Daily Mashriq

احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ

احسن اقبال پر قاتلانہ حملہ

وزیر داخلہ احسن اقبال نارووال میں ایک کارنر میٹنگ کے بعد کئے گئے حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔ احسن اقبال اپنے حلقے نارووال کے علاقے کنجروڑ میں مسلم لیگ ن کی ایک کارنر میٹنگ میں شریک تھے۔ مقامی پولیس اہلکار کے مطابق یہ کارنر میٹنگ احسن اقبال کے آبائی گاؤں کے قریبی علاقے میں ہو رہی تھی جہاں وفاقی وزیر مسیحی برادری سے خطاب کر رہے تھے۔ مقامی ایس ایچ او شہباز احمد کے مطابق جیسے ہی کارنر میٹنگ ختم ہوئی وہاں موجود ایک شخص نے ان پر گولی چلائی جس سے وزیر داخلہ زخمی ہو گئے۔ حملے کے بعد احسن اقبال کو ضلعی ہسپتال نارووال منتقل کیا گیا۔ احسن اقبال کے بیٹے احمد اقبال نے مقامی ٹی وی چینل کو بتایا کہ احسن اقبال کی حالت خطرے سے باہر ہے اور وہ ہوش میں ہیں۔وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایک ٹی وی چینل سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ حملہ آور کی فائرنگ سے احسن اقبال کے دائیں کندھے پر گولی لگی۔ پولیس نے حملہ آور کو حراست میں لے لیا ہے۔ صوبائی ترجمان ملک احمد خان کے مطابق حملہ آور کا نام عابد ہے اور وہ قریبی گاؤں کا رہائشی ہے۔ طلال چوہدری کے مطابق مشتبہ حملہ آور کی عمر 20 سے 22 سال ہے۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے وزیر داخلہ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے آئی جی پنجاب سے اس واقعے کی رپورٹ طلب کی ہے۔احسن اقبال ان مسلم لیگی رہنماؤں میں شامل ہیں جو نواز شریف کے بہت قریب ہیں اور ان کے اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ کو آگے لے کر چل رہے ہیں۔ ان سے پہلے چوہدری نثار وزیر داخلہ تھے جو اپنے خاندانی پس منظر کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جاتے ہیں بلکہ اس تعلق پر وہ فخر کا اظہار بھی کرتے ہیں اور نواز شریف سے کئی بار درخواست بھی کر چکے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمنٹ کیخلاف اپنے بیانیہ پر نظرثانی کرتے ہوئے اس معاملے میں لچک کا مظاہرہ کریں۔ اس حوالے سے چوہدری نثار احسن اقبال پر بھی ان دنوں تنقید کرتے نظر آئے جب بطور وزیر داخلہ انہوں نے چوہدری نثار کے کچھ فیصلوں پر حرف زنی کی۔ یوں اگر یہ کہا جائے کہ نواز شریف نے جان بوجھ کر ایک ایسے ساتھی کو وزارت داخلہ کا قلمدان سونپا جو دل وجان سے ان کے بیانیئے کیساتھ ہے تو غلط نہ ہوگا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نیب کا سورج پنجاب پر چمک رہا ہے اور تکنیکی طور پر یہ بات درست بھی ہے کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کو ساتھ رکھنے کیلئے سندھ میں ہونے والی کرپشن سے اغماض برتا جا رہا ہے۔ نیب کراچی کی طرف سے اس بات کی تصدیق کہ فریال تالپور پر سارے الزامات جھوٹے ثابت ہونے کے بعد انہیں کلین چٹ دے دی گئی ہے اس سوچ کی تائید ہے کہ صرف فریال تالپور ہی نہیں پیپلز پارٹی کے اور اہم لوگوں کیساتھ بھی نیب سندھ خاصی رعایت برت رہا ہے جبکہ پنجاب میں وہ کشتوں کے پشتے لگا رہا ہے۔ یقینی طور پر یہ سب کچھ ایک منصوبے کے تحت ہوتا ہوا نظر آ رہا ہے تو پھر نوازشریف یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ پھر کوئی خلائی مخلوق ہی چیزوں کو ادھر ادھر کر رہی ہے اور سینیٹ کے الیکشن میں آصف زرداری کے دل میں یکایک بلوچستان کی جو محبت جاگی وہ محض اتفاق نہیں بلکہ کسی ڈیل کا شاخسانہ تھی کیونکہ یہ اگر جینوئن محبت ہوتی تو آصف زرداری اپنے دور اقتدار میں وزیراعظم بلوچستان سے لے کر آتے یا رضاربانی کی جگہ چیئرمین سینیٹ بلوچستان سے لے آتے۔پیپلز پارٹی پر جو عنایات ارزاں نظر آرہی ہیں وہ بے سبب نہیں ہیں۔ کنگ میکرز یا تو عمران خان کو بھی دباؤ میں رکھنا چاہتے ہیں یا تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی کے درمیان تعاون کی فضا پیدا کر کے ہر قیمت پر مسلم لیگ ن کو حکومت سے باہر رکھنا چاہتے ہیں۔ آج اگرچہ عمران خان یہ کہہ رہے ہیں کہ کسی بھی جماعت کیساتھ مل کر حکومت نہیں بنائیں گے مگر سیاستدان کی کہی ہوئی بات کب حرف آخر ہوتی ہے۔ سیاست تو ناممکنات کو ممکن بنانے کا فن ہے۔ کل الیکشن میں خاطر خواہ سیٹیں لے کر، مگر حکومت سازی میں مشکلات کو دیکھ کر وہ یہ بھی تو کہہ سکتے ہیں کہ ملک اور قوم کے وسیع تر مفاد میں وہ بوجھل دل کیساتھ پیپلز پارٹی سے مل کر حکومت بنا رہے ہیں۔یہ بڑی دلچسپ صورتحال ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کیلئے ایک وقت میں کوئی پارٹی اگر سیکورٹی رسک ہوتی ہے تو بدلے ہوئے حالات میں اسی پارٹی کے سر پر اقتدار کا ہما بھی بٹھا دیا جاتا ہے۔ پیپلز پارٹی اس کی واضح مثال ہے۔ بینظیر بھٹو کوہمیشہ سیکورٹی رسک سمجھا لیکن ایک سے زیادہ بار اسے اقتدار دیا بھی۔ سو اس تناظر میں ایک اندھے کو بھی نظر آرہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی اینٹ سے اینٹ بجانے والے اور عدلیہ کو بھٹو کا قاتل قرار دینے والے زرداری یکایک اداروں پر اتنے مہربان کیوں ہو گئے ہیں؟ تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے اور عمران خان یقینی طور پر فکرمند ہوں گے کہ اگرآصف زرداری کیساتھ مل کر ہی کرپشن کیخلاف جہاد کرنا تھا تو تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے کرپشن فری پاکستان کا نعرہ لگایا ہی کیوں تھا۔احسن اقبال پر جس نے بھی گولی چلائی اس نے مسلم لیگ ن اور اداروں کے درمیان مصالحت کو مزید مشکل کر دیا ہے کیونکہ ہماری اطلاعات کے مطابق حکومتی سطح پر بھی اس بابت سوچا جا رہا تھا اور غالب امکان تھا کہ وزیراعظم عباسی اس حوالے سے قدم بڑھاتے۔ سو اس نہج پر بھی سوچا جائے کہ کہیں انٹرنیشنل اسٹیبلشمنٹ یا کوئی اور شرپسند قوت فاصلوں کو قائم رکھ کر کہیں پاکستان کو نقصان تو نہیں پہنچانا چاہتی؟

اداریہ