Daily Mashriq

اے مرے شہر پشاور تری یاد آئی بہت

اے مرے شہر پشاور تری یاد آئی بہت

روم کا حسن بہت دامن دل کھینچتا ہے

اے مرے شہر پشاور تری یاد آئی بہت

احمد فراز مرحوم روم میں ہوتے ہوئے پشاور کے سحر سے نکل نہ سکے اور آج کل ہم زیر تعمیر بی آر ٹی کی وجہ سے گھر سے نہیں نکل سکتے کیونکہ بے ہنگم ٹریفک اور وقت کے ضیاع کا ایک ایسا سلسلہ ہے جو ختم ہونے کو نہیں آرہا۔پشاور کا شمار قدیم شہروں میں ہوتا ہے۔ پرانے وقتوں میں شہر اپنے فصیل کے اندر اپنے باسیوں کی ضروریات پوری کرتا تھا اور کابلی دروازہ ‘ ہشتنگری دروازہ‘ سرکی دروازہ اور کوہاٹی دروازہ وغیرہ اس کی آمد و رفت کے ذرائع تھے۔ انگریز دور میں چھائونی کا علاقہ وجود میں آیا جو قدیم شہر کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ منظم اور تعمیر و ترتیب کے لحاظ سے زیادہ پر کشش تھا۔ وقت گزر تا گیا‘ پشاور اپنے بنیادی محل وقوع کے ارد گرد بے ہنگم آبادیوں میں گھر گیا۔ یونیورسٹی ٹائون‘ شامی روڈ اور حیات آباد جیسی نئی بستیوں کے علاوہ کچھ ایسی بے ہنگم کالونیاں اور بے ترتیب محلے وجود میں آگئے جن کی وجہ سے شہر کا حلیہ ہی بگڑ گیا۔ اس ضمن میں سرکاری اداروں کی غفلت اور قبضہ مافیا کو نظر انداز نہیں کیاجاسکتا۔ آج کل کے دور میں لوگ نہ صرف اپنے گھروں کو عزیز رکھتے ہیں بلکہ اپنے شہروں اور ممالک کو عزیز تر رکھتے ہیں۔ لیکن یہ کیا افتاد آپڑی کہ آج ہم پشاور کا روشن چہرہ کسی کو دکھانے کی پوزیشن میں نہیں۔

کسی شہر کی خوبصورتی کی بنیاد اس میں موجود عمارتوں کی تعمیر کے حسن ‘ سڑکوں کی کشادگی اور خوبصورت پارکوں کی موجودگی پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی شہر‘ بستی یا منظر کو خوبصورت قرار دینے کا فریضہ انسان کی آنکھیں سر انجام دیتی ہیں لیکن آج کل کے پشاور میں تو آنکھیں کھلی رکھنے کی گنجائش بھی موجود نہیں کیونکہ گرد و غبار اور بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے انسانوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ کسی شہر میں رہنے کے لئے جو بنیادی لوازمات درکار ہیں آج ان پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ طرفہ تماشا یہ ہے کہ خیبر پختونخوا کے مسائل اور درد سے آشنا ساری پختون قیادت اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے۔ ایک قومی زوال ہے کہ عوام کو اذیت میں ڈال کر ان کی فلاح و بہتری کے لئے کوئی مداوا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ ہمارے ملک کا سب سے بڑا المیہ منصوبہ بندی کا فقدان اور دیانت کی کمی ہے۔ کیا پشاور کے لئے بی آر ٹی ایک ایسی ضرورت تھی جو ہر حال میں نا گزیر تھی یا کچھ ایسے دیگر اقدامات اٹھائے جاسکتے تھے جن سے ٹریفک کے مسائل حل ہوسکتے تھے؟ اگر بی آر ٹی کے روٹ کا تجزیہ کیاجائے تو یہ حقیقت سامنے آجاتی ہے کہ کچھ ایسے مقامات پر بھی یہ گزارا گیا جہاں عوام کاکوئی سروکار نہیں۔ ہمارے لوگ محنتی اور غربت زدہ ہیں وہ یورپی لوگوں کی طرح سفر سیاحت کے طور پر نہیں بلکہ ضرورت کے لئے کرتے ہیں۔

شاید ہماری حکومتوں کو عوام کی ترجیحات کا ادراک نہیں ہوتا اور یوں ان کی مشکلات کم نہیں ہو رہیں ۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شہروں کی زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لئے ٹریفک کا ایک ہموار نظام بہت ضروری ہوتا ہے لیکن روز بروز یہ حقیقت عیاں ہوتی جا رہی ہے کہ یہ مجوزہ زیر تعمیر پراجیکٹ شروع دن سے اپنی ناکامی پر دلالت کر رہا ہے۔ روزانہ کی بنیاد پر اس کی تعمیر میں رد و بدل ‘ ہسپتالوں کے وارڈز سے مماثلت رکھنے والے اس کے سٹیشنز میں خامیاں‘ سواریوں کے داخلے اور اخراج کے راستوں سے پیدا ہونے والی مشکلات اور دیگر بے شمار ایسی فنی خامیاں جن کا بروقت ادراک نہیں کیا گیا۔ اس منصوبے کو کسی طرح بھی ایک قابل فخر اضافہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ایک ہم ہیں کہ اپنی روز مرہ ضروریات اور ترجیحات کا بروقت تعین نہیں کرسکتے اور ایک وہ اقوام ہیں جو اپنی عقل و شعور کی بدولت ایک منظم زندگی گزار رہی ہیں۔ لندن کا ایک سو پچپن سالہ زیر زمین ریلوے نظام اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ شہر تو انسانوں کے لئے بسائے جاتے ہیں نہ کہ انہیں شہروں سے بھگایا جائے۔ رنگ روڈ پر بے شمار پلازوں کی تعمیر اور یونیورسٹی روڈ سے نقل مکانی کے امکانات کیا تاجر برادری کی بے اطمینانی کا مظہر نہیں۔

موجودہ حکومت تعلیم‘ صحت اور سماجی بہبود کے حوالے سے اپنے ویژن کی تکمیل کے لئے پر عزم ضرور ہے لیکن بی آر ٹی جیسے پراجیکٹ کے حوالے سے شاید وہ مشاورت نہیں کی گئی جس سے اس کے جواز کو تقویت مل جائے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کو اللہ تعالیٰ نے خوبصورت مناظر‘ دریائوں اور بلند پہاڑوں سے نوازا ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ اس کا صوبائی صدر مقام اتنا پرکشش ہوتا کہ ہر آنے والا اس کا گرویدہ بن جاتا اور چار دانگ عالم میں پشاور کی دھوم مچ جاتی لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم اپنے صوبے کے اس مرکزی شہر کو حسن و جمال کے اس معیار پر نہ لاسکے جس کا یہ ہر حوالے سے مستحق ہے۔ اب بھی وقت ہے کہ شہر پشاور کی خوبصورتی کے لئے ایک ماسٹر پلان بنایا جائے جس میں مختلف مکتبہ فکر کے لوگ اور ماہرین شامل ہوں جو اپنے اپنے فن میں یکتا ہوں جنہیں پشاورعزیز ہو اور اپنے گھر کی طرح اس کی ایک ایک اینٹ اور ایک ایک گلی کی خوبصورتی کے لئے لائحہ عمل تیار کرے۔ پشاور کو رش اور ٹریفک کی زیادتی سے نجات دلانے کے لئے ضروری ہے کہ صوبے کے دیگر شہروں اور قصبوں میں بھی وہی سہولیات فراہم کی جائیں جن کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگ پشاور کارخ کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں