Daily Mashriq

دولت کی تخلیق اور معاشی ترقی

دولت کی تخلیق اور معاشی ترقی

گزشتہ برس دسمبر میں وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے پاکستان کی معیشت کو استحکام کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ویلتھ کرئیشن یعنی دولت تخلیق کرنے کی ضرورت پر خاصا زور دیاگیا تھا۔البتہ یہ اتنا آسان نہیں، بیشتر ممالک کو اس میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے۔دنیا بھر میں اس موضوع پر بہت کچھ لکھا جا رہاا ہے البتہ ملکی سطح پر دولت تخلیق کرنے کا کوئی مؤثر ،واضح اور مستند رستہ نکالا نہیں جا سکا۔دولت تخلیق کرنے کے بابت اولین نظریہ ماہر معاشیات ایڈم سمتھ نے پیش کیا تھا جس کے مطابق اگر مارکیٹ اور تجارتی منڈیوں میں حکومتی اثرورسوخ مکمل طور پر ختم کر دیاجائے تو یہ تمام منڈیاں طلب و رسد کے توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش میں رفتہ رفتہ اشیاء کی پیداواری صلاحیت بڑھا کر مانگ کو پورا کرنے اور پھر ان کی منصفانہ تقسیم میں خود انحصاری کا درجہ حاصل کر لیتی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ حکومتی اثر و رسوخ سے خالی منڈیوں میں مقابلے کی فضاء پائی جاتی ہے اور کسی ایک فرد یا گروہ کی اجارہ داری نہ ہونے کے نتیجے میں اصل فائدہ عام خریدار تک پہنچتا ہے۔ سمتھ ملکوں کے مابین فری ٹریڈ کا بھی حامی تھا کہ اس کے مطابق ایسا کرنے سے افراد اور ملکوں میں خوشحالی کے در کھل جاتے ہیں۔ عالمی بینک کی جانب سے کچھ عرصہ قبل ایک رپورٹ جاری کی گئی جس میں دنیا کے ایک سو اکتالیس ممالک میں 1995سے 2014 تک، بیس سالوں کے دوران ہونے والی معاشی ترقی کے مختلف پہلوئوں کا تجزیہ کیاگیا۔ اس رپورٹ میں عام طورپر ترقی کا پیمانہ سمجھے جانے والے جی۔ڈی۔پی کی بجائے ملک کے پاس موجود دولت وسرمائے کے اصل ذخائر،ذرائع اور اثاثوں کو ملکی معاشی ترقی کا اہم عنصر گردانا گیا۔تجزیے کے لیے چنی گئی سرمائے کی ان اقسام میں قدرتی اثاثہ جات ووسائل،زرمبادلہ ، انسانی سرمایہ اوردولت کے بل بوتے پر تخلیق کردہ اثاثہ جات اور سرمایہ شامل ہیں۔دنیا بھر کے ترقی یافتہ ممالک میں حکومتیں سب سے زیادہ سرمایہ کاری اپنے شہریوں پر کرتی ہیں کہ آنے والے دور میں یہی تعلیم یافتہ اور صحت مند شہری انسانی سرمائے کا روپ دھارتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق مالی طور پر مستحکم ممالک کی حکومتیں شہریوں کی تعلیم اور صحت پر اپنی مجموعی دولت کا بڑا حصہ لگاتی ہیں اور نتیجتاً یہ شہری اپنے ملک کی تقریباً ستر فیصد دولت تخلیق کرنے کا ذریعہ بنتے ہیں جبکہ اس کے بر عکس ترقی پذیر ممالک کے اثاثوں میں سے تقریباً 47 فیصد حصہ قدرتی وسائل پر ہی مبنی ہوتا ہے۔ ان قدرتی اثاثوں میں زرعی زمین، تیل، معدنیات،گیس اور کوئلے وغیرہ کے ذخائر شامل ہوتے ہیں۔ بدقسمتی سے ترقی پذیر ممالک کا انہی وسائل پر دیر پا انحصار رفتہ رفتہ انہیں مفقود کرنے لگتا ہے جبکہ ہوش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ ان وسائل کو دانشمندی سے استعمال کیا جائے اور اپنی معیشت کو چلتا رکھنے اور مضبوط بنانے کے لیے ان وسائل پر مکمل طور پر انحصار کر نے کی بجائے دیگر ذرائع بھی دریافت کیے جائیںکہ قدرتی وسائل سے جتنا بھی فائدہ لے لیا جائے، انہیں ختم ہونا ہی ہوتا ہے۔ سعودی عرب بھی اسی سبب اب دیگر آپشنز پر غور کر رہا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق سال2014تک پاکستان کی سالانہ فی کس آمدن ،22,182 ڈالر تھی جس میں قدرتی وسائل سے آنے والی آمدن،5,982 ڈالر، تخلیق کردہ اثاثہ جات سے پیدا ہونے والی آمدن کا حصہ3,029 ڈالر،جبکہ انسانی وسائل سے آنے والی رقم صرف13,587 ڈالرہے۔ ترقی پذیر ممالک سے ترقی یافتہ ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کے طریقوں پر اب تک دفتر کے دفتر بھرے جا چکے ہیں مگر یہ راستہ اتنا آسان نہیں جتنا نظر آتا ہے، بلکہ ماہرین کا تو کہنا ہے کہ خوشحال ممالک کی فہرست میں شامل ہونے کا راستہ تاخیر سے آنے والوں کے لیے قطعی طور پر بند ہے ۔خاص کر ان ترقی پذیر ممالک کے لیے جنہوں نے سامراج کے زیر اثر خود کو سرمایہ دارانہ نظام کو تقویت بخشتے ہوئے سستے مزدوروں کی فراہمی اور پردیسی مصنوعات کے لیے مقامی منڈی فراہم کر کے اپنا استحصال ہونے دیا ،جو اب تک جاری ہے۔ عالمی معیشت بنیادی طور پر ترقی یافتہ یا خو۔شحال ممالک اور ترقی پذیر یا غریب ممالک پر مشتمل ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں کوئی ہوش ربا معاشی ترقی ممکن نہیں کہ ان پر ترقی یافتہ ممالک کی مالی اجارہ داری قائم ہے اور ان ممالک میں پیدا ہونے والے سرمائے کا ایک بڑا حصہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے خود بخودبڑے اور بین الاقوامی سرمایہ داروں کے پاس چلا جاتا ہے۔اور بچی کچھی دولت ملکی سرمایہ کار ہڑپ کر جاتا ہے۔ یہ سب ایک قبیح اکٹھ کی بدولت کیا جاتا ہے جس کا بنیادی مقصد ترقی پذیر ممالک میں سستی لیبر کے نظام کو برقرار رکھنا ہے۔

اس اکٹھ کا توڑناا ور خود کو اس تمام گورکھ دھندے سے الگ کر کے صحیح معنوں میں دولت تخلیق کرنا ایک مشکل امر ہے۔ ا لبتہ ہماری نیک تمنائیں عمران خان اور ان کی معاشی ٹیم کے ساتھ ہیں۔

(بشکریہـ: ڈان،ترجمہ: خزیمہ سلیمان)

متعلقہ خبریں