Daily Mashriq


کس سے پیمان وفاباندھ رہی ہے بلبل

کس سے پیمان وفاباندھ رہی ہے بلبل

صدارتی نظام کی باتیں کون کر رہا ہے؟یہ سوال مختلف الفاظ کے ساتھ گزشتہ ہفتے کے دوران دوبار وزیراعظم عمران خان نے پوچھاہے،اس سے پہلے صدرمملکت ڈاکٹر عارف علوی نے بھی صدارتی نظام لانے یا لائے جانانے کی بہ الفاظ دیگر تردید کی تھی اس لیئے اصولی طور پر انگریزی مقولے کے مطابق فرام دی ہار سزمائوتھ کہہ کر اب اس حوالے سے جاری بحث کو تھم جانا چاہیئے مگر اسے کیا کہئے کہ وزیراعظم بار بار 18ویں ترمیم پر بھی حملہ آور ہیں اور پیر کے روز اسلام آباد میں سینئر صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے18ویں ترمیم کو ایک بار پھر تنقید کی سان پر رکھتے ہوئے کہا ہے کہ18ویں ترمیم سے وفاق دیوالیہ ہوگیا ہے،یوں دراصل یہ وہی بیانیہ ہے جو پچھلے چند ماہ سے ایک خاص طبقہ آگے بڑھاتے ہوئے 18ویں ترمیم کو ختم کرنے پر تلا بیٹھا ہے جبکہ سیاسی جماعتیں اس حوالے سے اٹھائے جانے والے سوالات کو ملک کیلئے نقصان دہ سمجھ کر 18ویں ترمیم پر کوئی بھی آنچ نہ آنے دینے کے عزائم ظاہر کر رہی ہیں اس سلسلے میں بعض سیاسی رہنمائوں کے بیانات بہت سنجیدہ قسم کے خدشات پر مبنی ہیں اور انہوں نے18ترمیم کے خاتمے کو ملکی سا لمیت کے منافی بھی قرار دے دیا ہے،یعنی بقول احمد فراز

اگرچہ زور ہوائوں نے ڈال رکھا ہے

مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے

صدارتی نظام کا شوشہ اگرچہ ایک سوشل میڈیا ٹی وی چینل نے شروع کر رکھا ہے جو اس حوالے سے اکثر وبیشتر یہ دعوے بھی کرتا رہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان جلد ہی ملک میں صدارتی نظام کے حوالے سے اعلان کر دیں گے(خدا جانے محولہ ٹی وی چینل کے کسی ماہر نے ٹیلی پیتھی کے ذریعے وزیراعظم کا ذہن پڑھ لیا ہے یا اس کے پاس کوئی اور ٹیکنالوجی موجود ہے جس سے وہ اس قسم کے دعوے کر رہا ہے) البتہ زیربحث ٹی وی چینل ایک مشہور اینکر جو’’مسٹر ڈبرڈوس‘‘کے لقب سے مشہور ہیں،کے تجزیوں کو بھی خاصی اہمیت دیتا ہے کیونکہ مذکورہ اینکر بھی اسی نوعیت کے دعوے کرتا دکھائی دیتا ہے،اور وہ تو مزید دو قدم آگے چلتے ہوئے یہاں تک دعویٰ کرتا رہتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کے پاس اب وقت کم رہ گیا ہے اور انہیں جلد ہی اسمبلیاںتوڑنے کا اعلان کرنا پڑے گا، تاہم موصوف یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ بفرض محال عمران خان اسمبلیاں توڑ بھی دیتے ہیں تو بھی صدارتی نظام کیسے قائم ہوگا؟ ان کی اس مشکل کو ایک لحاظ سے وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے یہ کہہ کر آسان کرنے کی کوشش کی ہے کہ صدارتی نظام کیلئے ریفرینڈم کرایا جا سکتا ہے،یعنی یک نہ شد دوشد حالانکہ دونوں کو معلوم نہیں یعنی بقول قیصر وجدی

