی اہمیت تھی جو چند برس قبل لاہور میں گرفتار ہونے والے امریکی سی آئی اے کے اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی تھی۔اس وقت امریکہ اور پاکستان میں کشیدگی کا گراف انتہائوں کو چھو رہا تھا ۔ امریکہ پاکستانی سیکورٹی اداروں کی نظروں سے چھپ چھپ کر اپنا الگ نیٹ ورک تشکیل دے رہے تھے اور یہ نیٹ ورک ملک میں دہشت گردی کی کئی کارروائیوں میں ملوث تھا ۔اس وقت ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری سے پاکستان کو امریکہ کے اس متوازی نیٹ روک کو منظر عام پر لانے کا موقع مل گیا اور پہلی بار دنیا کو اندازہ ہوا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان معاملات کی خرابی میں تصویر کا صرف ایک وہی رخ نہیں جو امریکی دکھا رہے ہیں بلکہ تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے جو پاکستان کے موقف اور داستان غم کو اجاگر کر رہا ہے۔

ریمنڈ ڈیو س کی گرفتاری کے بعد پاکستان کے اداروں کو ملک سے جاسوسی کا یہ متوازی نظام لپیٹنے میں آسانی ہو گئی اور امریکی کھیل بری طرح بے نقاب ہوگیا۔کچھ یہی کام بھارت کے حوالے سے کلبھوشن یادیو کی گرفتاری نے دیا ۔اس عرصے میں پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی کامیابیاں حاصل کیں۔کلبھوشن یادیو کا نام پاکستان کی سیاست میں کبھی کبھار ارتعاش پیدا کرتا رہا۔حکومت نے کلبھوشن یادیو کے نام پر کچھ اس انداز سے لب سی رکھے کہ حزب اختلاف کے راہنمائوں نے کلبھوشن یادیو کوحکومت کی چھیڑبنائے رکھا ۔ایک بار پیپلز پارٹی کے راہنما سینیٹر اعتزاز احسن نے چیلنج کے انداز میں اعلان کیا کہ وزیر اعظم نوازشریف ایک بارکلبھوشن یادیو کا نام لے کر دکھا دیں ۔اعتزاز احسن کے اس چیلنج کے پیچھے کیا اعتماد جھلکتا تھا یہ معمہ ہی ہے ۔تاہم علامہ طاہرالقادری اس حوالے سے انکشافات کی کہانی کے ساتھ میڈیا میں نمودار ہوتے رہے۔کلبھوشن یادیو کی گرفتاری کے ایک سال بعد ایک بار پھر سینیٹ میں یہ نام اس وقت گونجا جب سینیٹر طلحہ محمود نے سوال پوچھا کہ اس بات کا کوئی امکان ہے کہ حکومت کسی وقت ریمنڈ ڈیوس کی طرح کلبھوشن یادیو کو ریڈ کارپٹ پر واپس بھیج دے گی ۔اس پر اعتزاز احسن نے ایک بار پھر سینیٹ میں گرہ لگائی کہ وزیر اعظم میاں محمد نوازشریف کلبھوشن یادیو کا نام کب لیں گے تو سینیٹر طلحہ محمود کے سوال اور اعتزاز احسن کی گرہ کے جواب میں مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے ایوان میں بیان دیا کہ کلبھوشن یادیو کوبھارت کے حوالے کرنے کا امکان نہیں۔ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے اور مقدمہ چلانے کے عمل کا آغاز ہو چکاہے ۔سرتاج عزیز کا کہنا تھا کہ بھارت کے ریاستی عناصر پاکستان میں دہشت گردی کروا رہے ہیں اوراس سے دنیا کو بھی آگاہ کیا جا رہا ہے۔سرتاج عزیز نے اعتزاز احسن کے چیلنج کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں کہ وزیر اعظم کلبھوشن یادیو کا نام نہ لیں ۔جب مناسب ہوگا وہ کلبھوشن یادیو کانام بھی لیں گے۔ایک سال گزر گیا پاکستان کے سیاست دان ،میڈیا اور سفارتی حلقے کلبھوشن کلبھوشن پکار رہے ہیں مگر مناسب موقع کے انتظار میںخود کلبھوشن یادیو اعلیٰ ترین حکومتی شخصیت کی طرف سے نظر انداز کئے جانے پر اس مشہور زمانہ نغمے کے بول کی تصویر بنے ہیں۔

ہونٹوں پر کبھی ان کے میرا نام بھی آئے

آئے تو سہی برسر الزام ہی آئے

متعلقہ خبریں