Daily Mashriq


پی ٹی ایم کی نوجوان قیادت کو امید کی نظر سے دیکھتا ہوں

پی ٹی ایم کی نوجوان قیادت کو امید کی نظر سے دیکھتا ہوں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ پختون تحفظ موومنٹ کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں، لیکن وہ اس نوجوان قیادت کو امید کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

 بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ’پیپلز پارٹی نے ہر مسئلے پر آواز بلند کی ہے اور سچ کا ساتھ دیا ہے۔ پی ٹی ایم کے قیام سے پہلے بھی میں لاپتہ افراد کے بارے میں، انسانی حقوق، قانون کی بالا دستی اور پارلیمان کے حاکمیت کی بات کرتا تھا، اب اگر پشتون تحفظ موومنٹ بھی ان نکات پر بات کر رہی ہے تو انھیں نظر انداز تو نہیں کیا جا سکتا۔‘

بلاول بھٹو نے کہا کہ فاٹا کے بارے میں دنیا کہا کرتی تھی کہ یہ انتہاپسندوں کی آماجگاہ ہے، لیکن آج وہاں سے نوجوان جمہوریت،آئین و قانون کی بات کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شورش زدہ علاقوں سے اٹھنے والی جمہوری آوازوں کو بڑھاوا دینا چاہیے نا کہ انھیں دیوار کے ساتھ لگایا جائے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ اگر نیشنل ایکشن پلان پر بروقت عمل درآمد کیا گیا ہوتا تو آج دنیا میں پاکستان کی پوزیشن کچھ اور ہوتی۔

’انڈیا کے پاس ہم پر انتہاپسندی کے الزامات لگانے کا جواز نہ ہوتا اور ہمارے پاس دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے انتہاپسندوں کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کا ثبوت بھی موجود ہوتا۔‘

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں خودکش حملے کے بعد انڈیا نے پاکستان پر ایک بار پھر انتہا پسند عناصر کی پشت پناہی کا الزام لگایا ہے۔

اس الزام کے بعد پاکستان میں کالعدم تنظیموں کے خلاف کریک ڈاؤن بھی شروع ہوا ہے تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ وہ یہ سب کسی دباؤ کے نتیجے میں نہیں کر رہی اور شدت پسندی کرنے والے پاکستان کے دشمن ہیں۔

اس کریک ڈاؤن پر بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’میں پرامید ہوں کہ اس بار یہ کریک ڈاون صحیح معنوں میں ہو گا۔ میری خواہش ہے کہ اس بار نیشنل ایکشن پلان پر مسلسل عمل ہو۔‘بلاول نے کہا کہ اس معاملے پر چیک اینڈ بیلنس رکھنے کے لیے قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کو فوری طور پر فعال کرنا چاہیے۔تاہم انھوں نے یہ بھی کہا کہ انھیں ’موجودہ حکومت کی اس کاوش پر تھوڑا شک اس لیے ہے کیونکہ پاکستان تحریک انصاف نے جو الیکشن لڑا تھا ، وہ ایسی کالعدم جماعتوں کے تعاون سے لڑا تھا۔اگر وہ واقعی سنجیدہ ہیں تو انھیں اپنی سنجیدگی ثابت کرنے کے لیے اپنی جماعت سے ایسے وزیروں کو باہر کرنا ہو گا جو ان جماعتوں کی حمایت کرتے ہیں۔‘

انھوں نے امید ظاہر کی کہ اس بار وزیر اعظم عمران خان اپنے اُس بیان پر قائم رہیں گے کہ وہ ایسے عناصر کا مقابلہ کریں گے۔

نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کی بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو کا موقف تھا کہ ’اگر اس پلان پر عمل درآمد بروقت کیا گیا ہوتا تو انڈیا کے پاس ہم پر انگلی اٹھانے کا کوئی جواز نہ ہوتا، اور ہمارے پاس دنیا کو دکھانے کے لیے ثبوت بھی ہوتا کہ ہم نے کیا کیا اقدامات کیے لیکن دیر آید، درست آید۔‘