ابھی تیشہ سلامت ہے ،ابھی تو سنگ باقی ہے

ابھی ہارا نہیں ہوںمیں، ابھی تو جنگ باقی ہے

آئینی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ آئین میں نظام بدلنے کیلئے کسی ریفرنڈم کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے اور ایسے شوشے محض ملک کے اندر اصل معاملات سے توجہ ہٹانے کیلئے ہی چھوڑے جاتے ہیں، تاہم جس 18ویں ترمیم پر وزیراعظم بار بار اعتراضات جڑتے ہیں اسے بدلنے کیلئے بھی ایک ترمیم ضروری ہے جو موجودہ حالات میں نا ممکنات کے دائرے میں قید ہے، کیونکہ آئینی ترمیم کیلئے دونوں ایوانوں میں دو تہائی اکثریت لازمی ہے جبکہ موجودہ حکومت اس سے کوسوں دور ہے، بلکہ خود اس کا وجود مانگے تانگے کی چند سیٹوں پر قائم ہے اور اٹھارہویں ترمیم کے خاتمے کے حوالے سے حکومت کے اتحادی بلوچستان کے سردار اختر مینگل نے بھی خبردار کررکھا ہے وہ ویسے بھی حکومتی رویئے پر شاکی ہیں کہ ان کے ساتھ جن شرائط پر اتحاد کیا گیا تھا ان کو پورا نہیں کیا جارہا ہے،اس لیئے انہوں نے تھوڑے سے انتظار کا عندیہ دے رکھا ہے جس کے بعد ان کا حکومت سے اتحاد ممکنہ طور پر شکست وریخت سے دوچار بھی ہوسکتا ہے ،ایسی صورت میں جبکہ خود حکومت کمزور بنیادوں پر قائم ہو، ایک خطرناک کھیل کی ابتداء کیونکر ممکن ہے یعنی18ویں ترمیم کو چھیڑ نا خطرات سے خالی نہیں ہے،اس لیئے صورتحال جس بات کی متقاضی ہے اسے پاس یگانہ چنگیزی نے یوں واضح کیا ہے کہ

صلح کرلویگانہ ،غالب سے

وہ بھی استاد،تم بھی اک استاد

صدرمملکت اور اب وزیراعظم کے بیانات سے واضح ہوچکا ہے کہ صدارتی نظام لانے کے حوالے سے بیانیہ کی پشت پر جو’’لابی‘‘ سرگرم تھی،سیاسی قائدین اور آئینی ماہرین کے بیانات نے اسے اپنی غلطی کا احساس دلادیا ہے،اور وقتی طور پر ہی سہی وہ لابی اپنی حکمت عملی سے پسپا ہونے پر آمادہ ہوچکی ہے،یعنی اسے معلوم ہے کہ ابھی لوہا پوری طرح تپا نہں ہے اور اگر اس پر ضرب لگادی جائے تو لوہے کو نئی شکل میں ڈھالنا خاصا مشکل ہوجائے گا یہی وجہ ہے کہ صدارتی نظام کے حوالے سے چھیڑی گئی بحث کو روکنے کیلئے فرام دی ہارسز مائوتھ والے مقولے سے کام لیا گیا ہے،وگرنہ ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ اتنے دنوں سے چلنے والے بیانیہ سے جس میں حکومتی لابی حصہ ڈال رہی تھی،خود وزیراعظم لاعلم ہو۔ اس بحث وتمحیص کے ہنگام بعض تجزیہ نگاروں کی یہ رائے بھی خاصی اہمیت کی حامل ہے کہ اس ملک میں ماضی میں جن باتوں سے انکار کیا گیا آنے والے وقت میں ان کو عملی صورت دی جاتی رہی،سو انتظار کرنے میں کیا حرج ہے کہ آنے والے دن کس بات کی خبر لاتے ہیں۔

کس سے پیمان وفا بابندھ رہی ہے بلبل

کل نہ پہچان سکے گی گل ترکی صورت

متعلقہ خبریں