Daily Mashriq


قومی اداروں میں ہم آہنگی کی ضرورت

قومی اداروں میں ہم آہنگی کی ضرورت

گزشتہ کچھ عرصے سے ملکی سطح پر بعض قومی اداروں کے مابین ہم آہنگی کا فقدان جس طرح خلیج کی صورت اختیار کر رہا ہے اس سے مستقبل پر سوال اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ملک میں اداروں کے مابین تصادم کی کیفیت پیدا ہوتی جارہی ہے۔ اس صورتحال سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ اداروں کے درمیان ملکی اور قومی وسیع تر مفاد میں ڈائیلاگ کا اہتمام کیاجائے تاکہ سیاسی اور قانونی سطح پر جس عدم اعتماد کے سائے لہرا رہے ہیں ان کو وسیع تر قومی مفاد میں باہم افہام و تفہیم کے ذریعے ختم کرنے کی راہ ڈھونڈی جا سکے اور ہر ادارہ اپنے آئینی اور قانونی دائرے میں رہتے ہوئے اپنے اپنے فرائض بہ حسن و خوبی ادا کرکے ملک و قوم کو درپیش چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے میں کامیاب ہوسکے۔ جن حالات کی طرف ہم نے اوپر کی سطور میں اشارہ کیا ہے ان کی کچھ جھلک گزشتہ روز چیئر مین سینٹ کی ایک تقریر میں دکھائی دی۔ چیئر مین سینٹ رضا ربانی نے کہا کہ ایک طرف جمہوریت رواں دواں ہے تو دوسری طرف غیر جمہوری سوچ اور روئیے مکمل طور پر ختم نہ ہوسکے بلکہ کئی بار ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے متبادل نظام لانے کی کوشش ہو رہی ہو۔ پارلیمنٹ کی بالادستی‘ اٹھارہویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے مگر پارلیمان کو محفوظ اور مضبوط رہنا ہے اوراس کا واحد راستہ جمہوری اور ترقی پسند پاکستان سے ہے جہاں ادارے محفوظ ہوں‘ قانون کی حکمرانی ہو‘ لاپتہ افراد نہ ہوں اور جہاں غریب اور پسے ہوئے طبقے کے حقوق محفوظ ہوں۔ گزشتہ روز صحافتی برادری کے اعزاز میں پارلیمنٹ ہائوس میں الوداعی ظہرانے سے خطاب میں چیئر مین سینٹ نے کہا کہ پارلیمان اور عدلیہ ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ دونوں کا مقصد آئین کا تحفظ اور دفاع کرنا ہے۔ سپریم کورٹ ماضی میں طے کرچکی ہے کہ پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کرے گی عدم مداخلت کے فیصلے کو تمام عدلیہ کو ملحوظ خاطر رکھنا چاہئے۔ یہ بد قسمتی ہے کہ کسی اسمبلی کے سپیکر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا جائے۔ محسوس ہوتا ہے کہ آئین کو پامال کرنے کی کوشش ہو رہی ہے۔ اسی طرح اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے مانگی گئی معلومات پارلیمان کی اندرونی کارروائی میں مداخلت نہ کرنے کے تصور کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اداروں کے درمیان ان معاملات کے حل کے لئے چیف جسٹس سے ملتے لیکن وقت کی کمی اس چیز کی اجازت نہیں دیتی۔ تاہم چیئر مین سینٹ کا عہدہ برقرار رہے گا اورچیئر مین سینٹ اداروں کے احترام اور ان کے دائرہ کار کے مطابق اس مسئلے کو باہمی افہام و تفہیم سے حل کرنا چاہیں گے جو 1973 ء کے آئین کے تحت انہیں تفویض کئے گئے ہیں۔ انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ان کے بعد آنے والے چیئر مین اس مشعل کو اٹھائے رکھیں گے اور ضروری ہوا تو چیف جسٹس سے ملاقات بھی کریں گے۔ چیئر مین سینٹ نے جس صورتحال کی جانب اشارہ کیا ہے اس حوالے سے بعض مقدمات کے ضمن میں عدالت عظمیٰ کے بعض فاضل جسٹس صاحبان کے ریمارکس ہیں جن میں یہاں تک تاثر قائم ہوا کہ آئین میں ترمیم کو بھی عدالتیں مسترد کرنے کے احکامات جاری کرسکتی ہیں جبکہ پارلیمنٹ کے اختیارات پر اس قسم کے ریمارکس کو پارلیمانی حلقوں میں پسندیدگی کی سند عطا نہیں کی گئی۔ اس صورتحال کی ایک جھلک گزشتہ ہی روز سینٹ اجلاس میں چند روز بعد ریٹائر ہونے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی اس تقریر میں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے جب انہوں نے الوداعی خطاب میں سیاست کو عدلیہ زدہ کرنے اور عدلیہ کو سیاست زدہ کرنے‘ ریاست کے اندر ریاست بنانے اور پارلیمنٹ کی بے بسی پر متنبہ کیا۔ انہوں نے کہا یہ سچائی اور دانائی کے آخری الفاظ نہیں بلکہ یہ الفاظ ان کے دل کی گہرائیوں سے نکل رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس وقت سخت افسوس ہوا جب چیف جسٹس نے قسم کھائی کہ ان کا کوئی پولیٹیکل ایجنڈا نہیں اور جب جج حضرات آئین اور قانون کا حوالہ دینے کے بجائے شاعری کا حوالہ دینے لگیں‘ ڈر ہے کہ جب 2018ء کے الیکشن معاشی مسائل کے حل کے بجائے عدلیہ کے خلاف ریفرنڈم نہ ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کے گائوں کے بزرگ یہ کہتے ہیں کہ آئین سپریم ہے تو اسے تسلیم کرتے ہیں لیکن جب وہ یہ کہتے ہیں کہ آئین وہ ہے کہ جو وہ کہتے ہیں نہ کہ وہ جو لکھا ہوا ہے تو انہیں سخت افسوس ہوتا ہے۔ جب عدلیہ کا وقار دلائل کے بجائے توہین عدالت سے قائم کیا جائے تو یہ سوچنے کا مقام ہے۔ اگر انتخابات کا سال عدلیہ پر ریفرنڈم بن جائے گا تو یہ تباہی ہوگی۔ انہوں نے پارلیمنٹ کی جانب سے ایسا قانون لانے کی ناکامی پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ جس میں سب کا احتساب بشمول جج اور جنرل ہوسکے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اس بات کی بھی تکلیف ہے کہ سیاسی پارٹیاں بشمول ان کی اپنی پارٹی نے سب کے لئے احتساب کا مطالبہ تو کیا لیکن اچانک اس سے پیچھے ہٹ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستان کو متاثر ہونے سے بچانا ہے تو ہمیں ریاست کے اندر ریاست کا تضاد ہر صورت میں حل کرنا پڑے گا۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر کے خیالات سے اگرچہ خود ان کی اپنی جماعت کے ایک ترجمان نے یہ کہہ کر گلو خلاصی کرلی ہے کہ ان کے خیالات ذاتی حیثیت سے ہیں اور پارٹی کا ان خیالات سے کوئی تعلق نہیں۔ تاہم یہ کہہ کر فرحت اللہ بابر کے خیالات کی اہمیت کو کم نہیں کیاجاسکتا بلکہ انہوں نے موجودہ زمینی حقائق کو جس طرح اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے اس سے ان کالموں کی ابتدائی سطور میں ہم نے جس صورتحال کی جانب توجہ دلانے کی کوشش کی ہے اس کو تقویت ملتی ہے اور ضرورت اس بات کی ہے کہ مقننہ اور عدلیہ کے مابین حالیہ دنوں میں جس کشمکش کا آغاز دکھائی دیا ہے اور جو اگر اسی طرح جاری رہی تو خدا نخواستہ ہم قومی سطح پر کسی بھی وقت ایک فکری تصادم میں الجھ سکتے ہیں۔ اس حوالے سے بعض سینئر تجزیہ کار بھی وقتاً فوقتاً توجہ دلا کر اس سے بچنے کے مشورے بھی دیتے رہتے ہیں۔ اس لئے ضروری ہے کہ نہ صرف مقننہ اور عدلیہ کے دائرہ کار بلکہ دیگر اداروں کی حدود کار کا تعین کرنے کے لئے قومی سطح پر ایک وسیع تر ڈائیلاگ کا اہتمام کرکے کسی حتمی نتیجے پر پہنچنے کی کوشش کی جائے۔ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ ہم چاروں جانب سے ایسے دشمنوں میں گھرے ہوئے ہیں جو ہمارے وجود کو (خدانخواستہ) مٹانے پر تلے ہوئے ہیں۔ ہمارے ہمسایوں میں ما سوائے چین کے کسی کے ساتھ بھی ہمارے خوشگوار تعلقات نہیں ہیں جبکہ ہمارے ازلی دشمن بھارت کی پشت پناہی میں امریکہ ماضی کے ہمارے دوستانہ تعلقات کو بھول کر پیش پیش ہے اور خود بھی افغانستان میں اس کی افواج موجود ہیں جو ہماری سلامتی کے لئے سوالیہ نشان بن رہی ہیں۔ کابل انتظامیہ کی زبان بھی ناقابل برداشت ہوتی جا رہی ہے۔ یہاں تک کہ اب ایران جیسے ہمسائے سے بھی ہمارے تعلقات میں ماضی کی سی گرمجوشی کا فقدان ہے۔ ان حالات میں اگر ہم اندرونی طور پر بھی کسی تصادم کی کیفیت سے دو چار رہے اور ہم نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو خدانخواستہ ہماری آزادی اور خود مختاری کے لئے چیلنجز میں روز افزوں اضافہ ہونے کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جاسکے گا۔ اس لئے اس سے پہلے کہ آنے والے انتخابات بقول فرحت اللہ بابر ہمارے لئے سوہان روح بن جائیں اداروں کے مابین ڈائیلاگ کا اہتمام کرکے باہمی اختلافات کے خاتمے کی صورت نکالنے پر توجہ دی جائے۔

متعلقہ خبریں