Daily Mashriq

مشرقیات

مشرقیات

حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک نوجوان بڑا عبادت گزار تھا جو زیادہ تر مسجد میں رہا کرتا تھا۔ حضرت عمرؓ اس کو بہت پسند کرتے تھے۔ اس نوجوان کا بوڑھا باپ تھا جس سے ملنے وہ عشاء کے بعد جایا کرتا تھا اور اس راستے پر ایک حسین وجمیل عورت کا گھر تھا‘ اس نے اس نوجوان کو دیکھا تو اس پر فریفتہ ہوگئی۔ ایک رات وہ نوجوان اس عورت کے پاس سے گزرا تو وہ عورت اس کو بہکانے لگی‘ حتیٰ کہ وہ اس کے فریب میں مبتلا ہوگیا اور اس کے پیچھے اس کے گھر کی طرف چلنے لگا۔ جب وہ گھر میں داخل ہوئی تو اس نوجوان کو اللہ یاد آگیا اور اس کی زبان پر یہ آیت جاری ہوگئی:ترجمہ: ’’بلاشبہ جو لوگ تقویٰ رکھتے ہیں جب ان کو شیطان وسوسے سے پکڑتا ہے تو وہ خدا کو یاد کرتے ہیں‘ پس وہ دیکھنے لگتے ہیں۔‘‘ پھر وہ نوجوان بے ہوش ہو کر گر پڑا‘ اس عورت نے اپنی باندی کو بلایا اور وہ دونوں اس کو اٹھا کر اس نوجوان کے باپ کے گھر تک لے گئے اور اس کے باپ نے دیکھا کہ وہ بے ہوش ہے تو لوگوں نے اس کو اٹھا کر گھر کے اندر پہنچا دیا۔ جب رات کا حصہ گزر گیا تو اس کو ہوش آیا‘ باپ نے پوچھا کہ کیا ہوا تو کہا کہ خیر ہے‘ باپ نے معاملہ پوچھا۔ اس نے قصہ سنایا‘ باپ نے دوبارہ وہ آیت اس سے سنی‘ وہ نوجوان اس کو پڑھ کر پھر بے ہوش ہوگیا‘ جب اس کو ہلایا گیا تو مر چکا تھا‘ الغرض غسل وکفن دے کر رات ہی میں اس کو دفن کر دیا گیا اور صبح حضرت عمرؓ کو اطلاع ہوئی تو تعزیت کے لئے تشریف لائے اور اس کے والد سے فرمایا کہ ہمیں کیوں نہیں جنازے کی اطلاع کی؟ اس نے کہا کہ رات کا وقت تھا‘ حضرت عمرؓ نے کہا چلو اس کی قبر پر جائیں۔ پس آپؓ اور آپ کے ساتھی قبر پر آئے‘ حضرت عمرؓ نے اس نوجوان کو خطاب کرکے کہا کہ اے فلاں! قرآن میں ہے: ترجمہ: ’’اور جو رب کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کھائے اس کو دو جنتیں ہیں۔‘‘ تو قبر سے اس نے جواب دیا کہ ہاں! مجھے اللہ نے دونوں جنتیں عطا کردی ہیں۔ حضرت لیثؒ بن سعدؒ فرماتے ہیں کہ:میں امام ابوحنیفہؒ کا ذکر سنا کرتا تھا اور ملاقات کیلئے مشتاق تھا‘ ایک سال میں مکہ معظمہ میں تھا‘ دیکھا کہ میں نے ایک شخص کو سنا کہ اس نے پکارا امام ابوحنیفہؒ تب میں نے جانا کہ یہی امام ابوحنیفہؒ ہیں۔ ایک شخص نے آپ سے مسئلہ پوچھا کہ میں بہت مالدار ہوں‘ میرا ایک لڑکا ہے‘ میں کافی مال خرچ کرکے اس کی شادی کردیتا ہوں‘ مگر وہ طلاق دے دیتا ہے۔ میرا مال مفت میں ضائع ہو جاتا ہے تو کیا اس کی کوئی ترکیب ہے؟ آپؒ نے فرمایا:اس کو باندیوں کے بازار میں لے جاؤ اور جسے وہ پسند کرے اسے خرید لو‘ پھر اس کی شادی اس باندی سے کردو۔ پھر اگر طلاق بھی دے گا تو وہ تمہاری باندی ہو کر رہے گی اور اگر آزاد کرے گا تو آزاد نہیں ہوگی۔ اس لئے کہ وہ تمہاری مملوک ہے۔ حضرت لیث بن سعدؒ فرماتے ہیں: بخدا مجھے ان کے اس جواب سے اس قدر تعجب نہ ہوا جس قدر ایسے مشکل مسئلے کا فوراً جواب دینا پسند آیا۔

(تاریخی واقعات)

متعلقہ خبریں