Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

فضل بن ربیع کہتے ہیں کہ میرے پاس عبداللہ بن مصعب بن ثابت آیا اور کہنے لگا کہ موسیٰ بن عبداللہ بن حسن خلیفہ ہارون الرشید کے خلاف بغاوت کر کے مجھ سے اپنے ہاتھ پر بیعت لینا چاہتا ہے ۔ میں نے یہ بات خلیفہ ہارون الرشید کو بتا دی ، جس نے دونوں کو اپنے پاس بلالیا اور موسیٰ بن عبد اللہ بن حسن سے پوچھا کہ کیا تم میرے خلاف بیعت لے کر بغاوت کرنا چاہتے ہو ؟ تو وہ بولا امیر المومنین ! یہ شخص جھوٹا ہے ، یہ خود آپ کے داد ا خلیفہ منصور کے خلاف لڑ چکا ہے ، اب یہ نمبر بنانے کے چکروں میں مجھ پر بہتان لگا رہا ہے ۔ اگریہ سچا ہے تو جس طرح میں کہتا ہوں ، اس طرح قسم اٹھا لے تو میرا خون خلیفہ کے لئے حلال ہے ۔ اس پر خلیفہ رشید نے عبداللہ بن مصعب کو کہا تم موسیٰ بن عبداللہ کے الفاظ کے ساتھ حلف اٹھا ئو تو وہ جھجکنے لگا تو فضل بن ربیع کہنے لگا کہ تم ہی نے خود کہا تھا کہ موسیٰ بن عقبہ تم سے اپنے لئے بیعت لینا چاہتا ہے ۔ اس پر وہ حلف اٹھانے کے لئے تیار ہوگیا ۔ موسیٰ بن عبداللہ نے کہا کہ : ''تم ان الفاظ کے ساتھ حلف اٹھائو کہ میں نے موسیٰ بن عبداللہ پر جو الزام لگایا ہے وہ اگر غلط ہے تو میں خدا تعالیٰ کی حفاظت اورپناہ سے نکل کر اپنی پناہ میں آجائو ں اور خدا کی پناہ و حفاظت مجھ سے ختم ہو جائے ۔'' جب عبداللہ بن مصعب نے ان الفاظ کے ساتھ قسم اٹھالی تو موسیٰ بن عبداللہ کہنے لگا کہ ''اے امیر المومنین آپ مجھے اب گرفتار کرلیں ، اگر تین دن کے اندر اس پر خدا کی پکڑ اور عذاب نہ آیا تو میرا خون آپ پر حلال ہے ،کیونکہ مجھے میرے باپ نے بتایا ہے کہ انہوں نے اپنے دادا سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے باپ سے انہوں نے اپنے باپ حضرت علیٰ سے سنا ہے کہ : ''جو بھی آدمی ان الفاظ کے ساتھ جھوٹی قسم کھائے گا وہ تین دن کے اندر خدا کی پکڑ کا شکار ہو جائے گا ۔ '' فضل بن ربیع کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ! اس دن عصر کی نماز پڑھ کر جب میں باہر نکلا تو عبداللہ بن مصعب کے گھر سے شور کی آوازیں آنے لگیں ۔ میںنے تحقیق کروائی تو پتہ چلا کہ عبداللہ بن مصعب پر جذام کا حملہ ہو گیا ہے اور اس کا پورا جسم سیاہ ہو کر پھول گیا ہے ، جیسے کوئلہ ہو جاتا ہے ۔ میں فوراً خلیفہ ہارون الرشید کے پاس گیا اور اسے ساری بات بتا دی ، ابھی میں وہیں بیٹھا تھا کہ عبداللہ بن مصعب کی موت کی خبر آگئی ۔ میں نے خلیفہ کو سارا واقعہ بتا یا تو وہ بہت حیران ہو ا اور مجھے حکم دیا کہ موسیٰ بن عبداللہ کو رہا کر کے اسے ایک ہزار اشرافیاں دی جائیں اور پھرخلیفہ موسیٰ بن عبدللہ کو بلا کرپوچھا کہ تم نے عام مشہور حلف کے بجائے یہ نیا حلف کیوں دلوایا ؟ تو موسیٰ بن عبداللہ کہنے لگا کہ : ''جو شخص بھی رب تعالیٰ کی شان اور تعریف بیان کرتا ہے ، رب تعالیٰ اس کو جلد نہیں پکڑ تے ، مگر جو شخص خود کو خدا کی پناہ سے نکال کرجھوٹی قسم کھائے تو حق تعالیٰ اسے فوراً پکڑ لیتے ہیں ۔ ''

(عجائب القصص ، 90,87)

متعلقہ خبریں