Daily Mashriq

دوتین کڑوی کیسلی باتیں

دوتین کڑوی کیسلی باتیں

ماہ صیام کا آغاز ہو چکا اپنی زکوٰۃ،صدقات وعطیات کے لیے اولین ترجیح اپنے مستحق عزیزوں کو دیجئے اور اگلے مرحلہ پر دکھی انسانیت کی خدمت کرنے والے اداروں اور فروغ علم میں مصروف دوستوں سے تعاون کیجئے۔ حق بندگی یہی ہے کہ حق ادا ہوتا رہے۔ لازم نہیں کہ دسترخوان شکم پری کے لئے سجالیا جائے۔ اپنے حصے کی دو روٹیوں میں مستحق عزیز قرابت داراور پڑوسی کو شریک کرنا زیادہ افضل عبادت ہے ۔نمود ونمائش اور غصے پر قابو رکھنا مناسب ہوگا ایسی عبادت جو مزاج میں سخت گیری لیکردوسروں کی توہین کا جذبہ پیدا کرے بے فائدہ ہے۔ ایثار،برداشت حلیمی اور انسان دوستی کو پروان چڑھائیں یہی پیغام رمضان المبارک ہے۔ ہم آگے بڑھتے ہیں ۔جب سے کوچہ صحافت میں قلم مزدوری کر رہا ہوں تقریباً ہرسال رمضان المبارک کے موقع پر منافع خوروں کی ہوس زر کی طرف توجہ دلاتا ہوں ہم دنیا کی بہت مثالیں دیتے ہیںمگر اپنے گریبان میں جھانکنے کو تیار نہیں۔ دنیا بھر میں مذاہب کے تہوار ہوں یا اقوام کے ضروریات زندگی کی اشیاء کے ساتھ کرایوں تک میں کمی کردی جاتی ہے۔تاکہ لوگوں کو سہولت میسر ہو ہمارے یہاں باوا آدم نرالاہے۔ جونہی کوئی مذہبی تہوار قریب آتا ہے اشیائے فروخت کی قیمتیں اور کرائے بڑھ جاتے ہیں اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا، منافع خوری کے اس جنون میں خوف خدا یاد ہے نہ انسان دوستی کے تقاضے ایسا لگتا ہے ہر دوکاندار سال بھر کی کمائی اسی ماہ صیام میں وصول کرنے پر تلا ہوا ہے۔(مجھ سمیت سارے دوست ہمیشہ مہنگائی پر حکومتوں کو تنقید کا نشانہ بناتے رہتے ہیں بجا ہے کہ حکومت اس کی کسی حد تک ذمہ دار بھی ہے لیکن اصل ذمہ دار،تاجر اور پرچون فروش ہیں ایک ہی بازار کی ہر دوکان پر اشیاء کے نرخ مختلف ہیں اس پرستم پٹرول کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ ہے۔108روپے41پیسے قیمت ہے فی لیٹر کی جبکہ 109روپے میں فروخت ہورہا ہے دیہی علاقوں کے پٹرول پمپوں پر110 روپے فی لیٹر ہے۔پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں غیر اعلانیہ اضافے کی وجہ سے جگہ جگہ تلخیاں دیکھنے کو آرہی ہیں۔ہم آگے بڑھتے ہیں،سٹیٹ بنک اور ایف بی آر کے نئے سربراہوں کی تقرری پر شوروغوغا ہے کہا جارہا ہے کہ حکومت نے ملک کو عملی طور پر عالمی مالیاتی اداروں کے حوالے کر دیا ہے۔ میرا سوال سادہ ہے کیا پچھلی حکومتوں نے آزاد معاشی پالیساں وضع کی تھیں۔ حفیظ شیخ پہلے کیا مدینے سے تشریف لائے تھے۔معین قریشی کون تھے۔ شوکت عزیز کس کھیت کی مولی؟صاف اور سیدھی بات ہے لوگوں نے تحریک انصاف کو ووٹ دیئے ہیں ریاست کی پسند بھی تحریک انصاف تھی۔ اس لیئے اسے پالیسیاں وضع کرنے اقدامات کرنے اور افراد کے چنائو کا حق ہے۔ غلطیاں کریں گے تو بھگتیں گے۔ اصلاح احوال کے وعدے پورے نہیں ہوں گے تو حالات کا سامناانسانی قیادت کرے گی۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ مہنگائی کا سابقہ دور کے قرضوں اور پالیسیوں سے تعلق نہیں نگران دور میں اختیارات سے تجاوز کے جو مظاہرے ہوئے اس کے نتائج زیادہ بھیانک اس لیئے ہیںکہ خود تحریک انصاف کی قیادت نگرانوں کے اقدامات اور نتائج کا تجزیہ کرسکی نا متبادل اقدامات، اسد عمرکھاد کمپنی سے کیوں رخصت کیے گئے؟۔اس سوال پر ذاتی پسندید گی نے پردہ دال دیا ورنہ جو شخص ایک کمپنی چلانے کی اہلیت نہیں رکھتا تھا ملکی معیشت کیسے چلا پاتا۔ اب کچھ لوگ یہ تاثر دے رہے ہیں کہ اسد عمر کو آئی ایم ایف کی پالیسیاں تسلیم نہ کرنے کی سزا دی گئی۔ایک تو مصنوعی حب الوطنی اور سازشوں کی رام لیلہ جینے نہیں دیتی۔بھلا کوئی ان دستاویزات تک رسائی رکھتا ہے جو اسد عمر کی نگرانی میں آئی ایم ایف سے معاملہ کرنے کے لیئے تیار ہوئیں؟ نہیں نا تو پر سستی قسم کی حب الوطنی اور سازشوں کی کہانیاں بیچنابند کیجئے۔ ہاں ایک سوال اور ہے وہ یہ کہ ہم سارے جو منہ بھر کے سابقہ حکومتوں کو کوستے پھر رہے ہیں اس امر پر غور کرنے کی زحمت کریں گے کہ کیا پچھلے دس برسوں کے دوران لیئے گئے بیرونی قرضے سول حکومتوں نے اپنے اللوں تللوں پر اڑادیئے؟ صاف سیدھا جواب یہ ہے کہ حضور دفاعی اخراجات بھی انہی قرضوں میں سے پورے ہوئے اور انسداد دہشت گردی پر اٹھنے والے اضافی اخراجات بھی۔ کسی میں ہمت ہے کہ وہ قومی اسمبلی یا سینیٹ میں یہ سوال کرے کہ پچھلے دس برسوں کے دوران دفاعی اخراجات کے سالانہ مختص فنڈز کے علاوہ اس مد میں کتنی اضافی رقم حکومتوں نے ہر سال ادا کی؟ بہت آرمان ہے الزام تراشی کا چاٹ مصالحہ فروخت کرنا۔حقائق بہر طور مختلف ہیں۔ چلیں ہم اپنے ملتانی مخدوم شاہ محمود قریشی کی بات کرتے ہیں سوموار کے روز انہوں نے فرمایا مریم نواز سزایافتہ ہیں اس لیئے نون لیگ کو انہیں پارٹی عہدہ نہیں دینا چاہیے تھا۔ کیا جہانگیر ترین سزایافتہ نہیں؟ کیوں حکومت اور عمران خان کو وہ عزیز ہیں ۔موجودہ قیادت کے بر سر اقتدار آنے کے دن سے اب تک وہ عملی طور پر ڈپٹی وزیراعظم ہی ہیں۔ مریم نواز کی سزا کے خلاف اپیل زیر سماعت ہے ضمانت سزا کی معطلی پر ہوئی لیکن جہانگیرترین کی تو اپیل بھی سپریم کورٹ نے مسترد کردی تھی۔ عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دوسروں پر گرجنے برسنے سے قبل اپنے چار اور بھی نگاہ دوڑانی چاہیئے۔ حرف آخر یہ ہے کہ ہمارے وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چودھری نے زندگی میں پہلی بار تو کوئی دانش مندی کی بات کی ہے ۔چاند کے معاملات کو اختلافات سے ممنوع رکھنے کے لئے وہ متعلقہ علوم کے سائنسی ماہرین کی کمیٹی بنا کر رویت ہلال کمیٹی سے عوام کو رہائی دلانا چاہتے ہیں تو اس میں برائی کیا ہے۔دنیا کو چاند پر پہنچے نصف صدی ہونے کو ہے یہاں ہرماہ چاند تلاش کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کو مولیوں کا دبائو قبول کرنے کی بجائے جدید علوم اور سائنس سے رہنمائی لینی چاہیئے تاکہ جگ ہنسائی سے ہمیشہ کے لئے نجات مل سکے۔

متعلقہ خبریں