کو ن جھوٹا کو ن سچا

کو ن جھوٹا کو ن سچا

اتوار کی صبح سویر ے اخبارات پر نظر پڑی تو پورا اخبار چھان پھٹکنے کے بعد ہی اخبار میں مر چ مسالہ نظر نہیں آیا ۔محسو س ہو ا کہ وہ لیڈر جو سبھی کو جھو ٹا بناتا تھا اخبارات کی سرخیو ں سے لا پتہ ہو گیا ہے ۔ نہ ہی اس کے ٹائیگر وں یا کچھو ؤں کا پتہ چل رہا ہے۔ پاکستان پر کون سی مصیبت آنے والی ہے ، جب سے سپر یم کورٹ نے زیر سما عت مقدما ت کے بارے میں عدالت کے احاطے میں یا وکلا ء مقدمہ کے علا وہ کسی اور کی بات چیت پر پا بندی عائد کر دی ہے سب پھیکاہی پھیکا ہو گیا ہے لیکن گزشتہ جمعہ کے رو ز سپر یم کورٹ پا کستان میں پانا مہ کیس کے فیصلے پر عملد رآ مد کے لیے خصوصی بینچ کے سربراہ جسٹس اعجا ز افضل نے پانا مہ فیصلے کی غلط تشریح پربرہمی کا اظہا ر کر تے ہو ئے فر ما یا کہ پانا ما کیس فیصلے کے بعد ایک سیا سی لیڈر نے کہا ہے کہ پانچو ں ججز نے وزیر اعظم کو جھو ٹا قرا ر دیا وزیر اعظم کو نہ تو انہو ں نے اور نہ اس بینچ میں شامل باقی ججو ں نے ایسا کہا ہے۔ اس سیا سی رہنما نے جھو ٹ بولا ہے اور لو گو ں کو دھو کا دیا ۔ عزت مآب جج نے اس لیڈر کو جھوٹا اور دھوکے با ز قرار دیدیا۔ گویا یہ لیڈر توہین عدالت کا بھی مر تکب ہو ا ہے اور کا ذب بھی قرار پایا ہے۔ اس کے ساتھ دھو کے با ز بھی تسلیم کیا گیا ہے کہ عوام کو دھو کا دیا ۔ یہ سب سنگین جر ائم میں آتے ہیں ، جس کا ازخود عدالت کو نو ٹس لینا چاہیے۔ اس سے قبل عدالت عظمیٰ نے ما ضی میں ایک وزیر اعظم کو توہین عدالت کے جر م میں ان کو نا اہل قرا ر دیا تھا ، عدالت کے اس فیصلے سے عوام میں عدالت کا وقار بلندہواتھا اور عدالت پر عوام کا اعتما د بھی پختہ ہو ا تھا ۔ کیو ں کہ ماضی میں فوجی آمر و ں کے بارے میں جو فیصلے آتے رہے ہیں اس سے عوام میں انصاف کے حصول سے اعتما د کو ٹھیس پہنچی تھی ۔عدلیہ کی آزادی پا کستان کے عوام کو بے حد عزیز ہے ، جس کے لیے عوام نے مثالی قربانیاں بھی دی ہیں اور ہمیشہ عدلیہ کے حقو ق کی جدوجہد کی ہے۔ اس معاملے میں عوام عدلیہ کے ساتھ ہی کھڑے رہے چنا نچہ فوجی آمر وں نے اپنے اپنے دور میں عدلیہ کو زنجیر یں پہنا نے کی سعی بد بہت مر تبہ کی مگر عوامی دباؤ اور بعض اعلیٰ کر دار کے ججز کی بدولت وہ اپنے ان عزائم میں پوری طر ح کا میا ب نہیں ہو سکے ، ماضی میںعدلیہ نے انصاف کے تقاضے پو ری طر ح پورے کئے ہیں جو انصاف کی تاریخ میں سنہری حیثیت کے حامل بھی ہیں۔ سابق آمر صدر ایوب کے دور میںعدلیہ نے درست کر دار اداکیا جس کی ایک مثال جما عت اسلا می پر پابندی لگانے کے مقد مہ کا فیصلہ بھی ہے ، جب ذوالفقار علی بھٹو مر حوم نے کا لعدم نیپ پر پابندی لگا ئی تو اس وقت نیشنل عوامی پا رٹی کے اکا برین سے ایک بھول ہو ئی اور انہو ں نے عدالت پر جانبداری کا الزام لگا کر مقدمہ لڑنے سے انکا ر کر دیا ، گویا انہو ں نے مقدمے کی اہمیت کو سنجید گی سے نہیںلیا اور یک طرفہ فیصلے کی راہ خود ہموار کر دی ،اس طر ح انہوں نے مقدمہ کو سیاسی رنگ میں کھیلا ، بعد ازاں بھٹومر حوم نے بھی اپنے خلا ف نواب محمد احمد کے قتل کے مقدمے میں بھی سیا سی آمیز ش کی ، جس کا نتیجہ ان کو سزائے مو ت کی صور ت میں بھگتنا پڑا ۔ مقدما ت کسی بھی طر ز کے ہو ں ان کے ساتھ سیاسی کھلواڑ نہیں کرنا چاہیے کیو ں کہ سیا ستدان تاریخ ہوتے ہیں وہ تاریخ دان نہیں بلکہ تاریخ نویس ہو تے ہیںیعنی تاریخ کو جنم دیتے ہیں ۔اگر وہ اسی غیر سنجید ہ حرکا ت کامظاہرہ کرتے رہیں گے تو مو جو دہ نسل ممکن ہے کہ ان کا جھانسا کھا جا ئے مگر آئندہ نسل ہر گز معاف نہیں کر ے گی۔ اگر آج پا کستان کے عوام میں سیا ست سے بے ازاری عنصر ابھرا ہے تو اس کی واحد وجہ یہ ہے کہ عوام کا سیا ست پر سے اعتما د لڑکھڑا گیا ہے ، اور وہ سیاست دانوں کی بے جا ، دروغ گوئی کھٹ پٹ پر اتنے بے زار ہو چکے ہیں کہ وہ اب سیا ست سے بے زار ہی لگتے ہیں جو ملک کے لیے مفید نہیںہے۔ جو معاشرہ اپنی سیاست سے کٹ جا تا ہے تو اس کا نقصان ریاست کو ہی پہنچتا ہے ۔ چنا نچہ عدلیہ نہ صرف انصاف فراہم کرنے کا کردار ادا کرتی ہے بلکہ وہ ایک بہترین منصف ہو نے کے ساتھ ساتھ بہترین محتسب کا بھی کر دار ادا کرتی ہے ، اگر جسٹس اعجا ز افضل بروقت جھوٹ کاپو ل نہ کھولتے تو عوام کو بھی معلو م نہ ہوپا تا کہ کو ن سچا ہے اور کون جھو ٹا ہے ۔ علا وہ ازیں ان کے اس انکشاف سے جہاں جھو ٹ کا پو ل کھلا ہے وہا ں ایسے سیا ست دانو ں کو تنبیہہ بھی ہو ئی ہے اورآئند ہ عدالتو ں کے حوالے سے غیر سنجید ہ رویہ اختیار نہیںکر یں گے۔ عوام کو اس حوالے سے جھا نسا نہیں دے پائیںگے اپنی جھو ٹی سیا ست کی دکا ن کو جھوٹے انداز میںنہیںچمکا ئیں گے۔معاشرے میں جر ائم اور برائیا ں ارباب حل وعقد اور بااثر شخصیات کے ہی ذریعے پھیلتی پھولتی ہیں جس میں انصاف کے تقاضوںکا بھی بڑا کردار ہوتا ہے ، چنا نچہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جس معاشرے میں اشرافیہ کے طبقے ، امر اء یا حاکم کا احتساب نہیںہوا بلکہ دہرامعیا ر رکھاگیا کہ ایک ہی جر م میں بے اختیار کو سز ا دی گئی اور بااثر شخص کو مر اعات دی گئیں وہ معاشرہ تباہ ہو گیا ، جس معاشرے میں قانون معاشرے کے ہر طبقہ پر یکساں لا گو رہا تو اس قوم نے کبھی نا کا میوں کا منہ نہ دیکھا اورنہ زوال کا عفریت ان کو نگل سکا ۔اسلا می دنیا کو اس وقت تک عروج حاصل رہا جب تک عوام کو بلاتخصیص انصاف ملتارہا لیکن جب ملو کیت کا رخ اختیار کیا گیا تب انصاف اسلا می ریاستوں سے اٹھ گیا۔ تب سے یہ قوم زوال کا شکا ر ہوگئی۔ آج بھی جو ممالک یا قومیںعروج ثریا پر فائز ہیں اس کی بنیا دی وجہ یہ ہی ہے کہ وہا ں کے عوام کو زندگی کے کسی بھی شعبے میں نا انصافی کی توقع نہیں ہے ۔