Daily Mashriq


’نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہوتا تو ہمارے پاس انتہاپسندی کے سدباب کے ثبوت ہوتے‘

’نیشنل ایکشن پلان پر عمل ہوتا تو ہمارے پاس انتہاپسندی کے سدباب کے ثبوت ہوتے‘

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نیشنل ایکشن پلان پر مسلسل عمل کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس پلان پر عمل کیا گیا ہوتا تو آج پاکستان کے پاس انتہا پسندوں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کا ثبوت موجود ہوتا۔

بلاول نے کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر بروقت عمل کیا گیا ہوتا تو دنیا بھر میں پاکستان کی پوزیشن مختلف ہوتی اور نہ صرف بھارت کے پاس ہم پر انتہا پسندی کا الزام لگانے کا جواز نہ ہوتا بلکہ ہمارے پاس انتہا پسندوں کے خلاف کیے گئے اقدامات کا ثبوت بھی ہوتا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 14فروری کو مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج پر حملے میں 40 سے زائد بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے اور بھارت نے اپنی سابقہ روش برقرار رکھتے ہوئے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر اس حملے کی پشت پناہی کا الزام عائد کیا تھا۔

اس کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی تھی اور بھارت کی جانب سے کئی مرتبہ پاکستان کی فضائی اور سمندری حدود کی کی خلاف ورزی کے ساتھ ساتھ دراندازی بھی کی گئی۔

بلاول نے امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ نیشنل ایکشن پلان پر مستقل عمل ہو گا اور اس معاملے پر قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کو فعال کرنے کا مطالبہ کیا۔

تاہم اس کے ساتھ ساتھ پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے حکوتی اقدامات پر شکوک ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تحریک انصاف نے اسی طرح کی کالعدم جماعتوں کے تعاون سے انتخابات لڑے تھے اور اگر وہ کارروائی میں سنجیدہ ہیں تو انہیں اپنی جماعت سے ایسے وزیروں کو باہر کرنا ہو گا جو اس قسم کی جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی سے خطاب کے دوران بھی بلاول بھٹو زرداری نے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد نہ ہونے کا شکوہ کرتے ہوئے حکومت سے اس سلسلے میں وضاحت دینے اور پالیسی وضع کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے بلاول نے انتہا پسندی کی سیاست پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ جنگ کا ماحول پیدا کر کے دہشت گردی کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں کیونکہ انہیں اس میں آئندہ عام انتخابات میں فائدہ نظر آ رہا ہو گا۔

’افسوس سے کہنا پڑے گا کہ نریندر مودی اب بھی پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، پلوامہ میں نیم فوجی دستے پر ہونے والے حملے کو وہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی لیے استعمال کر رہے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ جوہری طاقت کے حامل پاکستان اور بھارت کے درمیان اب بھی جنگ کا خطرہ موجود ہے۔

سیاسی جماعتوں کے احتساب کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ نیب کو صرف سیاسی جماعتوں کو دباؤ میں لینے کے لیے بنایا گیا تھا۔

’آج بھی اگر احتساب جمہوری پسند سیاست دانوں کے لیے نہیں ہوتا، قانون کی بالادستی قائم رہتی تو کسی کو کوئی مسئلہ نہ ہوتا لیکن پیپلزپارٹی کے خلاف جو سازشیں چل رہی ہیں، اس میں ملکی آئین کی پاسداری نہیں کی جا رہی‘۔

انہوں نے کہا کہ آئین آرٹیکل 10اے ہر شہری کو آزاد اور شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے لیکن ایسا کچھ نہیں ہو رہا اور یہ سب محض مذاق بن کر رہ گیا ہے۔

حال ہی میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے سربراہ منتخب ہونے والے بلاول نے مزید کہا کہ اس وقت پاکستان میں انسانی اور جمہوری حقوق کا بحران ہے اور یہ کہنا بالکل جھوٹ ہو گا کہ ملک کے تمام ادارے آئینی حدود میں رہ کر کام کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام ادارے اپنی آئینی حدود میں کام کر رہے ہیں، یہ کہنا بالکل جھوٹ ہو گا، کسی بھی جمہوریت میں ادارے اس طرح کام نہیں کرتے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ سپریم کورٹ ڈیم بنائے، اس کا کام انصاف فراہم کرنا ہے، ان سب کے درمیان پارلیمنٹ اپنا اصل مقام کھو بیٹھی ہے،جسے بحال کرنا ہوگا۔

متعلقہ خبریں