’مودی دہشت گردی کو سیاست کے لیے استعمال کر رہے ہیں‘

اس سوال پر کہ کیا ان کے خیال میں اب بھی انڈیا اور پاکستان کے درمیان جنگ کا کوئی خطرہ موجود ہے، بلاول بھٹو نے کہا کہ ’افسوس سے کہنا پڑے گا کہ نریندر مودی اب بھی پاکستان کے خلاف جارحانہ اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ پلوامہ میں نیم فوجی دستے پر ہونے والے حملے کو وہ اپنے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی لیے استعمال کر رہے ہیں۔‘

بلاول نے یہ بھی کہا کہ ’یہ بات شرمناک اور افسوس ناک ہے کہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی ہندو انتہا پسندی کی سیاست کھیل رہے ہیں۔ اگر انڈیا کا وزیراعظم دو نیوکلیئر ملکوں کے درمیان جنگ کا ماحول پیدا کر کے، اور دہشت گردی کو سیاست کے لیے استعمال کر رہا ہے تو یقینا آئندہ آنے والے انتخابات میں انھیں اس کا فائدہ نظر آ رہا ہو گا۔‘

’احتساب سب کے لیے ہو‘

کرپشن کا ذکر آئے تو انگلیاں پیپلز پارٹی، سندھ حکومت اور سابق صدر آصف علی زرداری پر اٹھنے لگتی ہیں اور پیپلز پارٹی کے خلاف احتسابی کارروائی ہو تو سیاسی انتقام کی آوازیں آنے لگتی ہیں، بلاول بھٹو سے جب پوچھا گیا کہ وہ احتساب سے کتراتے کیوں ہیں تو انھوں نے کہا کہ ’بہتر ہوتا اگر ایک ہی بار احتساب ہوتا اور دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جاتا۔ ہماری جماعت نے ایوب خان سے لے لر ضیا الحق تک یہی سنا کہ پہلے احتساب پھر انتخاب۔ نوے کی دہائی میں جو پولیٹیکل انجینئرنگ کی گئی اور جس طرح انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائیں گئیں، وہ سب دیکھا ہے۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود پیپلز پارٹی واحد جماعت ہے جو یہ مطالبہ کرتی ہے کہ ہمیں ایک صحیح احتساب کے نظام کی ضرورت ہے۔ جہاں احتساب سب کے لے ہو۔‘

بلاول بھٹو کے مطابق نیب صرف سیاسی جماعتوں کو دباو میں رکھنے کی لیے بنایا گیا تھا۔ ’آج بھی اگر احتساب جمہوری پسند سیاست دانوں کے لیے نہیں ہوتا، قانون کی بالادستی قائم رہتی تو کسی کو کوئی مسئلہ نہ ہوتا لیکن پیپلزپارٹی کے خلاف جو سازشیں چل رہی ہیں، اس میں ملکی آئین کی پاسداری نہیں کی جا رہی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’آئین کا آرٹیکل 10 اے ہر شہری کو آزاد اور شفاف ٹرائل کا حق دیتا ہے، لیکن ایسا کچھ نہیں ہو رہا۔ یہ سب ایک مذاق بن کر رہ گیا ہے۔‘

حال ہی میں قومی اسمبلی میں حقوقِ انسانی کی سٹینڈنگ کمیٹی کے سربراہ بننے والے بلاول بھٹو کا خیال ہے کہ اس وقت پاکستان میں انسانی اور جمہوری حقوق کا بحران ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ملک کے تمام ادرارے اپنی آئینی حدود میں کام کر رہے ہیں، یہ کہنا بالکل جھوٹ ہو گا۔ کسی بھی جمہوریت میں ادارے اس طرح کام نہیں کرتے۔ ایسا نہیں ہو سکتا کہ سپریم کورٹ ڈیم بنائے، اس کا کام انصاف فراہم کرنا ہے۔۔اس سب کے درمیان پارلیمنٹ اپنا اصل مقام کھو بیٹھی ہے جسے اسے دوبارہ قائم کرنا ہو گا۔‘

متعلقہ خبریں