Daily Mashriq

تحفظ کا سوال

تحفظ کا سوال

وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال پر ایک انتخابی جلسے کے موقع پر حملہ اتفاقی واقعہ نہیں۔ اس خطرے سے پانچ روز قبل آگاہ کرنے کے باوجود حملہ آور کو حملے کا موقع نہ دینا حملہ آورکو جلسہ گاہ تک پہنچنے سے نہ روکا جاسکنا اور پہلے سے معلوم خطرے سے نمٹنے کیلئے تیار محافظوں کی موجودگی کے باوجود حملہ آور کو فائرنگ کا موقع ملنا اور نشانے پر گولی داغ دینے میں کامیابی ایک ایسا غیر معمولی واقعہ ہے جس میں محافظوں کی ناکامی اور حملہ آور کی مہارت اور سیکورٹی کے سارے کے سارے انتظامات کو عملی طور پر ہیچ گرداننے میں کامیابی حیرت انگیز اور غیر معمولی ہے۔ مبینہ طور پر ایک گروہ سے منسلک نوجوان کی اس مہارت اور تن تنہا واردات ناقابل یقین امر ہے لیکن یہ واقعہ رونما ہو چکا۔ اگر یہی واقعہ کسی اور وزیر کیساتھ پیش آتا تو اس کی اہمیت تو ہوتی لیکن یہ سوال نہ اٹھتا کہ ملک کے وزیر داخلہ محافظوں کے جھرمٹ میں اگر خطرے میں ہو سکتے ہیں تو باقی ملک میں خطرات اور عدم تحفظ کا کیا عالم ہوگا۔ گوکہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی‘ ایم کیو ایم اور اے این پی کی قیادت کو بری طرح نشانہ بنایا گیا اور 2013ء کے انتخابات میں تقریباً بیس بڑے اور جان لیوا حملے ہوئے لیکن اس وقت پورا ملک دہشتگردی کا شکار تھا۔ دہشتگردوں کی کمر توڑنے میں کامیابی نہیں ہوئی تھی لیکن اب وہ صورتحال نہیں اب تو نہ صرف دہشتگردوں کا صفایا کیا جا چکا ہے بلکہ فاٹا تک میں معاملات بھی سول حکومت کے حوالے ہو رہے ہیں۔ ملک بھر میں آپریشن ردالفساد کے دوران دہشتگردوں اور ان کے سہولت کاروں کا صفایا کیا جا چکا ہے۔ سیکورٹی کے بہتر انتظامات کئے جا چکے ہیں۔ سیکورٹی عملے کی تربیت کیساتھ ساتھ جدید آلات کا بھی استعمال ہو رہا ہے اس ساری صورتحال میں سوال یہ اُٹھتا ہے کہ ان تمام انتظامات واقدامات کو ہیچ ثابت کرکے ایک حملہ آور وفاقی وزیر داخلہ کو گولی مارنے میں کامیاب کیسے ہوجاتا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہوا اس سوال کا جواب دینے والا خود شکار بن کر ہسپتال میں ہے۔ اس واقعے کو مذہبی جذباتیت سے جوڑا جا رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ حملہ آور کون تھا اور اس کے حملے کے مقاصد کیا تھے سوال یہ ہے کہ یہ حملہ ہوا کیسے‘ ایک ایسے وقت میں جبکہ عام انتخابات ہونے جا رہے ہیں حکمران جماعت کی قیادت مشکلات میں گھری ہوئی ہے۔ اگر اس کے رہنماؤں کو حکومت میں ہوتے ہوئے خطرات ہوں تو نگران حکومت کے قیام کے بعد جب اس قسم کا سیکورٹی حصار ان کو میسر نہ ہو تو پھر 2013ء کے انتخابات میں تین بڑی سیاسی جماعتوں کو درپیش خطرات کی صورتحال کے دہرائے جانے کے خدشات کا اظہار بلاسبب نہ ہوگا۔ اگر خدانخواستہ اس قسم کی صورتحال ہوتی ہے کہ 2013ء کی طرح کوئی سیاسی جماعت کو محض سیکورٹی خطرات کے باعث بھرپور انتخابی مہم چلانے کا موقع نہ مل سکے تو اس تاثرکا اظہار غلط نہ ہوگا کہ تمام دعوؤں کے باوجود انتہا پسندی کا جادو سر چڑھ بول رہا ہے اور شہری اسی طرح غیر محفوظ ہیں جیسا آپریشن ضرب عضب اور آپریشن ردالفساد سے قبل تھے۔ عوامی نمائندوں‘ سیاستدانوں اور مذہبی وسماجی رہنماؤں‘ سول سوسائٹی کے اراکین‘ میڈیا ورکروں خواہ جس کو بھی نشانہ بنانے کیلئے گولی چلے تو لامحالہ ملک کے عوام کا زخمی ہونا فطری امر ہوتا ہے۔ عدم تحفظ کا احساس خواہ جس ذریعے اور جو صورتحال پیدا کرکے کیا جائے اس سے عوام ہی زخمی اور متاثر ہوتے ہیں۔ اس سے ملک کا نظام اور ملک کے ادارے زخمی اور عدم اعتماد کے اظہار کے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ اس قسم کی صورتحال کی بھاری قیمت ملک وقوم کو ادا کرنی پڑتی ہے اور ملک کا وقار داؤ پر لگ جاتا ہے۔ شاید اس قسم کے منصوبہ سازوں کا منصوبہ مقصد اور مدعا بھی یہی ہوگا کہ وطن عزیز کو خطرات میں گھرا اور سرمایہ کاری کیلئے پرخطر ملک بنا دیں۔ گوادر پورٹ کے قیام سے لے کر سی پیک تک کی منزل کی راہ میں کیا کیا کانٹے بچھائے گئے‘ کتنی ہی سازشیں اور غارت گری کے منصوبے سامنے آئے‘ کتنے منصوبوں اور سازشوں کو ناکام بنایا گیا، کراچی میں خون کی کس قدر ہولی کھیلی گئی، اس سارے عمل کے پیچھے فوج ‘ سول انتظامیہ اور عوام سبھی کی بے مثال قربانیاں ہیں جس کے طفیل حاصل شدہ ثمرات اب ایک مرتبہ پھر خطرات سے دوچار دکھائی دینے لگے ہیں۔ اس طرح کے لمحات یقیناً ہر محب وطن پاکستانی کیلئے ناقابل برداشت اور شدید تکلیف کا باعث ہیں۔ ہم بار بار یہی سنتے آرہے ہیں اب جنگوں کا طریقہ کار بدل چکا ہے۔ سائبروار اور عدم استحکام وتخریب کی سازشوں کا دور ہے۔ وطن عزیز میں ایسے عناصر اُٹھ کھڑے ہوئے ہیں جو عوام میں منافرت اور پاک فوج کو عوام کا حقیقی محافظ نہ ہونے کا تاثر ہی نہیں دے رہے ہیں بلکہ للکارنے کی ہمت کرنے لگے ہیں۔ سمجھ نہیں آتی کہ کیا ہو رہا ہے اور کیا ہوگا۔ جہاں تک انتخابی مہم کی بات ہے اس کو محفوظ بنانا اب موجودہ اور بعد ازاں نگران حکومت کی ذمہ داری ہے اور ملک میں پُرامن سیاسی ماحول اور انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن سمیت سیکورٹی کے تمام اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اس طرح کی نوبت نہیں آنی چاہئے کہ خدانخواستہ ایسے واقعات پیش آئیں جن کے نتیجے میں انتخابات کے التواء کی افواہوں کو تقویت ملے۔ سیاستدانوں کو نشانہ بنا کر ملک میں سیاست کو پرخطر کھیل بنانے کی فی الوقت کوئی ظاہری صورت اور امکان تو نظر نہیں آتا لیکن ہم سانپ کے ڈسوں کا خوف فطری ہے۔ الیکشن ایکٹ 2017ء کی منظوری کے دوران مبینہ طور پر ختم نبوتؐ کے حلف نامے میں تبدیلی کے معاملات طے شدہ ہیں اس کو اگر اب شدت پسند عناصر سیاسی عناصر کا راستہ روکنے کیلئے استعمال کریں گے تو اس کا نہ صرف پوری طرح مقابلہ کرنے کی ضرورت ہے بلکہ اس قسم کے عناصر کیخلاف پوری قوم کو متحد ہوجانا چاہئے۔ اس ضمن میں اگر کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی تھی تو وہ دور کر لی گئی تھی۔ اسلام میں غلطی کی تصحیح کی پوری گنجائش ہوتی ہے اور پارلیمنٹ میں مذہبی ودینی جماعتوں کی موجودگی اور علماء کی رہنمائی میں ایک نیم دینی سیاسی جماعت سے یہ توقع نہیں رکھی جاسکتی کہ اس کی جانب سے خدانخواستہ گستاخی کی کوئی شعوری کوشش کی گئی تھی۔ بہرحال جو کچھ بھی تھا وہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے پاچکا تھا جسے فساد فی الارض کیلئے استعمال کرنا کسی طور بھی خاتم النبیینﷺ کے حقیقی پیروکاروں کے شایان شان عمل نہیں۔ اسلام میں پوری طرح کسی مسلمان کی جان کی حرمت مقدم رکھنے کی تعلیم ملتی ہے۔ عفو ودرگزر اصلاح اور توبہ کا دروازہ کھلا ہونے کی ترغیب ملتی ہے۔ اس کے باوجود بھی اگر اصرار وضد کا مظاہرہ کیا جائے تو یہ اپنے مقاصد کیلئے ختم نبوتؐ کے معاملے کو ڈھال بنانا ہی قرار پائے گا۔ ملک میں پُرامن انتخابات کا انعقاد اور ہر کسی کو مساوی طور پر انتخابی مہم چلانے کی آزادی وتحفظ کا مکمل بندوبست ہی ملکی استحکام کی ضمانت ہوگی جسے یقینی بنانے پر من حیث القوم سعی وتوجہ کی ضرورت ہے۔

اداریہ