Daily Mashriq

یہ کوئی منطق نہیں

یہ کوئی منطق نہیں

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ گڈگورننس اورنئی لیڈرشپ لائینگے، وفاق دیوالیہ ہو گیا ہے، آئندہ میئرز کے الیکشن براہ راست کرائینگے پرانے نظام کے تحت مقامی سطح پر زیادہ کرپشن ہوتی تھی، بلدیات کا پیسہ ایم این ایز اور ایم پی اے کو دیا جاتا تھا، سینئر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ انقلابی بلدیاتی نظام لا رہے ہیں ۔وزیراعظم بظاہر تواٹھارہویں ترمیم کی مخالفت نہیں کر رہے لیکن بباطن اس ترمیم کے باعث صوبوں کو ملنے والے اختیارات اور ذمہ داریوں کو صوبائی خود مختاری کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے اس کو وفاق کے دیوالیہ ہونے کا سبب سمجھتے ہیں وزیراعظم کا مختصر مدت میں دوبار وفاق کیلئے دیوالیہ کے لفظ کا استعمال اچھے تاثرات کا باعث امر نہیں وزیراعظم ایک ہی موقع پر ایک جانب بلدیاتی نظام کو مضبوط بنانے کو مثبت سمجھتے ہیں وہین اسی نشست پر صوبائی خود مختاری ان کے نزدیک وفاق کو دیوالیہ بنانے کا باعث امر ہے حالانکہ اٹھارہویں ترمیم کے بعد ہی ملک میں صوبائی خود مختاری کی راہ ہموار ہوئی ہے جسے سیاسی جماعتوں کی متفقہ حمایت حاصل ہے۔وزیراعظم اپنی حکومت کے نظام سے پر امید ہیں کہ وہ اس کے نتیجے میں اچھی حکمرانی اور نئی قیادت سامنے لانے میں کامیابی حاصل کر سکیں گے۔ وزیراعظم کی نیت اور مساعی پر توشبہ نہیں کیا جا سکتا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پرانا نظام حکومت اور بلدیات دونوں سطحوں پرواقعی اس قدر فرسودہ اور ناکارہ ہوچکا ہے کہ اسے تبدیل کئے بنا چارہ نہیں اور جو آٹھ نوماہ گزرے وہ لاحاصل رہے یا پھر سال بھر بلدیاتی اداروں کے ایڈمنسٹریٹروں کے حوالے ہونے کے بعد انتخابات اور نئی مقامی حکومتوں کے قیام ان کو بجٹ کی تفویض اور ان کو فعال کردار ادا کرنے کے قابل بنانے میںاتنا وقت صرف نہیں ہوگا کہ تبدیلی اور اچھی حکمرانی کے منتظر عوام مایوس ہونے لگیں۔وزیراعظم کو پرانے نظام میں ترقیاتی فنڈز کے ممبران صوبائی وقومی اسمبلی کی وساطت سے استعمال پر بجا طور پر اعتراض ہے اور یہ درست اعتراض ہونے کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کے منشور کا حصہ بھی ہے لیکن عملی طور پر گزشتہ خیبر پختونخوا حکومت اور موجودہ دور حکومت میں اب بھی یہی سلسلہ جاری وساری ہے حالانکہ گزشتہ صوبائی حکومت چاہتی تو با آسانی ترقیاتی فنڈز بلدیاتی نمائندوں کی وساطت سے استعمال کر کے اپنے منشور کے ایک اہم حصے پر عمل درآمد کراسکتی تھی۔ اس دو عملی کے بعد ایک مرتبہ پھر اس معاملے کو موردالزام ٹھہرانا مزید دو عملی کا اظہار ہے جس سے اگر گریز کیا جاتا تو زیادہ بہتر ہوتا۔موجودہ حکومت نہ صرف پنجاب میں بلدیاتی نظام تبدیل کررہی ہے بلکہ خیبر پختونخوا میں گزشتہ دور حکومت میں اپنا ہی وضع کردہ نظام میں بھی تبدیلی کو عوامی مسائل کے حل سے تعبیر کررہی ہے۔حکمرانوں کا خیال ہے کہ وہ اس طرح سے اختیارات کو نچلی سطح پر منتقل کر کے اور ترقیاتی فنڈز کے زیریں سطح کے عوامی نمائندوں کو منتقل کر کے تبدیلی لانے کے دعوئوںکو حقیقت کا روپ دے سکے گی علاوہ ازیں حکومت اس نظام کے ناقدین کو عوام کو مقتدر بنانے کی راہ میں رکاوٹ سے تعبیر کر رہی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ کوئی انوکھی بات اس لیئے نہیں کہ ہر دور حکومت میں بلدیاتی نظام کو تختہ مشق بنایا گیا اگر ضلعی نظام اور بلدیاتی اداروں کو کسی دور میں بڑی حد تک خود مختار بنایا گیا تو وہ صحیح معنوں میں آمر وقت جنرل(ر) پرویز مشرف کے دور میں تھا بعد میں آنے والی حکومتیں اگر اس عمل کو اسی انداز میں تسلسل سے جاری رکھتیں اور ہر کہ آمد عمارت نوساخت کے تجربات نہ کئے جاتے تو بلدیاتی نظام اتنا فعال ہوچکا ہوتا اور اختیارات کی پست سطح پر منتقلی اس درجے کو پہنچ چکا ہوتا کہ اس سے مزید چھیڑ خانی کی ضرورت نہ پڑتی۔ المیہ یہ ہے کہ سیاسی حکومتوں میں سیاسی مفادات اور مخالفت جماعتوں کے حمایت یافتہ بلدیاتی نمائندوں کو بے اثر کرنے اور آئندہ کیلئے اپنے حمایت یافتہ افراد کو آگے لانے کی تیاریاں ہوئیں اگر دیکھا جائے تو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں تبدیلیوں کے تناظر کا ایک ممکنہ محور یہ بھی ہے۔ نئے بلدیاتی نظام میں میئرز کا براہ راست انتخاب ایک مثبت فیصلہ ہے جس سے کٹھ پتلی قسم کے عناصر کی جگہ بھاری عوامی حمایت یافتہ عہدیدار آگے آئیں گے جن کو آسانی کے ساتھ ضلعی انتظامیہ یہاں تک کہ صوبائی حکومت زیر نہیں کر سکیں گی۔اس سے اضلاع کی سطح پر عوامی نمائندگی اور قیادت بھی ابھرے گی۔نئے قانون میں عوامی نمائندوں کو اختیار تو دیا جارہا ہے لیکن ان کی اہلیت اور کارکردگی کو پرکھنے کی کوئی کسوٹی نہیں۔جہاں اختیار دیا جائے وہاں ان کی مانیٹرنگ اور موثر بنانے کا نظام بھی وضع کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایک اور تجربہ ناکام نہ ہو۔ اصولی بات یہ ہے کہ کوئی نظام بھی مثالی نہیں ہوتا اصل مسئلہ نظام کا نہیں بلکہ اصل معاملہ عوامی مسائل کا حل ہے جو اگر ترجیحی بنیادوں پر حل ہوں تو وہی نظام اچھا نظام قرار پائے گا اور عوام اسی وقت مطمئن ہوں گے جب ان کے مسائل حل ہوں۔

متعلقہ خبریں