Daily Mashriq

بی آر ٹی مشکلات وتفکرات

بی آر ٹی مشکلات وتفکرات

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک بی آر ٹی کی ادھوری ٹیم کیساتھ بھی پُرعزم ہیں کہ یہ منصوبہ اگلے دو ماہ میں مکمل ہوجائے گا۔ دوسری جانب ان کی مدت اقتدار کی پچیس دنوں کی قربانی دینے والی اتحادی جماعت کے خیبر پختونخوا کے امیر سینیٹر مشتاق احمد خان کو خیال آیا ہے کہ بی آر ٹی کے قرضوں کا خمیازہ آئندہ نسلیں بھگتیں گی۔ علاوہ ازیں بی آر ٹی میں تاخیر کے باعث تاجروں نے عیدالفطر کے بعد احتجاجی تحریک کی دھمکی دے دی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ منصوبے کے باعث تاجروں کا کاروبار ٹھپ ہو کر رہ گیا ہے۔ تاجر برادری نے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بی آر ٹی کے اعلیٰ افسران کے استعفوں سے حکومت کی کارکردگی کا پول کھل گیا ہے۔ حکومت‘ ایک سیاسی جماعت اور تاجروں کے ایک معاملے پر مختلف الخیالی اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تازہ صورتحال میں نہ صرف بی آر ٹی کی جلد تکمیل کاخواب ہی ادھورا رہ گیا ہے بلکہ بی آر ٹی منصوبے کی تکمیل میں مزید وقت لگنے کا امکان بھی بڑھ گیا ہے جو شہریوں اور تاجروں سبھی کیلئے نہایت پریشان کن صورتحال ہے۔ بی آر ٹی کے منصوبے کی منصوبہ بندی ہی غلط نہیں ہوئی بلکہ دوران تعمیر اس میں سامنے آنیوالی غلطیوں‘ تبدیلیوں اور بلا سوچے سمجھے منصوبہ شروع کرنے کے جن معاملات کا اس وقت دبے لفظوں میں تذکرہ ہونے لگا ہے اس صورتحال سے تو خدشہ اس امر کا ہے کہ یہ منصوبہ ہی کہیں ناکام نہ ہوجائے۔ ہمیں وزیراعلیٰ کے عزم پر پورا اعتماد ہے لیکن برسر زمین حقائق کا ان عزائم سے میل نہ کھانے کی صورتحال کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ دعوؤں اور عزم کے اظہار کی روشنی میں دیکھا جائے تو اب تک بی آر ٹی کا افتتاح ہو جانا چاہئے تھا مگر ابھی تک اس کا بمشکل پچاس فیصد ہی کام مکمل ہو پایا ہے۔ جہاں تک اب امیر جماعت اسلامی خیبر پختونخوا کے بی آر ٹی کے قرضے ہمارے نسلوں کے ادا کرنے کے مژدے کا سوال ہے اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ اگر واقعی یہ اس قدر خسارے کا منصوبہ تھا تو بطور اتحادی جماعت‘ سینئر وزارت بلدیات اور وزارت خزانہ کے قلمدان کی حامل اتحادی جماعت ہونے کے ناتے جماعت اسلامی نے اس وقت عوام کو آگاہ کرنے کی زحمت کیوں نہ کی اور مضبوط اتحادی جماعت ہونے کے ناتے غلطی کا ارتکاب کرنے پر حکمران اتحادی جماعت کو بزور قوت اور زبان سے روکنے کا ایمانی کردار کیوں نہیں نبھایا؟ جہاں تک تاجروں کی مشکلات کا سوال ہے اس بارے دو رائے نہیں کہ خیبر پختونخوا کے تاجروں نے بالعموم اور پشاور کے تاجروں نے بالخصوص پہلے دہشتگردی کے باعث سخت نقصان اُٹھایا اور کاروبار بحال ہوتے ہوتے بی آر ٹی کی زد میں آگئے صرف یہی نہیں شہر کے مرکزی علاقوں سے بعض تاجروں کو رنگ روڈ منتقل ہونے اور وہاں ازسرنو کاروبار مضبوط کرنے کی تگ ودو کرنا پڑی جو ایسا نہ کرسکے۔ ان کو خسارے کے باعث جیب سے مصارف کرنے کے باعث مشکلات ہیں جبکہ پشار کی ثقافتی بحالی کے منصوبے سے بھی تاجر برادری متاثر ہوئی۔ اگرچہ اب کاروباری حالات تیزی سے بہتری کی طرف گامزن دکھائی دے رہے ہیں لیکن باوجود اس کے جب تک یہ منصوبہ مکمل نہیں ہوتا اور حالات معمول پر نہیں آتے تب تک شہرکے عوام اور کاروباری طبقے کی مشکلات کے حل اور ازالے کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اندریں حالات جتنا جلد ہوسکے شہر میں ٹرانسپورٹ‘ سڑکیں اور کاروبار کی بحالی کیلئے دن رات ایک کئے جائیں۔ نگران حکومت کا بھی یہ بڑا امتحا ن ہوگا کہ وہ اس صورتحال سے نکلنے کیلئے کیا اقدامات کرتی ہے۔ وزیراعلیٰ پرویز خٹک باقی مدت اقتدار اگر ساری توجہ بی آر ٹی پر مرکوز کرے تو زیادہ بہتر ہوگا۔

اداریہ