Daily Mashriq


پاکٹ گائیڈز کی سرعام فروخت

پاکٹ گائیڈز کی سرعام فروخت

پشاور شہر میں سعید بک بنک اور چند ایک دوسرے شوروم ہی تو تھے لیکن پورے شہر اور دوسرے علاقوں کیلئے ان کی ایک اہمیت ضرور تھی کہ جو کتاب تلاش کرو مل ہی جایا کرتی تھی۔ گزشتہ دنوں ایک تحقیقی کام کے سلسلے میں چند کتابوں کی تلاش میں پریشان بھی رہے اور سرگردان بھی۔ بالآخر پرانی کتابوں کے بازاروں کے چکر لگنے شروع ہوگئے۔ ہمارے بچپن میں پشاور کے ایک علاقہ جوگیواڑہ میں ایک پرانی کتابوں کی دکان تھی، جس کا مالک بختاور شاہ شاید ان پڑھ ہی تھا لیکن کتابیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لاتا تھا۔ کتاب دوست وہاں آتے اور اپنی مرضی کی کتاب لے جاتے تھے۔ ہمارا چونکہ بچپن تھا اور ہماری دلچسپی ظاہر ہے کہانیوں سے تھی۔ پھپھو کا گھر اسی محلے میں تھا، تقریباً روز اس دکان کے سامنے سے گزرنا ہوتا۔ یونہی چند منٹوں کیلئے دکان کے تھڑے پر کھڑے ہوکر کتابوں کے نام پڑھ لیا کرتے تھے۔ صدر میں بھی ایسا ہی ایک کتابوں کا کباڑی بازار موجود ہے جو اب بھی لوگوں کی پیاس بجھاتا ہے۔ 2003 میں جب میری پہلی کتاب چھپی تو چند دن بعد ہی میں اور پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر سہیل احمد کسی کتاب کی تلاش میں تھے کہ سہیل نے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا، وہاں میری دو نئی نویلی کتابیں پڑی تھیں دینے والوں کے نام بھی ویسے ہی لکھے تھے۔ میں نے اپنی ہی ایک کتاب آدھی قیمت پر خرید لی تھی۔ سہیل احمد نے پوچھا بھی کہ دوسری کیوں نہ خریدی مگر میں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ چند دن بعد اسی دکان پر ہم دونوں گئے تو وہ کتاب وہاں نہیں تھی، دکاندار نے بتایا کہ وہ بک گئی ہے۔ تب میں نے سہیل کو بتایا کہ جب کوئی کتاب کباڑی تک پہنچتی ہے تو وہ اپنا سرکل مکمل کر چکتی ہے۔ اپنی کتاب کو خریدنا اس کے پہلے چکر کو ختم کرنے پر گلے لگانے جیسا تھا جبکہ دوسری کتاب کو وہیں چھوڑنا اس کتاب کو دوسرے چکر کیلئے تیار کرنا تھا۔ میں نے جس کو کتاب ہدیہ کی تھی اس نے اسے پڑھ کر یا کباڑ سمجھ کر بیچ دیا لیکن اب جس نے کباڑی سے وہ کتاب خریدی ہوگی وہ سچ مچ اس کتاب کو پڑھے گا کیونکہ اس نے اس کباڑخانے میں ہزاروں کتابیں چھوڑ کر میری کتاب کا انتخاب یونہی نہیں کیا۔ خیر بات تو ہم جوگیواڑہ پشاور کے سیکنڈ ہینڈ کتب خانوں کا کر رہے ہیں۔ جہاں ہمیں چند ناگزیر کتابوں کی تلاش تھی۔ آخری دکان پر ایک نوجوان سے ٹوٹے ہوئے دل سے پوچھا تو اس نے فوراً چار میں سے دو کتابیں نکال کر پیش کر دیں۔ میرا کام ان دو کتابوں سے بھی چل سکتا تھا۔ شکریہ بھی ادا کیا اور چھ سو روپے بھی ادا کئے لیکن جب دکان سے نکلنے لگے تو دکان میں ایک جانب پاکٹ سائز گائیڈوں کا ڈھیر پڑا تھا جبکہ آج کل انٹرمیڈیٹ کا امتحان چل رہا ہے۔ مجھے شدید کوفت ہوتی ہے جب پاکٹ گائیڈز کو دیکھتا ہوں۔ کسی مضمون کا خلاصہ یا گائیڈ چلو بچہ پڑھ تو لے گا لیکن اس پاکٹ گائیڈ کا تو صرف ایک ہی مصرف ہے کہ اس میں درج تحریر کو بچہ امتحانی ہال میںہی پڑھے گا اور اسی وقت پرچے پر لکھنے کی کوشش کرے گا۔ گویا عیدالاضحی کے قریب جیسے گلی محلوں میں چھریاں، ٹوکے، سیخیں اور انگھیٹیاں، گھاس اور ونڈے وغیرہ کے اسٹال دکھائی دیتے ہیں ایسے ہی امتحان کے دنوں ہر دکان پر آپ کو پاکٹ گائیڈ ملے گی۔ میں اس دکاندار سے اُلجھ پڑا کہ تم نے یہ گائیڈز کیوں رکھی ہیں۔ وہاں موجود دو نوجوان مجھے پاگل یا سنکی سمجھ کر زیرلب مسکرانے لگے۔ یقینا میں کسی کے کاروبار اور ذاتی معاملات میں دخل اندازی کا مرتکب ہو رہا تھا۔ میں خجل ہوکر کتاب اسی دکان پر چھوڑ کر نکل آیا اور سوچنے لگا کہ ہمارے معاشرے میں کتاب تو ہماری زندگی سے تقریباً نکل ہی چکی ہے مگر اس کا نعم البدل آیا بھی تو پاکٹ گائیڈ، وہ بھی امتحان سے ایک دن پہلے خرید لی جائے اور اس میں مطلوبہ مواد دیکھ لیا جائے تاکہ بوقت ضرورت کام آئے۔ ہمارے ہاں برائی کو اس کے آخری پڑاؤ پر روکنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جیسے کوئی ایک سگریٹ چرس کیساتھ دھر لیا جائے۔ یقیناً وہ مجرم تو ہے لیکن یہ بھی تو سوچئے کہ اس کے پاس یہ ایک سگریٹ کی چرس کیسے پہنچی اس کے پیچھے کیا کیا مافیا کار فرما ہیں اس پر کوئی نہیں سوچتا۔ پاکٹ گائیڈ دراصل ہمارے سسٹم کی پیداوار ہے۔ ہمارا تعلیمی سسٹم ریزلٹ کا تابع ہے سو پاس ہونا اور نمبر لینا ہی اہم ہے۔ نہ تو والدین، نہ ہی اساتذہ اور نہ ہی ادارے اس جانب دھیان دیتے ہیں کہ علم حاصل کرنا یا علم دینا کیا معنی رکھتا ہے۔ سب کو رزلٹ کی ہی پڑی ہوتی ہے اور اچھے نمبروں سے مستقبل کے راستے کھلتے ہیں۔ اسلئے امتحان پاس کرنا ہی مطمح نظر ٹھہرتا ہے۔ یہ کوئی نہیں سوچتا کہ میرا بچہ بارہ، چودہ یا سولہ برس پڑھ کر بھی امتحان میںجانے کیلئے گائیڈز کا سہارا لیتا ہے تو پھر اس بچے کیساتھ جو گزشتہ برسوں میں محنت کی گئی ہے وہ محنت کہاں گئی اور یہ بھی کہ میٹرک یا انٹرمیڈیٹ یا بیچلر یا ماسٹر لیول تک پہنچتے پہنچتے بچے نے سیکھا بھی کیا؟ کیا ان پاکٹ گائیڈ کا استعمال نفی نہیں ہے تعلیم کی؟ کیا اخلاقی سطح پر اس بچے کو ہم خود اپنے ہاتھوں سے کرپشن نہیں سکھا رہے۔ کیا اس سارے سسٹم میں والدین، اساتذہ، ادارے اور انتظامیہ سب گنہگار نہیں ہیں۔ وہ دکاندار جو پاکٹ گائیڈز بیچ رہا ہے وہ تو اس سسٹم میں کہیں آخر میں آتا ہے۔ سوال تو یہ ہے کہ آخر ان گائیڈز کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ پاکٹ گائیڈز کا یوں سرعام بکنا ہمارے انتظامی، سماجی اور تعلیمی سسٹم پر ایک بہت واضح سوال اٹھاتا ہے اور یہ سوال کوئی عام سا سوال نہیں کہ اسے بغیر جواب کے چھوڑ دیا جائے بلکہ یہ سوال تو ہماری بقاء کیساتھ منسلک ہے۔ تعلیم کے بغیر ہم کیسے اپنے مسائل حل کرسکتے ہیں۔ یہ کیا میں تو یہ کہتا ہوں کہ ایک اچھے تعلیمی نظام کے بغیر قوم ہی نہیں بن سکتی۔ میری انتظامیہ سے گزارش ہے کہ وہ اس مسئلے پر ضرور سوچے کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں مستقبل میں اس پر سوچنے کا موقع بھی نہ مل سکے۔

متعلقہ خبریں