بھارت ماتا ، گئو ماتا اور انسان

بھارت ماتا ، گئو ماتا اور انسان

انسانی تاریخ میں بیل اور گائے کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے اور اس کی ضرورت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ یونان ، مصر ، نینوا اور بابل اور سندھ کی موہنجو داڑو تہذیبوں میں اس کا بہت ذکر موجود ہے ، بیل مزدوری یعنی گاڑی کھینچنے اور ہل جو تنے کے لئے اور گائے ڈیری پیداوار کے لئے استعمال ہوتے رہے ہیں اور آج تک ہو رہے ہیں ۔ لیکن گائے اور بیل کب قابل پرستش ٹھہرے اس کے بارے میں طول طویل تفصیلات ہیں اور مئورخین کے درمیان اختلافات بھی موجود ہیں ہندو مذہب و تہذیب میں گائے پوجا کو جتنی اہمیت حاصل ہے ۔ شاید ہی کسی اور مذہب و تہذیب میں ایسی بات پائی جاتی ہو ، اس کی ایک اہم وجہ شاید یہ ہے کہ گائے قدیم زمانے سے انسانی تاریخ میں دولت (مایا) کی علامت سمجھی جاتی ہے ۔ اور ہند و ساہو کار کی فطرت میں مایا کی محبت رچی بسی ہے ۔ چمڑی جائے پر دمڑی نہ جائے ، ایسے تو ضرب المثل نہیں بنی ہے ۔ (ویسے آج کل ہم مسلمان بھی اس سلسلے میں اُن سے کچھ کم نہیں )۔ گائے کی پیداوار مکھن (گھی ) کی وجہ سے اس کو مذہبی اہمیت اس لحاظ سے حاصل ہوئی کہ یجنا (Yajna)پوجا (آگ کی پرستش ) میں گھی کا استعمال ہوتا تھا ، آگ پوجا کو ہندو مذہب کی عبادات میں مرکزی حیثیت حاصل ہے ۔یہ بھی عجیب بات ہے کہ ہندئو گائے کی پوجا نہیں کرتے لیکن اس کو دیوتا کا مقام ضرور دیتے ہیں ۔ ہندو مذہب میں عام طور پر جانور کو تکلیف دینا گنا ہ سمجھا جاتا ہے اور یہ تقریباً سارے مذاہب کی تعلیم ہے ۔لیکن ہندو ''اھمسہ'' کے فلسفہ کے مطابق ہنومان جی ، گائے اور بعض دیگر جانوروں کو پوجا کی حد تک احترام دیتے ہیں ، اسی احترام کے سبب ہندو گائے کا گوشت نہیں کھاتے ۔ کیوں نہیں کھاتے ، گائے کا گوشت کب کھانا منع ہوا ، کس نے کیا ، اس کے بارے میں بھی تاریخ میں تفصیلات ہیں ۔ لیکن عام طور پر دودھ ، مکھن کی پیداوار کے سبب ہندو معاشرے میں گائے کو ماتا (ماں) گئو ماتا کی حیثیت حاصل ہوگئی ۔ ہندو ستان میں گئو کشی کے خلاف پہلی منظم تحریک 1870ء میں سکھوں کے پنجاب میں شروع ہوئی تھی پھر 1882ء میں ہندوئو ں کے مذہبی سکالر اور رہنما دیا نند سرسوتی نے گائے کے تحفظ کے لئے باقاعدہ ایک کمیٹی تشکیل دی ۔ اور مسلمانوں کو پہلی دفعہ گائے کے ذبیحہ کے خلاف دھمکیاں دیں۔ مہاتما گاندھی نے گائے کے تحفظ کے حوالے سے بڑی عجیب مگر گہری بات کہی تھی جسے ہندوئو ں کے ہاں آج ایک زریں قول کے طور پر لیا جاتا ہے ۔ ''میں انسان کو گائے کے لئے اور گائے کو انسان کے لئے قتل نہیں کروں گا ''اس کو چانکیہ کا فلسفہ کہا جاتا ہے ۔ حالانکہ ایک ہندو محقق مئورخ ڈاکٹر جاہ مذہبی مخطوطات اور متون کی روشنی میں لکھتا ہے کہ کہ گائے کا تقدس محض ایک متھ (Myth)ہے ورنہ ہند و قدیم زمانے میں گائے کا گوشت کھاتے رہے ہیں ۔ ایک امریکی دانشور ونڈی ڈونیگر لکھتے ہیں کہ ہندوئو ں نے گائے کو ہر وقت مقدس نہیں جانا ہے بلکہ ہندو بعض گائے کو مارتے بھی ہیں اور بھوکا بھی رکھ لیتے ہیں ۔ لیکن گائے کو جدید تاریخ میں جو تقدس حاصل ہوا اس میں مہاتما گاندھی کا بہت بڑا کردار ہے ۔ اُنہوں نے ایک دفعہ کہا کہ ''ہندو ازم کی بنیادی حقیقت گائے کا تحفظ ہے ۔ '' آج ہندوستان کے انتہا پسند ہندوئوں نے گائے کوہائی جیک کر لیا ہے ۔بی جے پی کے انتہا پسندوں نے اسے آج کل مسلمانوں اور عیسائیوں کے خلاف دہشت گردی اور فسادات کے لئے ایک بہانہ بنا یا ہے ۔ شیوسینا کے متعصب و تنگ نظر ہندوئوں نے پورے ہندوستان میں جاسوسی کا جال پھیلا یا ہے کہ جہاں کہیں گائے کا گوشت بیچا اور کھایا جاتا ہو تو ہمیں اطلاع کرو ۔ حالانکہ منافقت اتنی ہے کہ ہندو ستان گائے کا گوشت برآمد کرنے والے تین چار بڑے ممالک میں شامل ہے ۔ کیونکہ اُس سے مایا (دولت ) حاصل ہوتی ہے ۔میں جب ہندوستان کی گزشتہ دو صدیوں کی تاریخ پر نظر ڈالتا ہوں تو دل سے بے اختیار اُن زعمائوں اور رہنما ئوں کے لئے دعا ئیں نکل جاتی ہیں جنہوں نے ہمارے لئے پاکستان حاصل کیا ہے ۔ میں یہ سوچ کر کانپ جاتا ہوں کہ ہم مسلمان تو عید الاضحی پر گائے کی قربانی ضرور دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ گائے کا گوشت روزانہ کی بنیاد پر رغبت سے کھاتے ہیں اگر پاکستان نہ بنتا اور آج کسی طرح بے جے پی کی حکومت مرکز میں ہوتی اور وہ گئو ذبیحہ پر پابندی کا قانون بنا کر لاگو کرواتی تو ہم مسلمان بالخصوص پختون (جو دال بھی بغیر گوشت کے نہیں کھاتے )روزانہ ہندوئو ں کے ساتھ یاتو مار کٹائی کرتے یا عدالتوں اور جیلوں کے چکر کاٹتے ۔آج مقبوضہ کشمیر میں بد ترین ظلم روا ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں رونما ہور ہی ہیں لیکن اقوام متحدہ ، انسانی حقوق کی تنظیمیں ، این جی اوز ، سول سو سائٹی ، اور بالخصوص او ۔ آئی ۔ سی کو سانپ سونگھ گیا ہے ۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ سعودی عرب ، انڈونیشیا ، ایران اور بالخصوص پاکستان سفارتی سطح پر طوفان کیوں بر پا نہیں کرتے ۔ ایسا ظلم و ستم دنیا کے کسی اور خطے میں مسلمانوں کے ہاتھوں ہوتا تو امریکہ بہادر اور یورپ کب کی اقتصادی پابندیاں لگوا دیتے ۔اے مسلمانان عالم ! خواب غفلت سے بیدارہوجائو ۔ تم عرصہ محشر میں ہو تمہار واسطہ ان اقوام سے ہے جہاں جانواروں کے حقوق ہیں لیکن کسی مسلمان انسا ن کی جان اور خون کی کوئی قیمت نہیں ۔

اداریہ