Daily Mashriq


صفائی صورتحال کی بہتری کیلئے موزوں منصوبہ

صفائی صورتحال کی بہتری کیلئے موزوں منصوبہ

خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے پشاور میں کچرا سڑکوں پر پھینکنے والوں کی نشاندہی کرکے ان کیخلاف کارروائی کرنے کیلئے سی سی ٹی وی کیمرے نصب کرنے کا فیصلہ اسے موثر بنانے اور عملدرآمد کی شرط پر احسن فیصلہ ہے۔ ابتدائی طور پر شہر کے6مقامات پر کیمرے نصب کئے جائیں گے واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز پشاور ذرائع کے مطابق منصوبے کو تجرباتی بنیادوں پر آئندہ ہفتے شروع کر دیاجائیگا۔ کیمروں کی تنصیب کیلئے پشاور میں بورڈ بازار، چوک شادی پیر سے ہشتنگری چوک اور قصہ خوانی کے مقامات کا انتخاب کیا گیا ہے ۔کیمروں کا کنٹرول روم ڈبلیو ایس ایس پی ہیڈ کوارٹر حیات آباد میں قائم کیا جائیگا جہاں سے کچرا پھینکنے والوں کی نشاندہی کی جائیگی۔ سلگتا سگریٹ پھینکنے پر بھی تادیبی کارروائی ہوگی۔ سڑکوں پر کچرا پھینکنے والوںکیخلا ف کارروائی کیلئے موٹر سائیکل سکواڈ ترتیب دیدیا گیا ہے جوہیڈکوارٹرز سے ہدایات ملنے کے ساتھ ہی کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ شہری پر جرمانہ عائد کریگا۔ حکام کے مطابق منصوبے کی کامیابی کے بعد اسے پورے شہر تک توسیع دی جائیگی جس کیلئے ڈبلیو ایس ایس پی اپنے کیمرے نصب کرنے کی بجائے پی ٹی سی ایل کیساتھ معاہدہ کرنیکا ارادہ رکھتی ہے۔ جس کے تحت شہر میں پہلے سے نصب کئے گئے پی ٹی سی ایل کے کیمروں کو استعمال میں لایا جائیگا اور ڈبلیو ایس ایس پی اس کی فیس ادا کرے گی۔ علاوہ تمام گلیوں اور چوراہوں میں کوڑا دان رکھ دیئے گئے ہیں جبکہ انہیں خالی کرنے کا شیڈول بھی مرتب کر لیا گیاہے تاکہ شہریوں کو سہولت ہو اور شہر صاف رہے۔ ڈبلیو ایس ایس پی کے نئے سربراہ خود اس شہر کے باسی ہیں اور ان کو نہ صرف شہر میں صفائی کی صورتحال اور مسائل کا بخوبی علم ہے بلکہ انہیں شہریوں کی جانب سے خود اپنے ہاتھوں شہر کی صفائی کی صورتحال کی تباہی کا بھی بخوبی علم ہے۔ محولہ انتظام کی تیاری ان کے اس ادراک ہی کا باعث نظر آتا ہے۔ شہر کی صفائی میں کوتاہی کو صرف ڈبلیو ایس ایس پی کے عملے ہی کی غفلت کا ارتکاب قرار دینا حقیقت پسندانہ امر نہ ہوگا حقیقت پسندانہ امر یہ ہے کہ شہری خود اپنے مفاد میں اپنی عادات میں تبدیلی لانے پر تیار نہیں جس کی وجہ سے صفائی کی صورتحال میں بہتری لانے کے اقدامات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوتے۔ عملہ صفائی کی اس شکایت سے انکار ممکن نہیں کہ وہ صبح سویرے گلیوں سے کچرا اٹھا لیتے ہیں تھوڑی بہت صفائی بھی کی جاتی ہے لیکن دن کے دس گیارہ بجے تک کھڑکیوں سے سبزی کے فاصل ڈنٹھل‘ کوڑا کرکٹ اور شاپنگ بیگز گلیوں میں پھینکے جاتے ہیں یا پھر کوڑا دان گھنٹے میں بھر جاتا ہے اور کوڑا گلی میں پھیل جاتا ہے۔ اندرون شہر اور گنجان آباد علاقوں میں اس رجحان سے انکار نہیں اگر شہری کوڑا پھینکنے کی بجائے تھیلوں میں بند کرکے یا پھر کوڑا دان میں گھر ہی میں رکھ کر رات گئے یاصبح سویرے مقررہ مقام پر رکھ دیا کریں تو یہ صفائی کی صورتحال میں بہتری میں بڑی معاونت ہوگی۔ جہاں گلیوں میں کچرا اٹھانے کی چھوٹی گاڑیوں اور موٹر سائیکل ٹرالیوں کی گنجائش ہو ان علاقوں میں حیات آباد میں ی ڈی اے کے انتظامات کی طرز پر نظام نافع ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شہر میں نکاسی آب کی کھلی نالیاں اور ان کی صفائی سے نکلنے والے مواد کا بروقت اٹھانے کا انتظام نہ ہونا سب سے سنگین مسئلہ اور فضا کو زہر آلود کرنے اور تعفن کا باعث ہے۔ کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں کی کیمرے کے ذریعے شناخت کرکے جرمانہ کرنا موزوں ہوگا لیکن عملہ صفائی کی اس سنگین غفلت اور طریقہ کار کا تدارک اس سے زیادہ سنگین مسئلہ ہے جس پر توجہ کی ضرورت ہے۔ جن بازاروں اور علاقوں میں ابتدائی طور پر کیمروں سے نشاندہی کا سلسلہ شروع کیاجارہا ہے خاص طور بورڈ بازار میں نہر کو آلودہ کرنے کے ذمہ دار وہاں قائم تجاوزات پر مبنی بازار اور د کانیں ہیں جن کے خلاف بار بار کی کارروائی کامیاب نہیں ہوتی۔ بورڈ میں کھڑے سینکڑوں ٹھیلے بھی صفائی کی صورتحال کو ابتر بنانے کی وجہ ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈبلیو ایس ایس پی کو گھروں سے گلیوں میں بہنے والے پانی‘ گلیوں میں لگے خراب سرکاری نلکوں سے پانی کا ضیاع‘ پانی کے پائپوں کا رسائو‘ سروس سٹیشنز اور شادی ہالوں میں پانی کے ضیاع اور اس جیسے دیگر مسائل کی طرف بھی سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ پانی کے ضیاع کی روک تھام اور اس کے ذمہ دار عناصر کے خلاف بھی ممکنہ سخت اقدامات کی ضرورت ہے۔ شہر پشاور کی گنجان آبادی اور صوبے کے جگہ جگہ سے آکر بسنے والوں کے مختلف النوع مسائل میں صفائی‘ آبنوشی اور نکاسی آب بنیادی مسائل ہیں جس کے حل کی ذمہ داری میں جس قدر اخلاص ‘ دیانت اور گرم جوشی کا مظاہرہ کیاجائے اتنا ہی بہتر ہوگا۔ توقع کی جانی چاہئے کہ ڈبلیو ایس ایس پی کے حکام کیمروں کے ذریعے کوڑا کرکٹ پھینکنے والوں کی شناخت کرکے فوری کارروائی کے ذریعے شہریوں میں احساس ذمہ داری پیدا کرنے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائیں گے اور تعزیر کے ساتھ ساتھ شعور و آگہی کے ذریعے اس مسئلے کا حل تلاش کیا جائے گ

متعلقہ خبریں