Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

کتب تاریخ میں ہے کہ مالک بن دینارؒ نے ایک مرتبہ ابوعبداللہ مسلم بن یسار بصری ؒ ساکن مکہ مکرمہ کو موت کے بعد خواب میں دیکھا اور ان سے موت کے بعد کا حال دریافت فرمایا ۔ مسلم بن یسار ؒ نے موت کے بعد درپیش ہونے والے چند احوال واہوال مالک بن دینار ؒ کو خواب میں بتلائے ۔ اس خوفناک احوال سے مالک بن دینار ؒ اتنے متاثر ہوئے کہ بیدار ہونے کے بعد بے ہوش ہوگئے ۔ غلبہ خوف آخرت سے ان کا دل پھٹ گیا اور پھر چند دن صاحب فراش رہنے کے بعد انتقال کر گئے ۔

حصین بن القاسم ؒ کہتے ہیں کہ ’’ میں نے مشہور زاہد و عابد حضرت عبدالواحد بن زید ؒ سے پوچھا کہ مالک بن دینار ؒ کی موت کا سبب کیا تھا ؟ عبدالواحد نے فرمایا کہ میں نے مالک بن دینار ؒ سے اس خواب کے بارے میں پوچھا تھا ، جس میںانہوں نے مسلم بن یسار ؒ کو دیکھا تھا ۔ مسلم بن یسار ؒ بہت بڑے بزرگ ، محدث ، فقیہ اور عابد تھے ۔ ابو دائود ونسائی اور ابن ماجہ میں ان کی مروی حدیث منقول ہیں ۔ مکہ مکرمہ میں رہتے تھے ۔ 100ھ میں ان کی وفات ہوئی ۔

(حلیہ ج ، 2ص 290، تہذیب ج ، 10ص ، 140)

مالک بن دینارؒ نے اس خواب کا سارا قصہ مجھے سنایا۔ عبدالواحدؒ فرماتے ہیں کہ ’’ میں وہ قصہ سن کر تڑپنے اور کانپنے لگا۔ مالک بن دینارؒ وہ قصہ سنا کر زور زور سے چیخنے لگے اور مرغ بسمل کی طرح تڑپنے لگے اور اس قدر مضطرب ہوئے کہ مجھے یقین ہوگیا کہ شدت خوف کی وجہ سے ان کا دل پھٹ گیا ہے۔ پھر کچھ دیر بعد ان کے بدن میں کچھ سکون آیا اور اضطراب شدید کی کیفیت ختم ہوگئی( لیکن چلنے کی انہیں ہمت نہ تھی) چنانچہ ہم نے انہیں اٹھا کر گھر پہنچایا۔ اس واقعہ کے بعد مالک بن دینارؒ مسلسل مریض رہے۔ (اور بستر فراش پر رہے) اور احباب ان کی عیادت کرتے رہے۔ یہاں تک اسی خواب کی شدت خوف کی وجہ سے وہ وفات پاگئے۔‘‘ یہ تھا مالک بن دینارؒ کی موت کا سبب۔

منقول ہے کہ جب خالد بن برمک اوراس کے بیٹے کو قید کیاگیا تو بیٹے نے عرض کی: ’’ اے میرے ابا جان‘ ہم عزت کے بعد قید و بند کی صعوبتوں کا شکار ہوگئے۔‘‘ تو اس نے جواب دیا:

’’ اے میرے بیٹے! مظلوم کی بد دعا رات کو جاری رہی لیکن ہم اس سے غافل رہے جبکہ خدا اس سے بے خبر نہ تھا۔ ‘‘

( کتاب الکبائر للذہبی ص120)

حضرت سیدنا یزید بن حکیمؒ فرمایا کرتے تھے کہ میں اس سے زیادہ کسی سے نہیں ڈرا جس پر میں نے ظلم کیا اور میں جانتا ہوں کہ اس کا خدا عزو جل کے سواکوئی مدد گار نہیں۔ وہ مجھ سے کہتا ہے:

’’مجھے خدا ہی کافی ہے‘ خدا ہی میرے اور تیرے درمیان( انصاف کرنے والا ) ہے۔‘‘

(کتاب الکبائر للذہبی ص120)

متعلقہ خبریں