Daily Mashriq


پشتبان کون ہے؟

پشتبان کون ہے؟

وہ ایک ایسی ماں کے سپوت ہیں جن کے متبحرالعلم ہونے کا ایک زمانہ معترف ہے، وہ صرف عالمہ فاضلہ نہیں تھیں بلکہ ایک ایسی باعمل خاتون تھیں جنہوں نے پاکستان کے عوام کی لاجواب خدمت انجا م دی۔ انہوں نے قوانین کے اسلامی ڈھانچے میں ڈھلنے کیلئے نہ صرف دن رات کام کیا بلکہ بے بدل خدمات انجام دیں۔ وہ اسلامی شعار کی خاتون تھیں، اسمبلی میں بھی شرعی لباس کیساتھ اور باپردہ شریک ہوتی تھیں۔ اس تاریخی خاتون کو سبھی عزت وتوقیر کیساتھ آپا نثار فاطمہ کہہ کر پکارتے، مرحومہ نے نہ صرف دین اسلام کی بے مثل خدمت کی بلکہ اپنی اولاد کی زندگی بھی اسلامی شعار کے مطابق ڈھالنے کیلئے ان کی تربیت وتعلیم میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ان کی اس تربیت کے نتیجے میں پاکستان کو احسن اقبال کی صورت میں ایک اکل کھرا انسان ملا جس کا ماضی بھی بے داغ رہا۔یہ ہی وجہ تھی جب یہ اطلاع ملی کہ ناروال میں ایک جلسہ میں ان پر قاتلانہ حملہ ہوا، سبھی حیران وپریشان ہوگئے کہ ایسے مرنجان مرنج، نیک سعید شخص کی جان کا بھی کوئی دشمن ہو سکتا ہے، یہ سانحہ پورے پاکستان کیلئے باعث تشویش بنا اور فکر لاحق ہوئی کہ وہ کون سے عوامل تھے جس کی بناء پر ایک غیر معروف ہاتھ نے ان کی جان لینے کیلئے گولیاں برسائیں، گو مبینہ قاتل رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا ہے اور ابتدائی طور پر اس کا جو بیان آیا ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس ناہنجار نے ایک محب وطن اور سلجھے ہوئے سیاستدان کی زندگی کا خاتمہ ختم نبوتؐ کے پس منظر میں کرنے کی قبیح حرکت کے ذریعے کیا جو تسلیم کرنے کے قطعی قابل نہیں ہے، کیونکہ تحریک ختم نبوتؐ سے ان کا کوئی واسطہ نہ تھا اور ختم نبوتؐ کے بارے میں ان کا عقیدہ روز روشن کی طرح سب پر عیاں ہے، وہ کھرے مسلمان ہیں، کسی فرقہ پرستی سے بھی ان کا کوئی علاقہ نہیں ہے اسلئے زیادہ امکان اس امر کا ہے کہ مبینہ مجرم کا ابتدائی اعترافی بیان اصل سازش پر پردہ ڈالنا ہے۔

