Daily Mashriq


امیر اور غریب کی اقتصادی حالت میں فرق

امیر اور غریب کی اقتصادی حالت میں فرق

اگر ہم امریکہ اور نیٹو کی دہشت گر دی اور انتہا پسندی کی جنگ کی وجوہات دیکھیں تو ان میں مغربی ممالک کی مسلم دشمنی، غُربت، وسطی ایشیائی ریاستوں پر امریکہ کا قبضہ اور انکے 5 کھرب ڈالر کے قدرتی وسائل کو لوٹنے کی کو شش کرنا اور روس کے زوال کے بعد امریکہ کا پورے علاقے کاتھانے دار بننا ،دنیا کے مُختلف علاقوں میں کشید گی اور جنگی کیفیت پیدا کر کے اسلحہ بیچنا اور زوال پذیر سرمایہ دارانہ نظام کاخا ص طور پر تحفظ کرنا شامل ہے۔آج کل پوری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام زوال پذیر ہے امریکہ اور سرمایہ دار اتحا دیوں، کی پو ری کو شش ہے کہ اس گرتے ہوئے ظالمانہ اور دولت کے غیر مساویانہ نظام کو ہرصورت میں بچا یا جائے۔ساتھ ہی ساتھ امریکہ اور دوسرے یو رپی ممالک کی یہ بھی کو شش ہے کہ اس آمرانہ سرمایہ دارانہ نظام کو لوگوں، ملکوں، ریاستوں کو آپس میں لڑاکر تقسیم کر کے اور اُلجھا کر زندہ رکھا جائے۔مارکس نے کیا خوب کہا ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں سول سوسائٹی پر ایک خا ص طبقے کا اختیار ہوتا ہے جس کے پاس اقتصادی اور سیاسی دونوں اختیارات ہوتے ہیں ۔ اگر ہم مارکس کے بیان کو دیکھیں تو اس سے یہ بات صا ف وا ضح ہو جاتی ہے کہ سر مایہ دارانہ نظام میں امیر امیر تر اور غریب غریب تر ہو تا جا رہا ہے۔ محتاط اعداد و شمار کے مطابق دنیا کے8 مالداروں کے پاس 50فی صد غریبوں کے برابر دولت ہے۔دنیا کے 60 مالداروں کے پاس پوری دنیا کی آدھی آبادی کے برابر دولت ہے۔ امریکہ ، بر طانیہ اور مغربی ممالک کی سرمایہ دار حکومتیں فالتو اناج، پھل ، چکن اور دوسری اشیاء خوردونوش کو سمندروں میںپھینک تو دیتے ہیں مگر عالمی منڈی میں نہیں بیچتے، تاکہ رسد بڑھنے سے ان چیزوں کی قیمتوں میں کمی نہ آئے ۔

اگر عالمی سطح پر سرمایہ دارانہ نظام کا جا ئزہ لیا جائے تو یہ تقریباً ناکام ہو گیا ہے کیونکہ جو نظام معاشی انصاف اور حقا ئق پر مبنی نہیں ہو تا، وہ پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا ۔ مثلاً امریکہ میں ایک چیف ایگزیکٹیو آفیسر ایک مزدور اور کلر ک سے 400 گنا زیادہ تنخواہ لیتا ہے۔ اور چیف ایگز یکٹیو کی تنخواہ میں ایک عام ور کر کی نسبت گزشتہ تیس سالوں میں 30 گنا اضا فہ ہوا۔امریکہ میں نہ صرف تنخواہوں میں بلکہ امیر اور غریب کے معیار زندگی بھی انتہائی فر ق ہے۔ پاکستان میں بھی فی کس آمدنی تقریباً 1550ڈالر یعنی ایک لاکھ اور 63 ہزار روپے ہے۔ مگر حقیقت میںدوسرے سرمایہ داروں کے وسائل کو 19کروڑ آبادی پر تقسیم کرکے یہ فی کس آمدنی نکالی گئی ہے ۔جبکہ اسکے بر عکس غریبوں کے پاس تو کچھ نہیں ہوتا۔ اگر پاکستان میں فی کس آمدنی تین ڈالر یعنی ٣٠٠ روپے لگائی جائے تو وطن عزیزمیں ١٣ کروڑ لوگ غُربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ جس کی وجہ سے ترقی پذیر ممالک میں جرائم اور دوسرے سماجی مسائل میں اضا فہ ہوا۔ امریکہ میں ایک فی صد مالداروں کے پاس 45 فی صد دولت ہے اور امریکہ کے وسائل کا 50 فی صد منا فع صرف ایک فی صد لو گ لے رہے ہیں۔یہی حالت بر طانیہ کی بھی ہے ۔ بر طانیہ میں 10 فی صد لوگوں کے پاس 60 فی صد دولت ہے ۔

