Daily Mashriq


’خطے میں امن کے لیے پاکستان کا کردار قابل قدر ہے‘

’خطے میں امن کے لیے پاکستان کا کردار قابل قدر ہے‘

امریکہ کی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ جنرل جوزف ووٹل نے کہا ہے کہ افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے میں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے اور گذشتہ چھ ماہ میں اس حوالے سے بہت پیشرفت ہوئی ہے ۔

امریکی سینیٹ کی دفاعی امور کی کمیٹی ’ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی‘ کے اجلاس میں بات کرتے ہوئے جنرل جوزف ووٹل نے جنوبی ایشا میں قیام امن اور استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ چھ ماہ کے دوران جس قدر تعاون کیا ہے وہ اس سے پہلے اٹھارہ برس میں دکھائی نہیں دیا تھا۔جنرل جوزف ووٹل کے مطابق پاکستان نے ’ذلمے خلیلزاد اور طالبان کے درمیان مذاکرات میں معاونت کے لیے مثبت اقدامات کیے۔‘ تاہم سینیئر امریکی جنرل نے ان طالبان رہنماؤں کے خلاف زیادہ موثر اقدامات پر زور دیا جو مصالحت کی کوششوں میں تعاون نہیں کر رہے اور ایسے رہنماؤں کو گرفتار یا ملک سے نکالنے کے لیے ٹھوس کارروائی کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

’اگر پاکستان ، افغانستان کے تنازعے کے حل میں مثبت کراد ادا کرتا ہے تو امریکہ کہ پاس یہ موقع ہو گا کہ وہ پاکستان کی مدد کرے کیونکہ خطے میں امن پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ مفادات کے لیے نہایت اہم ہے ۔‘

افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں سینکوم کے سربراہ کا کہنا تھا کہ کہ ’ہمیں انخلاء کا حکم نہیں ملا ہے ۔ اس قسم کا کوئی حکم نہیں ملا ہے ۔ ہم مصالحت کے لے جو کوششیں کر رہے ہیں ان میں ابھی تک وہ سیاسی ماحول پیدا نہیں ہوا ہے جس کی بنیاد پر انخلا ہو سکے۔‘

تاہم ان کا کہنا تھا کہ جنوبی ایشیاء میں امریکہ کی حکمت عملی کام کر رہی ہے ۔

جنرل جوزف ووٹل کا کہنا تھا کہ افغانستان میں موجود دہشتگرد تنظیمیں پاکستان کے اندر حملے کرتی ہیں جس سے نہ صرف افغانستان میں استحکام کو خطرہ ہے بلکہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی کو ہوا ملتی ہے ۔ ان کے بقول امریکہ خطے کے تمام کرداروں سے امید کرتا ہے کہ وہ ’ایسے اقدامات نہیں کریں گے جن سے علاقائی استحکام متاثر ہو۔‘

افغانستان میں گذشتہ عرصے میں سکیورٹی فورسز پر طالبان کے حملوں کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’اگرچہ طالبان ابھی تک مزاحمت اور افغان سکیورٹی فورسز پر بڑے حملے کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، تاہم اتحادی ممالک کی طرف سے مسلسل عسکری، سفارتی اور معاشرتی دباؤ افغان طالبان کو یہ باور کرانے میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ مفاہمت ہی ہے ۔‘

پاکستان اور امریکہ کے تعلقات سے سلسلے میں انھوں نے کہا کہ پاکستان کا امریکہ کو جنوبی ایشیاء میں اپنی حمکت عملی پر عمل کرنے میں جہاں مواقع فراہم کرتا ہے وہاں مشکلات بھی پیدا کرتا ہے ۔

’امریکہ کے خطے میں مفادات کے حوالے سے جوہری صلاحیت کا حامل پاکستان امریکہ کے لیے ہمیشہ اہم رہے گا کیونکہ یہ روس، چین، انڈیا اور ایران کے سنگم پر واقع ہے ۔ تاہم اکثر پاکستان کے اقدامات امریکہ کے لیے سر دردی کا باعث بنتے ہیں جس سے افغانستان میں امریکی کوششوں میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے ۔‘

امریکہ کی عسکری قیادت کی حمکت عملی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہم اپنی وزارت خارجہ کی مدد کرتے ہیں کہ وہ افغان تنازعہ کو ختم کرنے کے لیے اسلام آباد کے ساتھ سفارتی حل تلاش کرے اور اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ پاکستان کے کردار کو تسلیم کیا جائے اور مستقبل کے معاہدوں میں اس کردار خیال رکھا جائے۔‘

پاکستان کی جانب سے درپیش مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے جنرل جوزف ووٹل کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ابھی تک ملک کے اندر موجود شدت پسند تنظیموں کے محفوظ ٹھکانوں کے خلاف ٹھوس اقدامات نہیں کیے ہیں اور اسی طرح افغانستان میں موجود ایسے گروہ پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ سرحد کی دونوں طرف ایسے گروہوں کی کارروائیوں سے دونوں ممالک میں تشدد اور کشیدگی کو فروغ ملتا ہے ۔

اگرچہ امریکہ کی طرف سے پاکستان کو فوجی امداد پر عرصے سے جاری پابندی برقرار ہے ’تاہم دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون جاری رہا ہے ، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ عسکری تعاون کی اپنی اہمیت ہے ۔‘

متعلقہ خبریں