Daily Mashriq


سیاست کی جیت اور جمہوریت؟

سیاست کی جیت اور جمہوریت؟

سینیٹ کے انتخابات بغیر کسی تاخیر یاالتواء کے ہو گئے۔ انتظار بہت شدید تھا۔ شکوک و شبہات اس انتظارکو شدید بنا رہے تھے۔ سینیٹ کے انتخابات بروقت منعقد ہو گئے تو پوری قوم نے اطمینان کا سانس لیا۔ اسے جمہوریت کی فتح قرار دیا گیا ۔ لیکن ایک ہی دن کے بعد جب نتائج سامنے آنے لگے تو دونوں بڑی پارٹیوں مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف نے نہایت بے اطمینانی کا اظہار کیا۔ مسلم لیگ ن کے نواز شریف نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن میں پیسہ چلنے کا حساب کتاب ہونا چاہیے۔ جس پارٹی کا ایک بھی ووٹ نہ ہو اسے امیدوار کھڑا کرنے کا حق نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نظام تبدیل کرکے پیسے کا کھیل دفن کیاجائے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے سینیٹ کے انتخابات میں پیسے کی ریل پیل کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ قوم سیاستدانوں پر لعنت بھیج رہی ہے ۔ انہوں نے یہ اعتراف کیا کہ ان کی پارٹی کے کچھ ارکان نے بھی ووٹ بیچے ۔ سینیٹ کے انتخابات میں تحریک انصاف کے جن لوگوں نے سودے بازی کی ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اس کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ انہوں نے بھی کہا ہے کہ سینیٹ کے انتخابات کے طریق کار میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ مہاجر قومی موومنٹ پاکستان کے فاروق ستار نے کہا ہے کہ وہ انتخابات کے نتائج کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ پیپلز پارٹی کی طرف سے البتہ سینیٹ کے انتخاب پر کوئی شدید اعتراض سامنے نہیں آیا۔ پیپلز پارٹی کو سینیٹ کے انتخاب میں غیر متوقع کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ سوائے ایم کیو ایم کے باقی سب اس ناقص نظام کو چیلنج نہیں کر رہے۔ ایم کیو ایم کے سو اسبھی سینیٹ کے انتخاب کے جاری کردہ نتائج کو تسلیم کرنے پر تیار ہیں۔ یہ کہنا کہ خرابی ہوئی ہے اور پھر اس خرابی کو قبول بھی کرنا کہاں تک دیانت کے اصول کے مطابق ہے؟ ایک طرف کہا جا رہا ہے کہ ساری قوم سیاستدانوں پر لعنت بھیج رہی ہے اور دوسری طرف اسی دولت گزیدہ انتخاب کے نتائج کو قوم پرمسلط کرنے سے بھی انکار نہیں کیا جا رہا ۔ محض یہ کہہ کر بات ٹالی جا رہی ہے کہ آئندہ اس نظام کو تبدیل کر دیا جائے گا۔ جو نظام مستقبل میں جمہوریت کے لیے موزوں نہیں ہو گا وہ نظام اور اس کے تحت وجود میں آنے والا ادارہ کس بنیاد پر آج قابلِ قبول ہے؟ میاں نواز شریف کہہ رہے ہیں کہ سینیٹ کے انتخاب میں پیسہ چلنے کا حساب کتاب ہونا چاہیے۔ وہ ذاتی زندگی میں کامیاب بزنس مین ہیں۔ شاید انہیں کوئی طریقہ معلوم ہو جس میں سینیٹ کے انتخاب میں پیسہ چلنے کا حساب کتاب ہو سکے۔ حساب کتاب سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہ معلوم کیاجا سکے کہ کس نے کتنا پیسہ کس کو دیا؟ یہ کون بتائے گا؟ اگر یہ معلوم ہو جائے تو اگلا قدم کیا ہو گا اس بارے میں انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ یعنی موجودہ نتائج کو ہی قبول کر لیا جائے گا اور آئندہ انتخاب کے لیے اس نظام میں تبدیلی لائی جائے گی؟ انہوں نے یہ نہیں کہا کہ پیسہ چلنے کی بات ’’حساب کتاب‘‘ سے ثابت ہو گئی تو موجودہ نتائج کو قبول نہیں کیا جائے گا، نئے سرے سے انتخابات کروائے جائیں گے اور ایسے نظام کے تحت کروائے جائیں گے جس میں پیسہ چلنے کا امکان نہ ہو۔ اس پہلو پر غور کرنے کی بجائے انہوں نے پارٹی کے اہم لیڈروں سے سینیٹ کے لیے چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے انتخاب کے بارے میں مشاورت کی ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پیسہ چلنے کا حساب کتاب ہو خواہ نہ ہو ، انہیں سینیٹ کے یہی دولت گزیدہ نتائج قبول ہیں اوراسی دولت مرتکب میں اپنا چیئرمین منتخب کروانے کی کوشش کریں گے۔ تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے جن لوگوں نے سینیٹ کے انتخاب میں سودے بازی کی ہے ، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ اور ایسے لوگوں کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقاتی کمیٹی بنادی گئی ہے ۔ بھلا اس تحقیقاتی کمیٹی کو کون بتائے گا کہ اس نے کس کے ووٹ کے بدلے ’’چار کروڑ‘‘ لیے۔ اس کمیٹی کے پاس کوئی ایسا قابل اعتماد طریقہ تو نہیں ہو گاجس کے ذریعے وہ ان لوگوں کی حتمی نشاندہی کر سکے جنہوں نے سودے بازی کی۔ عمران خان نے یہ تو کہا ہے کہ تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر وہ اپنے ’’بکاؤ‘‘ ارکان اسمبلی کے خلاف سخت کارروائی کریں گے لیکن ان کے بارے میں کچھ نہیں کہا جن پر ارکان اسمبلی کے ووٹ خریدنے کا الزام ہے۔ سینیٹ کے انتخاب میں ’’پیسہ چلنے‘‘ اور ’’ضمیر بیچنے‘‘ کا معاملہ عوام کے نمائندوں اور عوام کے بالاتر نمائندوں کے درمیان ہے جو بادی النظر میں صادق اور امین ہیں اور مجموعی طور پر پارلیمنٹ کہلاتے ہیں۔ یہ عام انتخابات نہیں ہیں جن میں کہا جاتا ہے کہ برادریوں ‘ رشتہ داریوں ‘ دوست داری اور دف داری کی بنیاد پر ووٹ لیے جاتے ہیں۔ جن میں کہا جاتا ہے کہ عامۃ الناس ووٹ ڈالتے ہیں جو سیاست کے رموز سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ یہ بھی طعنہ دیا جاتا ہے کہ عام لوگ ووٹ کی اہمیت کو پس پشت ڈال کرووٹ دیتے ہیں۔ اور عام انتخابات میں ووٹ دینے والوں کی تواضع کے لیے بریانی ‘ پلاؤ اور قیمے والے نان کی ضیافت کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ عوام کے منتخب نمائندے ہیں جنہوں نے ووٹ بیچے اور عوام کے بالاتر نمائندے ہیں جنہوں نے ووٹ خریدے۔ یہ سب مل کر پارلیمنٹ کہلاتے ہیں اور پارلیمنٹ کو ’’بالادست‘‘ اور ’’سپریم‘‘ کہا جاتا ہے۔ پارلیمنٹ ملک و قوم کے مستقبل کی تعمیر کرتی ہے۔ حال کو خوشحال بناتی ہے ۔ ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کا ارادہ رکھنے والے اور ملک کوترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا دعویٰ رکھنے والے سبھی اس دولت گزیدہ ادارے کی تشکیل کے نظام میں خرابی کی نشاندہی پر بھی متفق ہیں ، اس نظام کے تحت ووٹ کی سودے بازی کی بھی نشاندہی کرتے ہیں اور اسی ادارے کو ملک کے سیاہ و سفید کا مالک بنانے پر بھی متفق ہیں۔

متعلقہ خبریں