Daily Mashriq


پشتو شاعری کی ایک توانا آواز

پشتو شاعری کی ایک توانا آواز

اُرد و لُغت کے مطابق غزل کے معنی عورتوں سے باتیں کرنا ہے۔ اس حوالے سے جب ہم غور سے جائزہ لیں تو ہر مرد شاعر ہوتا ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ شاعری کے مروجہ اصول و ضوابط پر ہر کوئی پورانہیں اترتا کیونکہ عروض ، وزن ، بحر سے ہر شخص آشنا نہیں ہوتا مگر ہر مرد کی خواہش عورتوں سے باتیں کرنا ہی ہوتی ہے ، تاہم جو لوگ اپنے جذبات و احساسات کے اظہار کا فن جانتے ہیں یا قدرت کی جانب سے یہ خصوصیت انہیںودیعت ہوتی ہے صرف وہی الفاظ کو اپنے کمال فن سے اظہار کی زبان عطا کر کے ان میں غنائیت بھر دیتے ہیں ، اسی لیے تو اظہار پر قدرت نہ رکھنے والے کہنے پر مجبور کر کے ان میں غنائیت سے بھر دیتے ہیں۔ اسی لیے تو اظہار پر قدرت نہ رکھنے والے کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ 

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

اور جب بات عورتوں کی شاعری کی کرنی پڑے تو وہ سراپا شاعری ہوتی ہیں ، اس لیے ان کی شاعری تو غنائیت سے بھرپور ، سوزوساز سے ہم آہنگ اور عشق و مستی کارچائو لیے ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں اردو زبان کی شاعرات کے کلام کا اگر جائزہ لیا جائے تو بیشتر کلام ہجرو وصال کی داستان نظر آتی ہے ، البتہ آج کے دور کی شاعرات اپنے ماحول سے بھی تاثر پذیر ی میںمرد شاعروں کے مقابلے میں پیچھے نہیں ہیں اور وہ معروضی حالات کا تذکرہ بھی کرنے میںنہیں ہچکچاتیں ۔ اردو کے ساتھ ساتھ جب ہم پشتو شاعرات کے کلام کو دیکھتے ہیں تو اگر چہ ان کے کلام میں ہجرو وصال غم و خوشی اور خاص طور پر جدائی کا کرب واضح نشانی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے لیکن آج کی شاعرات کہیں کہیں ان روایتی جذبو ں سے باہر آنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اپنے ارد گرد کے ماحول سے متاثرہو کر انسانی المیوں کو اپنے بیانیہ کا حصہ بنانے میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں

بیا مے زڑہ پہ رپید و شو خدایہ خیر کڑے

بیا باران پہ ورید و شو خدا یہ خیر کڑے

او س دسر سوری مے ہم پہ وروکید و شو

ہر دیوال پہ نڑید و شو خدایہ خیر کڑے

محترمہ ثمینہ قادر پشتو زبان کی ایک ایسی قلمکار ہیں جن کے خیالات روایتی شاعری کی مضبوط جڑوں میں پیوست ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی المیوں میں بھی اپنے لئے راہیں تلاش کر رہے ہیں۔ ایک خاتون ہونے کے ناتے ان کی شاعری کا بیشتر حصہ شاعری کی روایات کا امین ہے اور ہجر و وصال کے جذبوں سے ہم آہنگ ۔

اوخکے دستر گو مے بھیگی چہ دا سہ وجہ دہ

نن مے پہ زڑہ سوک راوریگی چہ دا سہ وجہ دہ

جونے راتولہ پہ گودر دی خندا گانے کوی

ماتہ دغم سر و د غگیگی چہ دا سہ وجہ دہ

عشق و محبت کی دنیا کے تین کردار ہر موقع پر عاشق معشوق او ررقیب کی صورت نمایا ں ہو کر آتے ہیں اور شاعری کا وجود انہی تینوں کے گرد گھومتا رہتا ہے ۔

عشقہ دسپر لو دکورہ داسے دے ویستلے یم

زہ دے پانڑہ پانڑہ دخزان ھسی نوستلے یم

تا دستمو نو نہ پہ ما باندے چہ کڑے دے

زہ دے درقیب وڑاندی پہ سہ باندے رٹلے یم

ایک پختون ہونے کے ناتے محترمہ ثمینہ قادر اپنے عشق کو پختون ولی کے جذبوں سے سر شار دیکھنے کی متمنی ہیں

خپو کے مے زنزیر (زنجیر ) دپختو ، سر کے مے نشہ د عشق

ما پختو پاللی ز کہ عشق تہ رسید لے یم

آج کی غزل گل و بلیل کی قصیدہ خوانی سے جان چھڑا کر جن نئی راہوں پر گامزن ہے ، اس کی جھلک ثمینہ قادر کی شاعری میں بھی دکھائی دیتی ہے۔ زیر نظر غزل میں آج کے ہمارے حالات کی جھلک واضح طور پر دکھائی دیتی ہے

د خزانو قارون موڑ شوے نہ دے

درتہ ئے بے وسہ مظلومان جاڑی

یوخوگرانی دہ اوروزگار نشتہ

بل خوا دلوگے ماشومان جاڑی

دکر بلا وینے لا او چے نہ دی

دہ فرات تند ہ پہ خپل زان جاڑی

دانقلاب چغی لغرے پہ جہان

دمحلونو شہزادگان جاڑی

بارود وریگی د پختون پہ سیمہ

جونے سر تورے اور زوانان جاڑی

عشق ومحبت کی راہوں کے مسافروں کے درمیان شکوے شکایتیں کوئی نئی بات نہیں ، عاشق ہمیشہ اپنی بے بضا عتی کا اظہار کرتے ہوئے نوحہ بہ لب رہتا ہے ، ایسی ہی کیفیت کا ایک شعر ملا خطہ کیجئے ،

زارہ کہ زما شنہ پہ ژڑا گانوشی نو سہ پرے

دا دُرکہ ستا د سترگو وی گوہر بلبلے کیگی

اسی موضوع پر راقم نے اپنے قیام کوئٹہ کے دوران 1981ء میں ایک شعر کہاتھا ،

ڈھلکا جو تیری آنکھ سے موتی بنا وہ اشک

قطرے مرے لہو کے سمندر کے ہوگئے

آج کے معروضی حالات سے بھی محترمہ ثمینہ قادر متاثرہوئے بغیر نہیں رہ سکیں اورکہتی ہیں

یمہ خپل کور کے زہ بے درہ ولے

دخپلہ زانہ نا خبرہ ولے

چہ یے مخ نہ رنڑاگانے ختے

داما شو مان دی اوس اوترہ ولے

محترمہ ثمینہ قادر کے کلام کاتجزیہ کرتے ہوئے بلا تردید یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ وہ موجودہ دور میں پشتو شاعری کی ایک تواناآواز بن کر ابھر ی ہیں اور ان کے سامنے یقینا ایک درخشاں مستقبل دامن پھیلا ئے کھڑا ہے ۔

متعلقہ خبریں