نئی حلقہ بندیوں پر اٹھتے سوال

نئی حلقہ بندیوں پر اٹھتے سوال

الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے لئے کی جانے والی حلقہ بندیوں پر تجاویز طلب کرنے کے بعد اگرچہ ابھی کئی سیاسی جماعتوں کی جانب سے تجاویز اور اعتراضات آنے ہیں تاہم پہلے کنکر کے طور پر قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب احمد خان شیر پائو نے ان حلقہ بندیوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس عمل سے امیدواروں کے لئے مشکلات اور پیچیدگیاں پیداہوں گی۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ نئی حلقہ بندیاں جمہوری اصولوں اور زمینی حقائق کے تقاضوں کے سراسر منافی ہیں جو کسی صورت قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کے متعلق جو ڈرافٹ تیار کیاگیا ہے یہ سیاسی جماعتوں سے مشاورت کے بغیر عمل میں لایاگیا ہے جو جمہوری عمل اور قوانین کے مطابق نہیں۔ اس طرز عمل سے واضح ہوتا ہے کہ یہ حلقہ بندیاں بعض لوگوں کو خوش کرنے کے لئے کی گئی ہیں جس سے جانبداری اور بد نیتی کی بو آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان حلقہ بندیوں سے بہت سی پیچیدگیاں اور مشکلات پیدا ہوں گی جس سے نہ صرف امیدوار بلکہ سیاسی جماعتیں اور ووٹر کو بھی شدید مشکلات کا سامنا ہوگا۔ انہوں نے ان حلقہ بندیوں کے حکمنامے کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے نئی حلقہ بندیاں تشکیل دینے پر زور دیا۔ بد قسمتی سے ملک میں انتخابی حلقہ بندیوں کے حوالے سے ہمیشہ ایسے ہی خیالات کا اظہار کیاجاتا رہا ہے اور اس قسم کے الزامات سامنے آتے رہیں کہ بر سر اقتدار جماعتوں کی خوشنودی کو اس سلسلے میں ہمیشہ پیش نظر رکھا جاتا ہے۔ خصوصاً ملک میں جب بھی آمرانہ حکومتیں آئیں تو انہوں نے سیاسی مخالفین کے حلقوں میں ایسی تبدیلیاں کیں جن سے انہیں سیاسی طور پر نقصان سے دو چار کیا جاسکے۔ تاہم ان نئی حلقہ بندیوں میں پشاور کے اصولی حلقے کا نمبر تبدیل کرکے جو کھلواڑ کیاگیا ہے اور این اے ون کو پشاور سے اٹھا کر چترال پہنچا دیاگیا ہے اس سے مضحکہ خیز صورتحال اور کیا ہوسکتی ہے۔ حالانکہ تاریخ گواہ ہے کہ پشاور کے لئے این اے ون کا حلقہ اس لئے مخصوص رکھا جاتا رہا ہے کہ صوبائی دارالحکومت ہونے کے ناتے یہ نمبر اسی جگہ سے شروع ہونا چاہئے۔ اہل پشاور کے لئے بھی یہ صورتحال کسی طور قابل قبول نہیں اس لئے حلقوں کے نمبر دیتے وقت پرانی تر تیب کو برقرار رکھا جائے اور اہل پشاور کو اس حق سے محروم نہ کیا جائے جبکہ دیگر حلقہ بندیوں کے لئے تمام سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرکے حتمی شکل دی جائے تاکہ کسی کو بھی شکایت کا موقع نہ ملے۔

اداریہ