Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

ابن ابی الدنیاؒ اپنی سند سے ابو عمران جونیؒ کا قول نقل کرتے ہیں‘ وہ فرماتے ہیں کہ: ایک مرتبہ سیدنا سلیمانؑ بن دائودؑ اپنے لشکر کیساتھ ہوا میں اس طرح اُڑتے جاتے تھے کہ پرندے ان پر سایہ فگن تھے‘ انس وجن دائیں بائیں تھے‘ اسی حالت میں بنی اسرائیل کے ایک عبادت گزار کے پاس سے گزر ہوا۔ وہ عابد ان کی شان وشوکت دیکھ کر کہنے لگا: خدا کی قسم اے ابن دائود! خدا نے آپ کو ایک عظیم سلطنت عطا فرمائی ہے۔

سیدنا سلیمانؑ نے اس کی بات سن کر فرمایا: مومن کے اعمال نامے میں ایک مرتبہ خدا کی تسبیح بیان کرنے کا اجر وثواب ابن دائود کی اس سلطنت سے بہتر ہے کیونکہ ابن دائود کو جو کچھ ملا ہے وہ آخرکار فنا ہو جائے گا اور تسبیح کا اجر وثواب ہمیشہ باقی رہے گا۔ (حلیۃ الاولیاء 1313‘ 2احیاء 2173)

امام ابن ابی الدنیاؒ فرماتے ہیں: حارث بن مسلم رازیؒ (لوگ انہیں ابدال کہتے تھے) نے سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت کیا ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اقدسؐ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جو شخص اس حال میں صبح کرے کہ اس کا آخری مقصد دنیا بنی ہوئی ہو‘ وہ شخص خدا (کی ذمہ داری) سے خارج ہے۔ (الاحیاء 3/217 ابن ابی الدنیاؒ نے بروایت انسؓ‘ طرانی نے بروایت ابی ذرؓ اور حاکم نے بروایت حذیفہؓ روایت کیا ہے)

امام ابن ابی الدنیاؒ فرماتے ہیں کہ مجھے ابوجعفر قرشی نے بتایا جو بنو ہاشم کے والی میں سے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ کسی کتاب حکمت میں لکھا ہوا ہے کہ ایک دانا نے ایک بادشاہ سے کہا: اے بادشاہ! دنیا کی برائی کرنے اور اس سے بغض رکھنے کا سب سے حق دار وہ شخص ہے جس کے واسطے اسے پھیلا دیا گیا ہو اور اس نے وافر مقدار میں اس سے اپنی ضروریات پوری کر لی ہوں کیونکہ اسے یہ اندیشہ لگا رہتا ہے کہ کوئی ناگہانی آفت اس کے مال کو برباد نہ کر دے یا اس کی جمعیت خاطر کو منتشر اور پریشان نہ کر دے کہ اس کی سلطنت ہی برباد ہو جائے یا اس کا سکون وصحت امراض وآفات میں گھر جائے یا اس سے وہ مال ودولت نہ چھین لے جسے اپنے دوستوں سے بھی چھپاتا تھا‘ چنانچہ دنیا تو ہے ہی قابل مذمت‘ جو کچھ یہ دیتی ہے لے لیتی ہے۔ جو ہبہ کرتی ہے اس کی واپسی کا مطالبہ کر دیتی ہے‘ کسی ایک کو ہنساتی ہے تو دوسرے کو اس پر ہنسا دیتی ہے۔ اگر کسی کیلئے روتی ہے تو دوسرے کو اس پر رلا دیتی ہے‘ کچھ دینے کیلئے ہاتھ بڑھاتی ہے تو فوراً لینے کیلئے بھی دست سوال دراز کردیتی ہے۔ آج کسی کے سر پر تاج رکھتی ہے تو کل اسے قبر کے گڑھے میں دفن کر دیتی ہے۔ کوئی جاتا ہے تو جائے‘ رہتا ہے تو رہے‘ اسے اس کیساتھ کوئی سروکار نہیں‘ جانے والے کا بدل رہے یا نہ رہے یہ ہر حال میں خوش ہے۔

(الاحیاء 3/225۔ الاتحاف 8/1000)

(کتاب الزہد‘ لا بن ابی الدنیا)

متعلقہ خبریں