Daily Mashriq


درندہ صفت ملزم کو سزا

درندہ صفت ملزم کو سزا

سوات میں کمسن بچوںکو اغوا کرکے جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور محبوس رکھنے والے بااثر ملزم کو عدالت سے سزاء تو باعث طمانیت امر ہے لیکن ساتھ ہی مقام افسوس یہ بھی ہے کہ مجرم اس قبیح فعل کا ارتکاب کسی بہ چھپی جگہ پررازداری کے ساتھ نہیں کرتا تھا بلکہ اس نے اس کیلئے باقاعدہ سہولیات سے آراستہ ڈیرہ بنارکھا تھا مجرم اگر کوئی ایک دو وارداتوں کا ارتکاب کر چکا ہوتا تو پولیس کی لاعلمی اور معاشرے کے صرف نظر کی گنجائش تھی با اثر ملزم نے تین سو بچوں کو درندگی کا نشانہ بنایا اور اس کے خلاف نہ کسی نے لب کھولے اور نہ ہی پولیس نے کارروائی کی۔ یہ ہماری پولیس اور معاشرہ دونوں ہی کیلئے باعث ندامت امر ہے کہ ایک پختون معاشرے میں ایک طویل عرصے تک اسے برداشت کیا گیا۔ سوال یہ نہیں کہ اس کی کیا وجوہات تھیں بلکہ سوال یہ ہے کہ تین سو معصوم بچوں سے زیادتی ہونے کیوں دی گئی۔جرم کی نوعیت پر متاثرہ بچوں کے والدین کی جانب سے واقعے میں ملوث مجرموں کو سرعام پھانسی کی سزا معقول ہے لیکن قانون کے اپنے تقاضے ہیں جس کے تحت مجرموں کو مختلف سزائیں دی گئی ہیں۔ اس قسم کے واقعات کے بار بار سامنے آنے سے معاشرے میں عدم تحفظ کے احساس کی بڑھوتری فطری امر ہے بہرحال اس قسم کے بار بار کے واقعات کے سامنے آنے سے والدین کو اپنے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے مزید محتاط ہونے کی ضرورت ہے ۔

ڈینگی کا خطرہ ،پیشگی احتیاط کی ضرورت

موسم بہارکے اختتام پر اور خاص طور پر برسات کے دنوں میں ڈینگی مچھر کے پھیلنے کا سلسلہ چند سالوں سے سنگین صورت اختیار کر گیا ہے جس کی روک تھام کیلئے بروقت اقدامات کی ضرورت واہمیت کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ محکمہ صحت نے گزشتہ برس ڈینگی سے متاثرہ اضلاع کی حساس یونین کونسلوں کو امسال کیلئے بھی انتہائی حساس قرار دیا ہے۔ محکمہ صحت کے مراسلہ کے مطابق2010سے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں ڈینگی مچھروںکی افزائش ہورہی ہے۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے2017میں مچھروں سے پشاور میں ہلاکتیں ہوئیں متعلقہ اضلاع میں لاروی سائیڈ اور انسکٹی سائیڈ کا سٹاک رکھنے کے علاوہ ہسپتالوں میں علاج معالجے کیلئے بھی سہولیات فراہم کرنے کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ محکمہ صحت کی جانب سے بروقت نشاندہی کرنا کافی نہیں بلکہ اس ضمن میں ممکنہ مریضوںکے علاج معالجے کا پورا پورا بندوبست یقینی بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ڈینگی کا مچھر چونکہ صاف پانی میں پیدا ہوتا ہے اس لئے صاف پانی کا کسی کھلی جگہ ذخیرہ نہ ہونے دینے پر توجہ دی جائے۔گھروں اور بازاروں میں گملوں اور دیگر جگہوں پر صاف پانی کو کھلا نہ چھوڑا جائے جہاں صاف پانی ہو اسے ڈھک دیا جائے۔ عوام کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنے کیلئے مہم چلا کر احتیاط کے تقاضے پورے کرنے پر متوجہ کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ڈینگی کے ممکنہ پھیلائو کو روکا جاسکے۔

کوہستان ویڈیو سکینڈل کیس کے مدعی کا لرزہ خیز قتل

کوہستان ویڈیو سکینڈل کے مدعی کا پولیس کو تحفظ فراہم کرنے کی درخواست دینے اور میڈیا کو خود کو درپیش خطرے سے آگاہ کرنے کے باوجود تھانے سے واپسی پر ان کا قتل ریاست کے اپنے ایک قانون پسند شہری کے تحفظ میں ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔ویڈیو سکینڈل کے مدعی ہونے کے بناء پر افضل کوہستانی کا گھر بارکاروبار وروزگارسے محروم ہوکر در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہونا الگ کہانی ہے۔ یہ ان نام نہاد تنظیموں اور سول سو سائٹی کی بھی سخت ناکامی ہے کہ وہ تمام تر دعوئوں او رپروپیگنڈے کے باوجودویڈیو سکینڈل کے مدعی کی مشکل وقت میں ان کو تنہا چھوڑنے میں کسر نہیں چھوڑی۔ اس تن تنہا شخص نے جس طرح کوہستان کے شدت پسندانہ معاشرے کا مقابلہ کیا اور سختیاں برداشت کیں وہ بڑے دل گردے کی بات ہے جس کا احساس ٹی وی کی رنگین سکرین پر میک اپ زدہ چہرے نہ تو اندازہ کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کو ادراک ہوسکتا ہے ۔ اس سکینڈل پر بہت سارے عناصر نے اپنا الو سیدھا کرنے کی بڑی کوششیں کی ہوں گی لیکن ٹھوس بنیادوں پر غیرت کے نام پر قتل کے غیر شرعی اورغیر اسلامی فعل کی روک تھام میں کسی نے کردار ادا نہیں کیا۔ کوہستان ویڈیو سکینڈل میں غیرت کے نام پر قتل کا کوئی جواز نہ تھا۔ مخلوط محفل میں محض گانا گانے پر جتنی بڑی سزا شرکائے محفل کو دی گئی اور مدعی کا جو حشرسامنے آیا اس کی روک تھام میں ناکامی پر حکومت اور سول سوسائٹی دونوں یکساں طور پرقصوروار قرار پاتے ہیں۔ افضل کوہستانی کے قتل میں ملوث عناصر کا کھوج لگانا پولیس کی ذمہ داری ہے اور پولیس کی جانب سے ناکامی پر کارروائی متعلقہ حکام کا فرض ہے۔ توقع کی جانی چاہیئے کہ افضل کوہستانی کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے میں ایک اور ناکامی کا اعادہ نہ ہوگا۔

متعلقہ خبریں