ٹی وی

ٹی وی

تین برس سے زیادہ عرصہ ہوا کہ ٹیلی وژن دیکھنا چھوڑ رکھا ہے۔ کبھی کوئی بہت ضروری خبر ہو تو چند منٹ تاک لیا یا پھر کوئی کانٹے کا میچ ہوتو چند منٹوں تک مزا لے لیا۔ ٹی وی کے ’’شر‘‘ سے عام طور پر محفوظ ہی رہتا ہوں۔ گزشتہ روز محترمہ کے مہمان آگئے اور وہ میرے کمرے میں بیٹھ گئے، مجھے مجبوراً لاؤنج میں بیٹھنا پڑا جہاںٹی وی پہلے سے ہی آن تھا۔ میں نے عادتاً ٹی وی ریموٹ ہاتھ میں لے لیا۔ یقین کیجئے مجھے چند ایک بہت زیادہ مشہور ٹی وی چینلوں کے علاوہ دیگر چینلوںکے نام تک بھی نہیں آتے۔ میں چینل پہ چینل تبدیل کرتا رہا لیکن کسی ایک چینل نے مجھے رکنے پر مجبور نہ کیا۔ آخرکار ایک چینل میںکچھ دلچسپی دکھائی دی تو وہیں رک گیا۔ یہ نیشنل جیوگرافک چینل تھا۔ یہاں رکنے کی شاید وجہ یہ تھی کہ اس چینل سے سچ نشر ہو رہا تھا۔ اگرچہ اس چینل میں جانوروں سے متعلق معلومات دکھائی اور بتائی جا رہی تھیں، جن باتوں پر میں بغیر کسی شک وشبے کے یقین کر سکتا تھا کیونکہ وہ ساری باتیں علم کی بنیاد پر کی جا رہی تھیں۔ اس کے برعکس باقی تمام چینل جو باتیں نشر کر رہے تھے ان میں تعصبات کو بنیاد بنا کر پیش کیا جا رہا تھا۔ ہمارے یہاں بالخصوص نیوز چینلز تعصبات کی بنیاد پر چلائے جاتے ہیں۔ ناظرین کی مرضی کہ وہ جس تعصب سے متاثر ہیں اسی کو سچ تسلیم کر لیں۔ہمیں ہمارے ٹی وی چینل بھی دھڑوں میں تقسیم دکھائی دیتے ہیں۔ شاید دنیا میں کہیں اور بھی ایسا ہوتا ہو لیکن ہمارے یہاں کچھ زیادہ ہی ہوتا ہے۔ آپ کو صاف دکھائی دے گا کہ کون سا چینل کس سیاسی وابستگی کا شکا ر ہے۔ ان ٹی وی چینلوں کی کیا مجبوریاں ہیں یہ تو وہ چینل ہی بتا سکتے ہیں لیکن اس سے ایک خوفناک صورت یہ سامنے آتی ہے کہ ٹی وی دیکھنا ایک ذہنی انتشار کا سبب دکھائی دیتا ہے۔ دنیا میں ہر جگہ سیاسی پارٹیاں موجود ہیں لیکن ہماری طرح ٹی چینل پارٹی بازی نہیں کرتے بلکہ وہ اجتماعی طور پر سچ کو سچ اور جھوٹ کو جھوٹ نشرکرتے ہیں۔ اس صورتحال میں مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ سچ کی اصلیت کو مسخ کر دیا جاتا ہے۔ جھوٹ کی ارزانی ہو جاتی ہے اور ایسے میں بہت سے غیر متعلقہ لوگ عوام کو گمراہ کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم مدتوں عجیب قسم کی پراکسی وار کا شکار رہے ہیں۔ ہماری تاریخ کی پوری ایک دہائی خون سے رنگی ہوئی ہے۔ اس خون آشام دہائی کا سب سے بڑا ہتھیار جھوٹ تھا۔ ہماری قوم نے کیسے اپنی بقاء قائم رکھی شاید اس کی وجہ ہماری سخت جانی ہو لیکن یہ طے ہے کہ ہم موت اور مکمل تباہی کے بہت قریب جا کر رکے ہیں۔ ایسی حالت میں جب ہم نے بہت سی چیزوں پر قابو پایا لیکن جھوٹ پر ہم اب قدرت حاصل نہیں کر پائے ہیں۔ اسی لئے ہمارے چینل جھوٹ نشر کر رہے ہیں۔ ان چینلوںکی سب سے بڑی کوتاہی یہ ہے کہ ان میں قومی یکجہتی کو پروموٹ کرنے کا کوئی سامان موجود نہیں۔ ہمارے یہاں قومی یکجہتی کبھی کبھی انڈیا کیخلاف کرکٹ میچ جیسے ایونٹ میں ہی دیکھی جاتی ہے ورنہ ہم پارٹیوں، مسلکوں اور زبانوں کے ذیلی خانوں میںخود کو تقسیم کر کے جیتے ہیں۔ ہم کہیں کسی آخری درجے میں جا کر پاکستانی ہوتے ہیں جبکہ اس سے پہلے ہمارے بہت سے دوسرے حوالے موجود ہیں جن پر ہم ہر وقت لڑنے مرنے اور بھڑنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔ قومی سیاست بھلے سے ایک اہم حوالہ ہے جس سے باخبر بھی رہنا چاہئے لیکن ہمارے ہاںقومی سیاست کو Fever بنا دیا گیا ہے اور ہم سب اس بخار میں تپے رہتے ہیں۔ ہمیں قومی سیاست کے اس بخار میں انفیکشن ودیعت کرنیوالے ہمارے ٹی وی چینلزہیں۔ جنہیں ہماری ٹوٹی ہوئی، گند سے اٹی ہوئی گلیاں دکھائی نہیں دیتیں، جنہیں پانی کے پائپوں میں بہتی ہوئی خوفناک بیماریاں بھی دکھائی نہیں دیتیں، جنہیں ہسپتالوں میں رلتے لاچار مریض دکھائی نہیںدیتے۔ جنہیں گندگی کے ڈھیر سے کاغذ اور خوراک چنتے وہ بچے دکھائی نہیں دیتے جو سکول نہیں جاتے۔ جنہیں سڑک کنارے بیروزگار مذدور اور تھر کے فاقہ زدہ بچے نہیں دکھائی دیتے۔ کیسے کیسے المیے پڑے ہیں جو چیخ چیخ کر پکار رہے ہیں کہ ہمیں دیکھو ہم بھی اسی سماج کا حصہ ہیں کہ جہاں نوازشریف، عمران خان اور زرداری جمہوریت کی دوڑ میں پہلا نمبر لانے کیلئے بھاگ رہے ہیں مگر افسوس چینل والوں کیلئے کسی لاچار اور پائمال طبقے کے مسائل دکھانے سے زیادہ کسی سیاسی شخصیت کی پریس کانفرنس دکھانا ضروری ہے۔ ہمارے نجی ٹی وی چینلوں کی اب اچھی خاصی عمریں ہو چکی ہیں لیکن یہ چینل اب تک وہ قومی کردار ادا نہیں کر پائے کہ جس کا میڈیا سے تقاضا کیا جاتا ہے۔ صرف خبر چلانا ہی میڈیا کا کام نہیں بلکہ اس کے فرائض میں اور بھی بہت کچھ شامل ہے۔ جب ان باتوں کو سوچتا ہوں تو کڑھتا ہوں اور جب کڑھتا ہوں تو ٹی وی دیکھنا چھوڑ دیتا ہوں۔ مجھے کیا پڑی ہے گھنٹوں سیاسی بحثیں سنوں۔ پارٹی مؤقف بیان کرنیوالوں کی زبان سے دوسری پارٹیوں کے دشنام سنوں۔ مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں جھوٹ میں چینی ملاکر سچ کا شہد بنا کر بیچنے والے مداریوں کی باتیں سنوں۔ سو نیشنل جیوگرافک ہی ایک راستہ بچتا ہے کہ مجھے پتہ تو چلتا ہے کہ ہرن کا شکار چیتا کس رفتار سے کرتا ہے اور شیر ایک وقت میں کتنا گوشت چٹ کر جاتا ہے اور یہ کہ مگرمچھ کا جبڑا کتنی قوت سے کسی بھی جانور کو چیر سکتا ہے۔ بادل کیسے بنتے اور برستے ہیں، جنگل کیسے بنتے اور سنورتے ہیں اورسمندر میں قدرت نے کیسی کیسی مخلوق تخلیق کی ہے، سو نیچرکے قریب رہنے کیلئے ہماری نیوز چینلوں سے توبہ ہی سمجھئے۔