Daily Mashriq


بھارتی اور افغان حکمرانوں کا گٹھ جوڑ

بھارتی اور افغان حکمرانوں کا گٹھ جوڑ

خانہ و مردم شماری کی ٹیم پرافغان فورسز کی گزشتہ روز گولہ باری کے بعد چمن میں کشیدگی برقرار ہے ۔ تین سرحدی دیہات سے پاکستان کے حکام نے سویلین آبادی کو سرحد سے سات آٹھ میل اندر منتقل کر دیا ہے۔ چمن میں ہڑتال ہے ۔ فوجی کمانڈروں کی فلیگ میٹنگز ناکام ہوچکی ہیں۔ دونوں ملکوں کے ملٹری آپریشنز کے ڈائریکٹروں کے ٹیلی فونی رابطے میں بھی امن کی طرف کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی۔ افغان فورسز کی گولہ باری سے ایک فوجی اہل کار سمیت گیارہ پاکستانی شہید ہوئے ہیں۔ پاکستان کے دفتر خارجہ نے افغان ناظم الامور کو طلب کرکے احتجاجی مراسلہ دیا ہے۔ لیکن افغان حکمرانوں کی طرف سے اس بزدلانہ کارروائی پر اظہارِ ندامت کی بجائے الٹا پاکستان پر الزام تراشی کی گئی ہے ۔ افغان دفتر خارجہ نے بھی پاکستانی ناظم الامور کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا ہے ۔ چمن بارڈر پر پاک فوج فضائی نگرانی کر رہی ہے۔ کیا ایسی کوئی اطلاعات ہیں کہ افغانستان کی جانب سے مزید اشتعال انگیزی ہو گی؟ اسے بعید ازامکان نہیں قرار دیا جا سکتا کیونکہ گزشتہ روز افغان فوج نے جو کارروائی کی وہ اتفاقیہ نہیں تھی۔ افغان حکام کو پہلے سے اطلاع دے دی گئی تھی کہ علاقے میں خانہ و مردم شماری کی ٹیمیں کام کریں گی۔ اور یہ حملہ انہی ٹیموں پر ہوا تھا۔ اگر یہ اتفاقیہ اشتعال کا واقعہ ہوتا تو کئی گھنٹے دونوں طرف سے فائر کا تبادلہ جاری نہ رہتا۔ کمانڈروں کی فلیگ میٹنگ میں ہی یہ معاملہ طے پا جاتا۔ واقعہ اس وقت ہوا جب چند ہی روز پہلے لندن میں برطانیہ کی میزبانی میں پاکستان اور افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیروںکی ملاقات ہوئی تھی اور اس ملاقات کے نتیجے میں پاکستان کی طرف سے سرحد کی بندش کے احکام نرم کر دیئے گئے تھے۔ طورخم اور چمن بارڈر پر تجارتی سامان کی آمدورفت شروع ہو گئی تھی ۔ اس خیر سگالی کی فضا کو مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے دو اعلیٰ فوجی افسروں نے علیحدہ علیحدہ افغانستان کا دورہ کیا تھا اورافغان حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔ پاکستان کے ایک اعلیٰ سطحی پارلیمانی وفد نے افغانستان کا دورہ کیا تھا اور صدر اشرف غنی نے پاکستان کے دورے کی دعوت قبول کر لی تھی۔ پھر یکایک کیا تبدیلی آئی کہ صدر اشرف غنی نے پاکستان آنے کی دعوت رد کر دی اور ایسا جواز اختیار کیا جو کئی ہفتے پہلے رونما ہونے والے واقعات پرمبنی تھا۔ انہوں نے کہا کہ کابل اور مزارشریف پر حملہ کرنے والے ہمارے حوالے کر دکئے جائیں۔ کابل اور مزار شریف پر جب حملے ہوئے تھے اس وقت بھی پاکستان پر الزام لگایا گیا تھا اور پاکستان نے مفصل وضاحت کر دی تھی کہ ان حملوں سے پاکستان کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ سرحد کو کھولنے' اعلیٰ فوجی افسران کے دورۂ افغانستان اور پاکستان کے پارلیمانی وفد کے دورہ کے ذریعے دونوں ملکوں کے درمیان قربت بڑھانے کی کوشش مزار شریف اور کابل پر حملوں کے بعد ہوئی تھی۔ پھر یکایک صدر اشرف غنی کے ذہن میں کابل اور مزارشریف پر حملوں کی یاد تازہ ہو گئی۔ اور چمن کے قریب لقمان کلی اور جہانگیر کلی میں خانہ و مردم شماری کی ٹیموں پر افغان فورسزنے گولہ باری بھی کر دی۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ جب پاک افغان تعلقات میں بہتری کے آثار پیدا ہوئے یکایک افغان حکمرانوں نے یوٹرن لیا ہو اور کشیدگی پیدا کرنے والا کوئی نہ کوئی واقعہ رونما ہوا ہو۔ اس لیے وزیر دفاع خواجہ آصف جب کہتے ہیں کہ چمن سرحد کے قریب افغان فورسز کی گولہ باری بھارت افغان گٹھ جوڑ کا نتیجہ ہے۔ بھارتی اور افغان حکمرانوں کا گٹھ جوڑ آج قائم نہیں ہوا۔ یہ تب سے ظاہر ہے جب قیام پاکستان کے وقت افغان حکمرانوں نے پاکستان کو تسلیم کرنے میں لیت و لعل سے کام لیا تھا۔ بھارت کے ہندو انتہا پسند سوچ رکھنے والوںکے عزائم قیام پاکستان سے قبل کے متحدہ ہندوستان کے متعدد اخبارات ''پرتاپ'' اور ''ملاپ''وغیرہ کی تحریروں سے واضح ہیں جب کہا جا تاتھا کہ پاکستان بنجر ملک ہو گا اور چند سال میں ختم ہوجائے گا۔ اس کے لیے بھارت نے کشمیر پر حملہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کی صورت میں کشمیر کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا۔ اور اس قبضہ کے تحت بھارت کی پاکستان کے خلاف آبی جارحیت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ پاکستان کے دریائے کابل ' دریائے چترال اور دریائے کنڑ افغانستان سے آتے ہیں اور بھارت ان دریاؤں پر بھی تنصیبات تعمیر کرنے کی طرف گامزن ہے۔ بھارتی اور افغان حکمرانوں کا گٹھ جوڑ محض یہاں تک محدود نہیں کہ بھارت کشمیر کی صورت حال سے توجہ ہٹانے کے لیے پاک افغان سرحد پر حالات کشیدہ کرنے کی خاطر کوئی ناخوشگوار واقعہ برپا کرنے کے لیے کوئی چنگاری سلگا دے یا تحریک طالبان پاکستان اوردوسری پاکستان مخالف تنظیموں کو سرمایہ' انٹیلی جنس اوراسلحہ فراہم کرتا رہے۔ بھارت کے عزائم اس سے کہیں زیادہ خطرناک ہیں بھارت افغانستان کا کندھا پاکستان کے خلاف استعمال کر کے اپنے کئی مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے یہ سوال قابلِ غور ہونا چاہیے کہ آیا اس گٹھ جوڑ سے افغانستان کو کوئی فائدہ ہو سکتا ہے۔ اس کا جواب سراسر نفی میں ہے۔ پاک افغان کشیدہ تعلقات کے برقرار رکھنے کی خاطر بھارت کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ افغانستان کو غیر مستحکم رکھے۔ افغانستان میں کوئی ایسی قومی حکومت قائم نہ ہونے دے جو آزاد افغان قومی خارجی پالیسی اختیار کر سکے۔ افغان حکمرانوں کو پاکستان مخالف پالیسی پر قائم رکھنے کی خاطر بھارت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ افغانستان میں قومی اتحاد و یگانگت پیدا نہ ہونے دے۔ افغان حکمران ملک کو کسی پائیدار ' مستحکم' سماجی اقتصادی پالیسی کی بجائے روزمرہ مسائل کے ردِعمل کے طریقہ ٔ کار پر چلاتے رہیں۔ پاکستان اور افغانستان کے عوام کے رشتے نہایت قدیم اور نہایت مضبوط ہیں۔ اس میں بھی شک نہیں کہ ایک مستحکم افغانستان نہ صرف پاکستان کے استحکام کی ضمانت ہے بلکہ افغانستان کے اس پار ایک وسیع دنیا کے ساتھ قریبی رابطوں کے اعتبار سے بھی نہایت اہم ہے۔ اس لیے پاک افغان تعلقات کو وسیع تر تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔ افغانستان میں ایک ایسا قومی اتفاقِ رائے جو افغانوں کے لیے قابلِ فخر ہو نہ صرف افغانستان کے لیے اہم ہے بلکہ پاکستان کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے افغانستان کی سرحد کی شناخت لازمی حیثیت رکھتی ہے۔ ڈیورنڈ لائن کو ساری دنیا پاک افغان سرحد تسلیم کرتی ہے ' دنیا بھر کے نقشے اس کے گواہ ہیں ۔ اس کے باقاعدہ واضح ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ سرحد پر باڑھ لگانے کا جو کام پاک فوج نے شروع کیا ہے اسے جلد مکمل کیا جائے ۔ اگرچہ افغانستان کی حکومتیں بھی اس سرحد کو تسلیم کرتی ہیں تاہم اس کو باڑھ لگا کر واضح کرنے کے کام کومغائرت کی نظر سے دیکھا جاتا رہا ہے۔ جب یہ کام مکمل ہوجائے گا تو خود افغانوں کے قومی فخر میں اضافہ کرے گا۔ دونوں ملکوں کی سرحد کے بعض علاقوں کے آر پار ایسے قبائل آباد ہیں جن کی روایات' کلچر ایک ہے۔ سرحد کی نشاندہی ان کی ثقافت اور روایات کی راہ میں حائل نہیں ہو گی۔ آخر امریکہ اور کینیڈا کی سرحد بھی تو ان کے شہروں اور قصبوں اور محلوں سے گزرتی ہے اس کے باوجود وہ امریکی اور کینیڈین ہیں۔ اس بنیادی کام کی تکمیل کے بعد افغان عوام کو یہ باور کرنے میں مدد آسانی سے فراہم کی جا سکتی ہے کہ موجودہ دور کی سیاسی مشکلات کے حائل ہونے کے باوجود وہ ایک آزادملک کے باوقار شہری ہیں اور انہیں اپنے ملک کا کاروبار خودہی چلانا ہے۔ اس کے لیے انہیں بعض سمجھوتے کر کے عوام کے خوشگوار مستقبل کی طرف آگے بڑھنا ہے اور اپنے ہمسائے سے تعلقات بگاڑنے کے لیے کسی تیسری قوت کا دست نگر بننے میں ان کا قومی نقصان ہے۔

متعلقہ خبریں