Daily Mashriq

توڑی جو اس نے مجھ سے۔۔۔۔

توڑی جو اس نے مجھ سے۔۔۔۔

واقعی سیاست اور بالخصوص پاکستانی سیاست کے سو رنگ ہیں اور شاید اس سے بھی زیادہ۔ ہمارے سیاستدان سارے کے سارے الا ماشاء اللہ سیاسی شعر و ادب کے فن کے وہ یگانہ روز گار فنکار کہ یگانہ چنگیزی بھی کیا ہوں گے۔ ہمارا ہر سیاستدان سیاست کے پیچ و خم طے کر تے وقت بعض اوقات ایسے مراحل سے گزر جاتے ہیں کہ بقول یگانہ ۔
خدا ہی جانے یگانہؔ میں کون ہوں‘ کیا ہوں؟
خود اپنی ذات پہ شک دل میں آئے ہیں کیا کیا
اس لئے پاکستانی سیاست میں سیاست کے حوالے سے سیاستدانوں کے فرمودات کی روشنی میں جو ضرب الامثال‘ محاورے‘ ترکیبات‘ القابات اور خطابات کی ایک بھاری بھر کم کھیپ اردو زبان کی عصری نعمت کو ملی ہے بس یہ ان ہی کی شان ہے۔ باقی دنیا میں بھی سیاست میں اختلافات‘ پارلیمان میں دھینگا مشتی وغیرہ ہوتی ہیں۔ لیکن ’’سیاست میں کوئی بات حرف آخر نہیں ہوتا،’’سیاست کے وجود میں دل نہیں ہوتا‘‘، ’’سیاسی وعدے قرآن و حدیث نہیں ہوتے‘‘ اوئے! فلاں! تمہاری پیٹ پھاڑ کر کرپشن کا مال نکلوائیں گے‘‘ ’’ تمہیں فلاں سڑک پر گھسیٹیںگے‘‘ ’’ فلاں پل پر لٹکائیں گے‘‘ صرف پاکستانی سیاست کی لوازمات بن چکی ہیں۔گزشتہ ستر برسوں میں آج پاکستان کی سیاست ترقی یافتہ‘ مہذب اور شائستہ ہونے کے بجائے ایک دوسرے پر دشنام طرازیوں‘ طعن و تشنیع اوربغیر کسی تحقیق و ثبوت کے الزامات کی بوچھاڑ کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ اس کا پاکستان کے عوام اور بالخصوص نوجوان نسل پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ ہمارے معاشرتی رویے اور اخلاقی اقدار ان سیاستدانوں کے معاملات اور معمولات کے آئینہ دار بنتے جا رہے ہیں۔ پچھلے دنوں دو نظریاتی سیاسی جماعتوں کے سربراہ اور وزراء نے ایک دو نئی اصطلاحیں بھی داخل سیاست کردی ہیں۔ میں اور شاید مجھ سے اور بہت سارے سیاست سے نا بلد پینڈو اور سادے لوگ جو آج بھی تھوڑا بہت وعدہ‘ وفا‘ اصول‘ شرم‘ حیا اور کم از کم کچھ انسانی اقدار کا خیال رکھنے کی کوشش کرتے ہیں‘ ایسی باتیں اپنے سیاسی اکابرین سے سنتے ہیں تو سوچتے رہ جاتے ہیں کہ یا الٰہی! کل جب یہ حضرات ایک دوسرے کو جس انداز اور زبان میں مخاطب کر رہے تھے اس وقت ان کے دل و دماغ میں اس بات کا خیال و تصور نہیں گزرتا تھا کہ ’’ جب سیاست میں کوئی بات حرف آخر خود ان کے بقول نہیں ہوتی تو تھوڑا سا لحاظ رکھتے ہوئے اس بات کے لئے گنجائش چھوڑتے کہ کل جب آمنے سامنے ہوں گے تو آنکھیں چار کرتے ہوئے پسینے میں شرابور ہونے کی کیفیت سے دوچار نہ ہوںگے ۔ حضرت ابو تراب رضی اللہ عنہ نے سچ فرمایا ہے کہ دشمنی میں آخری حدتک نہ جائیں ہوسکتا ہے کہ کل کی دشمنی دوستی میں تبدیل ہو جائے اور دوستی میں بھی اپنے سارے راز دوست کے حوالے نہ کرو کہیں مخالفت کی صورت میں پشیمان نہ ہونا پڑے‘‘۔پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے سربراہان کے درمیان گزشتہ چند برسوں میں جو کچھ کہا جاتا رہا ہے اور پھر سینیٹ الیکشن میں زیر زمین جو اتحاد ہوا اور اب اس کا برملا اعتراف اور یہ بات کہ ’’ ضرورت ایجاد کی ماں‘ عمران سے اتحاد ممکن‘‘ اس سے د ونوں جماعتوں کے مخلص کارکنوں اور ملک کے نوجوانوں پر جو ’’خوشگوار‘‘ اثرات مرتب ہوں گے اس کا نتیجہ مستقبل قریب میں ظاہر ہوگا۔اسی طرح پاکستان کی اصول و نظریات پر سب سے زیادہ کار بند رہنے کی شہرت پانے والی جماعت اسلامی تحریک انصاف کے ساتھ پچیس دن کم پانچ برس اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد ایم ایم اے میں شامل ہونے کے بعد ’’ اصولی طور‘‘ پر حکومت سے الگ ہوگئی ہے۔ واہ! کیا شاندار اصول ہیں ہماری مذہبی سیاسی جماعتوں کے بھی‘ پانچ برس اقتدار کی خاطر دونوں بڑی مذہبی سیاسی جماعتیں دو مخالف ترین سیاسی جماعتوں کی اتحادی رہیں اور اب دونوں جماعتیں دین و ملت‘ عالمی حالات اور سیکولر جماعتوں کے درمیان اتحاد کے رد عمل میں متحد ہو کر یک جان و دو قالب ہو چکی ہیں۔ جمعیت کے سربراہ تو خیر منجھے ہوئے سیاستدان ہونے کے سبب اور ملکی مفادات کی خاطر ہر سیاسی جماعت کے ساتھ اتحاد کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ لیکن افسوس تو جماعت اسلامی کے اکابرین اور سید مودودیؒ کے سیاسی ورثاء اور جانشینوں پرہے کہ کس آسانی اور ’’خوبی‘‘ کے ساتھ اور ’’خوشگوار‘‘ انداز میں تحریک انصاف سے الگ ہو کر ایک قسم کا سیاسی خلع لے لیا‘ کیونکہ یہ سب کچھ باہمی رضا مندی سے ہوا ہے اور صوبائی حکومت ایسے مخمصے سے دو چار ہوئی ہے کہ وہ نہ بجٹ پیش کرسکتی ہے اور نہ قانونی طور پر حکومت چلانے کا جواز رکھتی ہے کیونکہ وزیراعلیٰ کو ارکان اسمبلی کی مطلوبہ اکثریت حاصل نہیں رہی اور جماعت اسلامی کا کمال ملاحظہ کیجئے کہ حکومت سے نکل کر بھی اپوزیشن بنچوں پرنہیں بیٹھے گی بلکہ حکومت کو چار ماہ کے لئے بجٹ پیش کرنے میں ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی۔
آج مجھے سید مودودیؒ اور مفتی محمودؒکس شدت کے ساتھ یاد آرہے ہیں ۔ کاش ان ارواح مطہرہ تک میری رسائی ہوتی اور کشف کے ذریعے ان کے سامنے دست بستہ عرض کرتا کہ اے عظیم لوگو! اس ’’بیماریٔ دل‘‘ کا بھی کوئی چارہ ہے کہ نہیں۔ لیکن چونکہ ممکن نہیں۔ لہٰذا اس پر اکتفا کروں گا
توڑی جو اس نے مجھ سے تو رقیب سے جوڑ ی
انشاءؔ تو میرے یار کی اب جوڑ توڑ دیکھ

اداریہ