Daily Mashriq

قبائلی عوام کی جمہوری نظام کی طرف پہلا سفر

قبائلی عوام کی جمہوری نظام کی طرف پہلا سفر

صوبے میں انضمام کے بعد قبائلی اضلاع کے صوبائی اسمبلی کی سولہ نشستوں کیلئے دوجولائی سے ہونے والے انتخابات کے شیڈول کا اعلان قبائلی تاریخ میں اہمیت کا حامل اور سیاسی میدان میں سنہرا باب ہے۔ جس سے قبائلی عوام حقیقی معنوں میں قومی اور سیاسی دھارے میں آئیں گے۔ قبائلی علاقوں میں اس وقت بعض عناصر کی جانب سے جو صورتحال پیدا کی جارہی ہے اس کا مقابلہ سیاسی شعور اجا گر کر کے ہی کرنا ممکن ہوگاتاکہ عوام اس بیانیہ کو رد کردیں جو حقیقت پسندانہ نہ ہو اور مفاد پر مبنی یا غیر حقیقی ہواس کا دوسرا پہلو یہ بھی ہے کہ قبائلی عوام کو صوبائی اسمبلی میں نمائندگی ملنے کے بعد ان کو اپنی آواز ایوان تک پہنچانے کے جو ذرائع اور نمائندے میسر آئیں گے اس سے اس بیانیہ کو تقویت ملے گی جس کا مطالبہ وہاں کے عوام قانون اور آئین کے دائرہ کار میں رہ کر کریں گے اب پہلے کی طرح قبائلی عوام کی آواز کو دبانا آسان نہ ہوگا۔ قبائلی اضلاع میں انتخابی شیڈول کے اعلان کے ساتھ ہی بعض مطالبات بھی سامنے آئے ہیں جس کے مطابق سات اضلاع کے لیے 21 نشستیں ناکافی ہیں۔ قبائلی عوام کو2017 کی مردم شماری پر تحفظات ہیں،ان کا موقف ہے کہ اگر ان علاقوں کو حقیقی ترقی دینی ہے تو نشستوں کی تعداد بڑھا دی جائے۔اس ضمن میں قبائلی اراکین نے قومی اسمبلی میں بل بھی پیش کیا تھا جس میں سات اضلاع کے لیے نشستوں کی تعداد 21 سے 31 کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی، تاہم انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعدحلقہ بندیوں میں اضافہ اور ردوبدل ممکن نہیں اس کیلئے قبائلی اراکین کو بعد میں جدوجہد کرنی پڑے گی۔ قبائلی اضلاع کی آبادی مردم شماری کے مطابق اتنی نہیں کہ اس کے حصے میں مزید نشستیں آئیں۔اور اگر اسی سے اتفاق بھی کیا جائے تب بھی قومی اسمبلی کی دوتہائی کی اکثریت سے قانون سازی کرنی پڑے گی یوں یہ فی الوقت نا ممکن مطالبہ ہے۔ پہلی مرتبہ صوبائی اسمبلی میں قبائلی خواتین اور اقلیتوں کو بھی نمائندگی ملے گی ۔ہم سمجھتے ہیں کہ شیڈول کے اعلان کے بعدہی سے قبائلی اضلاع کے حلقوں میں انتخابی سرگرمیوں کا آغاز ہوجانا چاہیئے اور قبائلی عوام کے الیکشن کے عمل میں بھر پور حصہ لینے کو یقینی بنانے کیلئے جہاں ان میں شعور اجا گر کرنے اور انتخابی طریقہ کار کی تربیت دینے کی زیادہ ضرورت ہے وہاںالیکشن کے پر امن ماحول میں انعقاد کیلئے خاص طور پر انتظامات کی بھی ضرورت ہے انتخابات میں قبائلی عوام اور نمائندوں کو حصہ لینے کا بھر پورموقع ملنا چاہیئے ان کو آزادانہ طور پر شفاف طریقے اور کسی مداخلت اور دبائو کے بغیر اپنے نمائندوں کے چنائو کا پورا پورا موقع ملنا چاہیئے۔تاکہ قبائلی اضلاع میں جمہوری نظام جڑ پکڑے اور انضمام علاقے کے عوام کیلئے بہتر فیصلہ ثابت ہو۔

وزیراعلیٰ غوروحوض کے بعد ہی منظوری دیں

خیبر پختونخوا کی تمام آبادی کو سرکاری اور نجی ہسپتالوں میں انشورنس پر مفت علاج دینے کیلئے محکمہ صحت نے سمری منظوری کیلئے وزیراعلیٰ کو ارسال کردی گئی ہے جس کی وہ متوقع طور پر منظوری دیں گے پوری آبادی کو صحت انصاف کارڈ پر منتقل کرنے کے سلسلے میںاخراجات کا تخمینہ تقریباً10ارب روپے سالانہ لگایا گیا ہے جس میں پہلے ہی سے صحت سہولت پروگرام کیلئے4ارب روپے جاری کئے جارہے ہیں مزید توسیع کی صورت میں6ارب روپے اضافی خرچ ہوں گے۔اس وقت70فیصد پروگرام کا ٹھیکہ سٹیٹ لائف انشورنس کے پاس ہے نئی توسیع کیلئے بھی اسے ٹینڈر کیا جائیگا یا براہ راست منظوری کے بعد سٹیٹ لائف کو ہی ٹھیکہ دیا جائیگا۔دس ارب روپے سالانہ کے اخراجات سے صرف داخل مریضوں کا علاج معالجہ اور علاوہ ازیں محکمہ صحت، صوبے کے چھوٹے بڑے سرکاری ہسپتالوں اور مراکز صحت پر اربوں روپے کے مزید اخراجات کر کے بھی عوام کوصحت کی تسلی بخش سہولتوں کی عدم فراہمی کا مناسب حل شاید یہ ہو کہ صوبے میں یا تو محکمہ صحت کا خاتمہ کیا جائے اورعلاج کا ٹھیکہ انشورنس کمپنی کے حوالے کیا جائے یا پھر حکومت ان دس ارب روپے سے علاج معالجے کے اقدامات اور انتظامات کو بہتر بنا کر مریضوں کے مفت علاج کا بندوبست خود کرے تاکہ کم از کم دوہرے اخراجات سے نجات ملے۔اگر ایک انشورنس کمپنی بھاری منافع کماے کے ساتھ صوبہ بھر کے مریضوں کا علاج کرواسکتی ہے تو پھر ان وسائل سے سرکاری محکمے جو پہلے ہی قائم بھی ہیں اور سرکاری خزانے سے تنخواہیں اور مراعات بھی لے رہی ہیں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکس نرسوں اور دیگر معاون طبی عملے کی تنخواہیں سرکاری خزانے سے ادا ہورہی ہیں تو اس نئے انتظام کی کیا ضرورت ہے آدھا تیتر آدھا بٹیر والا یہ نظام شکایات واخراجات میں اضافے کا باعث ثابت ہوگا۔ وزیراعلیٰ کو اس سمری پر دستخط سے قبل سمری پیش کرنے والوں سے تفصیلات جان کر اس کے عوامی اور حکومتی مفاد میں ہونے کا اطمینان کرنا چاہیئے تاکہ خواہ مخواہ کی تنقید اور ناکامی سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں