Daily Mashriq


انتہا پسند ہندو رہنما کی کشمیریوں پر تشدد کی حمایت

انتہا پسند ہندو رہنما کی کشمیریوں پر تشدد کی حمایت

نئی دہلی: دائیں بازو سے تعلق رکھنے والی ہندو انتہا پسند تنظیم نے اپنی جماعت کے اراکین کی جانب سے کشمیریوں پر تشدد کرنے کی حمایت کردی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ ماہ بھارتی فوجیوں پر ہونے والے حملے کے بعد ’مشکوک‘ کشمیریوں پر نظر رکھنا ضروری ہے۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر بھارتی شہر لکھنؤ میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے 2 کشمیری پتھارے داروں کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیو وائرل ہونے پر ہر طرف سے اس کی مذمت کی گئی لیکن بہت سے بھارتی شہریوں نے الٹا کشمیریوں پر ہی غصہ نکالا۔

ان حملہ آوروں کا تعلق بھارت کی انتہا پسند جماعت وشوا ہندو دل سے تھا جس کی قیادت نے اس اقدام کی مذمت کرنے کے بجائے اسے صحیح قرار دیا۔

تنظیم کے سربراہ امبوج نگام کا کہنا تھا کہ ’ہاں میرے کارکنان نے انہیں پیٹا، کشمیری جہادیوں کی مدد سے بھارتی فوجیوں پر کیے گئے حملے کے بعد سے عوام میں اشتعال پایا جاتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ’کشمیری ہمارے فوجیوں پر پتھر پھینکتے اور پاکستانی پرچم لہراتے ہیں، ہم کیوں یہ برداشت کریں؟‘

امبوج نگم کا کہنا تھا کہ دونوں پتھارے دار ان کے کارکنان کو مشتبہ لگ رہے تھے اس لیے ان سے شناختی کارڈ مانگا، ان کا مزید کہنا تھا کہ میرے کارکنان نے پولیس کو بھی بلوایا تھا لیکن انہوں نے آنے میں بہت دیر کی۔

انہوں نے اس مار پیٹ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ’بعض اوقات، جب پولیس آنے میں دیر کرتی ہے تو ہمیں معاملات اپنے ہاتھ میں لینے پڑتے ہیں‘۔

وشوا ہندو دل کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ انہوں نے بھارت بھر میں اپنے 50 ہزار کارکنان کو کشمیریوں پر نظر رکھنے اور غیر قانونی معاملات میں ملوث ہونے پر انہیں چیک کرنے کا حکم دیا تھا۔

واضح رہے کہ وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک مصروف شاہراہ پر انتہا پسند ہندوؤں کو خشک میوہ جات فروخت کرنے والے 2 کشمیریوں پر تشدد کرتے دیکھا گیا تھا۔

جس پر آس پاس سے گزرنے والے افراد نے انہیں بچانے کے لیے مداخلت کی اور وجہ پوچھنے پراس مار پیٹ کی وجہ ان کا کشمیری ہونا بتایا گیا۔

ولیس کے مطابق تشدد کرنے والا شخص بجرنگ سونکار تھا جسے حراست میں لے لیا گیا ہے جبکہ اس شخص کے خلاف پہلے ہی 12 مقدمات درج ہیں جس میں ایک قتل کا مقدمہ بھی شامل ہے۔

دوسری جانب بھارتی حکومت کی جانب سے انتظامیہ کو ملک بھر میں کشمیریوں کو تحفظ فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

متعلقہ خبریں