سر ما یہ دارانہ نظام ایک ایسا غیر مساویانہ نظام ہے جس میں مالدار مالدار ترین اور غریب غر یب تر ہو تے جا رہے ہیں۔مثلاً دنیا میں 600 ملٹی نیشنل کمپنیوں کے پا س دنیا کی 60 فی صد دو لت ہے۔اگر ہم روس کے زوال اور امریکہ روس کی دشمنی کو دیکھیں تو ا مریکہ اور دیگر یو رپی ساہوکار جو ملٹی نیشنل کمپنیوں کے مالک ہیں وہ کسی صورت میں سرمایہ دارانہ نظام کے ساتھ ایک متوازی نظام کو چلتا دیکھ نہیں سکتے۔ اب امریکہ اتحادی دنیاکے مختلف ممالک میںتنازعات پیدا کر کے ایک طر ف تو سرمایہ دارانہ نظام کو تقویت جبکہ دو سری طر ف اسلحہ بھی بیچ رہا ہے۔اگر ہم اسلحہ کی پو ری خرید و فروحت پر نظر ڈا لیں تو یہ تقریباً١٦٦٠ ارب ڈالر ہے جس میں صرف امریکہ کا حصہ ٦٧٠ارب ڈالر ہے۔ان ساری باتوں کا حا صل یہ ہے کہ امریکہ اور یو رپی سر مایہ دار ممالک دہشت گردی اور انتہا پسندی کی آڑ میں نہ صرف مسلمانوں کو تباہ کر رہے ہیں بلکہ ساتھ ہی دوسرے نظام ،جس میں اسلام شامل ہے کو ختم کرنے کو ششیں کر رہے ہیں۔ سرمایہ دارانہ نظام کس قدر غیر منصفانہ اور استحصالی ہے۔ انسانی ترقی کی عالمی رپورٹ کے مطابق پاکستان اس وقت 177 ممالک کی فہرست میں 133ویں نمبر پر ہے، جہاں پر شرح خواندگی48 فی صدہے۔دو ہزار آبادی کے لئے ایک ڈا کٹر،4000 آبادی کے لئے ایک نرس، 33000 لوگوں کے لئے ایک ڈینٹسٹ اور 1500لوگوں کے لئے ہسپتال میں ایک بیڈ ہے۔بچوں کی شرح اموات 80 فی ہزار، زچگی کے دوران شرح اموات500 فی لاکھ ، متوقع زند گی 65 سال، کم وزن بچوں کی شرح پیدا ئش 38 فی صد ہے۔سلطان صلا ح الدین ایوبی کہتے ہیں ، جہاں روٹی مزدور کی تنخواہ سے مہنگی ہوجائے وہاںدوچیزیں سستی ہو جاتی ہیں، عورت کی عزت اور مرد کی غیرت۔ سیدہ فا طمتہ الزہرہ فر ماتی ہیں جب کوئی بھوکا دیکھوتو یہ مت سمجھ لیناکہ خدا کے رزق میں کمی ہے بلکہ سمجھ لینا کہ کسی ظالم نُے اُن کا رزق چھین لیا ہے۔جس وقت حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہُ کے دور میں زکواة کا نظام پوری آب وتاب سے رائج تھا تو کوئی زکواة لینے والا نہ تھا۔ اگر ہم دیکھیں تو انسانی اقتصادیات کے تمام مسائل کا حل اللہ کے نظام میںہے اسکے علاوہ دوسرا کوئی اور نظام مو ثر ثابت نہیں ہو سکتا۔

متعلقہ خبریں