حالات وواقعات کے پس منظر میں جائزہ لیا جائے تو یہ نظر آتا ہے کہ احسن اقبال پر حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا کہ جب ملک میں عام انتخابات کا اعلان ہونے میں دو سے تین ہفتے کی دوری رہ گئی ہے، ہو سکتا ہے کہ اس دوری کو بڑھوتی دینے کیلئے ملکی حالات کو غیر یقینی بنانے کی طرف کوئی قدم ہو تاکہ افراتفری پھیل جائے اور عام انتخابات کی تاریخ سبوتاژ ہو کر رہ جائے یا مسلم لیگ ن کی انتخابی مہم کو ہی محدود کر دیا جا ئے لیکن یہ سب لوگوں کی طرف سے امکانات ہی ہیں، اس بارے میں کوئی حتمی رائے متعین نہیں کی جا سکتی جب تک متعلقہ ایجنسیاں صحیح طور پر پوچھ تاچھ نہ کر لیں لیکن یہ حقیقت ہے کہ کچھ طاقتیں جن میں بیرونی عناصر کا بڑا کردار ہے وہ پاکستان کو افراتفری کی لپیٹ میں مبتلا کرنے کی تگ ودو کر رہی ہیں۔احسن اقبال اسلئے بھی اہم ہیں کہ وہ بظاہر ملک کی ایک اہم وزارت جو ملک میں امن وامان کی ذمہ دار ہے یعنی داخلہ امور کی پاسدار ہے اور اس حملے کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام جاتا ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریا ست ہے کہ جو شخص ملک میں امن وامان کو مستحکم رکھنے کا ذمہ دار ہے خود اس کی زندگی خطرات سے دوچار ہے تو ایسے ملک کا مستقبل کیا ہو سکتا ہے، یہاں اس بات کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ احسن اقبال کے پاس صرف وزارت داخلہ کا قلمدان نہیں ہے وہ منصوبہ بندی کا بھی قلمدان سنبھالے ہوئے ہیں جس کے تحت انہوں نے پاکستان چین راہداری منصوبے کیلئے اہم ترین کردار ادا کیا ہے بلکہ اس کے ذریعے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کیلئے لاجواب خدمات انجام دی ہیں، سی پیک کی تکمیل میں اس وقت جتنی بھی تیز رفتاری ہے وہ سب احسن اقبال کی مرہون منت ہے۔ اس منصوبے سے بعض عناصر جلاپا ہیں جس میں بھارت اور کچھ مغرب سے تعلق رکھنے والے بھی ہیں جو اس کاوشوں میں مگن ہیں کہ سی پیک کا منصوبہ کسی طور اپنی تکمیل کو نہ پہنچے چنانچہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کا ایک پہلو یہ بھی ہو سکتا ہے چنانچہ احسن اقبال پر قاتلانہ حملے کو صرف ایک مذہبی جذبات کی کہانی کے طور پر نہیں لیا جا سکتا اس کے اور بہت سارے پہلو بھی ہیں ان پر بھی چھان بین کی ضرورت ہے کیونکہ پاکستان میں کئی عناصر اپنا اپنا کھیل کھیل رہے ہیں اور یہ جاننا ضروری ہے کہ ایسے کھیلوں کا پشتبان کون ہے تاکہ پاکستان محفوظ ہاتھوں میں رہے۔بعض سیاستدانوں کا رویہ بھی عجیب ہے ان کو اپنی سیاست سے اتنی گہرائی تک وابستگی ہے کہ وہ صرف اپنے سیاسی مفادات کی چکی کے پاٹ بنے ہو ئے ہیں، ایک سیاستدان تو پیرنی کی روحانیت کا اثر لئے اس حد تک سیاسی مفادات کی نذر ہو گئے ہیں کہ ان کو مستقبل کا کچھ سوجھائی ہی نہیںدے رہا ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ انتخابات وقت مقررہ پر ہونے چاہئیں، کبھی ان کا موقف ہوتا ہے کہ شاید دو ماہ کیلئے ملتوی ہو جائیں، بہرحال وہ پیشن گوئیوں پر آئے ہیں، اس کیساتھ ہی یہ بھی چل رہا ہے کہ سیاستدان ملک نہیں چلا سکتے چنانچہ ملک تین سال کیلئے ہنر مند افراد کو لیز کر دیا جائے وہ حالات کو سنبھالا دے دیں گے، اس کے بعد انتخابات کرائے جائیں گے، مگر یہ کوئی نہیں پوچھ رہا ہے کہ اگر یہ ہنرمند ہیر ے ایسے ہی ناسفتہ بہ ہیں تو تین سال کی لیز کیا معنی رکھتی ہے، اگر تین سال بعد انتخابات کرائے جائیں گے تو یہ بھی بتا دیا جائے کہ ان انتخابات کے گھوڑوں پر بیٹھ کر سیاستدانوں نے ہی آنا ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ ہنر مند افراد کی فہرست ہنوز منظر پر نہیں آئی جبکہ اپنے علم، تربیت اور تجربے کی بنیاد پر احسن اقبال بھی ہنر مندوں کی فہرست میںجگہ پاتے ہیں۔ خیر اسے چھوڑئیے میڈیا پر بار بار جس کا نام ایک ہنر مند کی حیثیت سے لیا جا رہا ہے وہ راحیل شریف ہیں۔ معلوم نہیں حکومت چلانے کی ہنرمندی ان کے پاس کس طور آگئی ہے، وہ ایک مرد مجاہد ہیں، ان کا ہنر ملک کا دفاع ہے سیاست سے ان کو کیا غرض ہے، ملک چلانا سیاستدانوں کا کام ہے جس کا مطلب واضح ہے کہ حکومتی امور سیاست سے علاقہ رکھتے ہیں۔

متعلقہ خبریں