صوبائی وزیر کے خلاف انوکھا احتجاج

صوبائی وزیر کے خلاف انوکھا احتجاج

یہ اطلاع حیرت انگیز بھی ہے اور چشم کشا بھی کہ صوبائی وزیر خوراک قلندر خان لودھی کے خلاف ان کے اپنے حلقہ انتخاب کے ایک گاؤں پنڈ کرگو خان کے لوگوں نے پرتشدد احتجاج کیا ۔ ان کی کاروںکے جلوس پر پتھراؤ کیا جس میں وزیر موصوف اور ان کے ساتھ چند اور افراد بھی زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ کسی اشتعال انگیز تقریر یا ریمارکس کی وجہ سے نہیں ہوا بلکہ خبروں کے مطابق اس کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ قلندر خان لودھی منتخب ہونے کے بعد ساڑھے تین سال تک اس علاقے میں نہیں گئے تھے۔ وزراء اور منتخب ارکان اسمبلی کے لیے یہ واقعہ چشم کشا ہونا چاہیے کہ ان کے حلقۂ ہائے انتخاب میں بھی ایسا احتجاج ہونا اب ممکن ہو گیا ہے۔ تاہم اس واقعہ پر حیرت اس بات پر ہے کہ احتجاج کی تیاری وزیر خوراک کے متذکرہ گاؤں تک پہنچنے سے پہلے ہی تھی۔ لوگوں نے ان کے احتجاجی استقبال کے لیے بینرز اُٹھائے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا ''گو قلندر خان گو'' ۔ اس سے یہ اندازہ مشکل نہیں کہ ان کے متذکرہ گاؤں میں جانے کے پروگرام کی تشہیر پہلے سے ہو چکی تھی لیکن گاؤں کے باشندوں نے بجائے اپنے منتخب وزیر کو خوش آمدید کہنے کے ان کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا۔ قلندر خان لودھی کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج اپوزیشن پارٹیوں کے لوگوں نے منظم کیا تھا۔ تاہم انہوں نے اس بات کو نہیں جھٹلایا کہ منتخب ہونے کے بعد ساڑھے تین سال تک وہ اپنے حلقۂ انتخاب کے اس گاؤں میں نہیں گئے تھے۔ اس احتجاج کو ایک طرح سے جمہوری شعور میں اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے کہ عوام اپنے منتخب ارکان کواپنے سامنے جوابدہ بھی سمجھنے لگے ہیں۔ لیکن اس کا طریقہ اس طرح کی ہلڑ بازی اور پتھراؤ نہیںہونا چاہیے۔ منتخب نمائندوں کا فرض جہاں یہ بھی ہونا چاہیے کہ وہ اپنے حلقۂ انتخاب کے لوگوں سے رابطہ رکھیں وہاں یہ بھی ان کی ذمہ داری سمجھی جانی چاہیے کہ وہ احتجاج کرنے کے اظہار کے جمہوری طریقوںکو رائج کرنے کیلئے عوام کو رہنمائی فراہم کریں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ منتخب نمائندے بھی اپنا فرض نبھاتے ہوئے اپنے حلقہ نیابت میں ترقیاتی کاموں میں دلچسپی لیںاور علاقے کے عوام کے لئے فلاحی کام کریں تاکہ دوسرے علاقوں کی طرح وہ بھی ترقی کی دوڑ میں شامل ہوجائیں ۔

اداریہ