Daily Mashriq


نوبیل امن انعام، اتنی بھی کیا جلدی ہے ؟

نوبیل امن انعام، اتنی بھی کیا جلدی ہے ؟

نوبیل پرائز کا خواب ہمیشہ پاکستان کے حکمرانوں کو راس نہیںرہا ۔یہ خواب ان کے لئے ہمیشہ ایک ایسا سراب ثابت ہوتا رہا جس کی طلب اور تمنا میں وہ اس قدر دور جانکلتے رہے کہ واپسی کی راہ ہی بھول جاتے رہے یا جب انہیں واپسی کا خیال آتا رہا تو پیچھے کا منظر قطعی بدلا ہوااور ناموافق ہوچکا ہوتا تھا ۔نوے کی دہائی میں جب سرد جنگ ختم ہوچکی تھی اور سرد جنگ کی تقسیم بھی ازکار رفتہ قرار پا چکی تھی تو مغرب کو سوویت یونین کے آہنی پردے اور دوستی کی دیوار کے پیچھے چھپے بھارت کا سراغ لگانے اور وہاں پوشیدہ امکانات سے فائدہ اُٹھانے کا خیال آگیا تھا۔خطے کی کشیدہ صورت حال اس مغرب کے اس تجسس اور شوق کی راہ میں رکاوٹ تھی سو انہوں نے بھارت کے ساتھ امن کے کسی مسیحا کی تلاش شروع کر دی تھی ۔میاںنوازشریف آگے بڑھے اور انہوںنے جنوبی ایشیا کے’’ شاہ حسین ‘‘ بننے کا راستہ اختیار کیا اور وہ امن کے عالمی علمبردار بن کر دور اور بہت دور جانکلے ۔ شاہ حسین اردن کے بادشاہ تھے جنہوں نے فلسطینی تنازعے اور اوسلو معاہدے کی راہ ہموار کرنے میں پس پردہ اوراعلانیہ کردار ادا کیا تھا ۔بعد میں دوہزار کی دہائی میں یہی نوبیل انعام کے جادو کا یہی چراغ اسی ضرورت کے تحت پرویز مشرف کے سامنے رکھ دیا گیا ۔وہ بھی اس جانب لپکتے لپکتے کہیںسے کہیں نکل گئے ۔عمران خان ابھی اس شوق سے دور ہی دکھائی دے رہے ہیں مگر ان کے خوشامدی حامی انہیں اپنے دو پیش روئوں کی راہ پر ڈالنے کی جلدی میں ہیں ۔ اچھا ہوا عمران خان نے ایک ٹویٹ کے ذریعے امن کے عالمی انعام سے یک طرفہ طور پر دستبرداری کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس انعام کے حق دار نہیں بلکہ اس انعام کا اصل حق دار وہ ہوگا جو مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرکے برصغیر کے عوام کو امن اور ترقی کی منزل سے ہمکنارہونے کا موقع فراہم کرے گا۔عمران خان کو یہ اعلان دست برداری اس لئے کرنا پڑا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی کی حالیہ لہر میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے برعکس مضبوط اعصابی اور صلح جوئی پر مبنی باوقار انداز اپناکر جنگ کو ٹالنے کی ہر ممکن کوشش کرنے کی بنا پر میڈیا میں یہ مہم چل پڑی تھی کہ عمران خان کو اس رویے کا مظاہرہ کرنے پر امن کا عالمی انعام ملنا چاہئے ۔بی بی سی نے تو یہ موازنہ بھی کیا اس جنگ میں مودی اپنے مقاصد میں کامیاب رہے یا عمران خان بالادست ٹھہرے ؟۔حقیقت یہ ہے کہ مودی اس مہم میں ہر لحاظ سے ناکام ٹھہرے ۔انہوں نے ففتھ جنریشن وار کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان کی حدود میں اپنے لئے امکانات اور مواقع کی جو’’سٹریٹجک ڈیپتھ ‘‘تلاش اور تراش رکھی تھی اس’’ سٹریٹجک ڈیپتھ‘‘پر پاکستان کی عسکری ،سیاسی اور سفارتی کامیابی سے سکتہ طاری ہوچکا ہے۔اس پر واضح ہورہا ہے کہ جن پہ تکیہ ہے کہیں یہ پتے ہوا ہی نہ دیتے رہ جائیں کیونکہ بھارت میں اتنا بھی دم خم نہیں جس کا تاثر مصنوعی طور پردیا جاتا رہا ۔بھارت کا جوغبارہ دو عشروں سے ’’شائننگ انڈیا‘‘ کے سٹکر کے ساتھ فضائوں میں اُڑ رہا ہے اس کی ساری ہوا امریکہ نے بھری ہوئی ہے ۔جب امریکہ نے ایبٹ آباد آپریشن کیا تھا تو بھارت نے ایسے ہی آپریشن کی خواہش کو روگ بنالیا تھا ۔ اس خواہش کی کرچیاں بھمبر سے بڈگام تک اب جا بجابکھری پڑی ہیںجوایک بڑی نفسیاتی فتح ہے۔ ا گر پاکستان بالاکوٹ واقعے پر خاموش ہو کر بیٹھ جاتا تو پاکستان ہمیشہ کے لئے ففتھ جنریشن وار ہا رجاتا کیونکہ اس سے بھارت کی سٹریٹجک ڈیپتھ کو تقویت ،حوصلہ اور ولولہ مل جاتا۔مودی کو دوسری شکست عملی محاذ پر ہوئی دو جہاز اور ایک ہیلی کاپٹر گروا دئیے ۔خاصا جانی نقصان بھی ہوااور ابھی نندن کی دردناک اور سبق آموز کہانی اس پر مستزا دہے۔مودی نے جس سیاسی اور انتخابی فائدے کے لئے جنگی ماحول بنایا تھا وہ تدبیر کچھ یوں ناکام ہوئی کہ اب بھارت کی حزب اختلاف ان پر تاریخ کا دروغ گو ترین حکمران ہونے کی پھبتی کس رہی ہے۔یوں مودی اور بھارت کا امیج بری طرح اُدھڑ چکا ہے ۔سفارتی کامیابی کا جو تاثر سشما سوراج کی او آئی سی اجلاس میں شرکت سے دیا گیا تھا دوسرے ہی روز فتح کا مومی مجسمہ اسی فورم کی ایک قراردا د کی دھوپ کے باعث پگھل کر موم ہو گیا۔امریکہ کی کاسمیٹکس انڈسٹری کا مرہون منت سارا میک اپ دھل گیا ہے۔ ابھی نندن کی رہائی کے بعد عمران خان کے لئے نوبیل پرائز کی ایک غیر ضروری مہم شروع ہوگئی۔یوں بھی نوبیل پرائز مسلمانوں کے کسی مجموعی کاز یا امن کی حقیقی کوشش کی بنا پر نہیں بلکہ مغرب کی سیاسی ضرورت اور خواہش کی بنیاد پر دیا جاتا ہے۔اس تناظر میں دیکھا جائے تو ابھی یہ بحث بھی ہورہی ہے کہ یہ واقعی انعام ہے بھی یا نہیں؟۔ اکثر یہ اعزاز ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو مغرب کے زاویۂ نظر سے امن واستحکام کے حوالے سے کوئی کارنامہ انجام دیتے ہیں ۔کارنامہ بھی وہی کہلاتا ہے جو مغرب کی نظر میں کارنامہ سمجھا جائے۔پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ ٹالنا کوئی کارنامہ نہیں رہا ۔جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کے ادوار میں پاکستان اور بھارت جنگ کی دہلیز سے لوٹ کر واپس آتے رہے ۔اب وزیر اعظم عمران خان نے اس ساری بحث کو بہت خوبصورت انداز میں سمیٹ دیا ہے ۔جس نوبیل پرائز کو عمران خان کے آگے سجایا جانے لگا تھا انہوںنے شکریے کے ساتھ وہ جادو کا چراغ مودی اور بھارت کے آگے رکھ دیا ہے کہ اگر وہ مسئلہ کشمیر کو کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق حل کرنے پر آمادہ ہوجائیں تو پاکستان خود ان کے لئے نوبیل پرائز کی درخواست کر سکتا ہے۔امن کوسوں دور ہو ،سرحدوں پر فوجی اور شہری مر رہے ہوں ،کشمیر ایک قتل گاہ ہوتو امن کے انعام کی باتوں کو بے معنی ہی کہا جاسکتا ہے ۔

متعلقہ خبریں