Daily Mashriq


اختلاف رویت، مہنگائی اور نوجوانوں کی شکایات

اختلاف رویت، مہنگائی اور نوجوانوں کی شکایات

رمضان المبارک کی آمد پر اچانک ہم کلمہ گو مالک حقیقی کی طرف اکھٹے ایک ساتھ اور ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر متوجہ ہونے کی بجائے رویت ہلال کے مسئلے پر جس طرح تضادات اختلافات اور تتر بتر ہوئے ہیں افسوس اور صد افسوس سے کہنا پڑتا ہے اس طرح دنیا میں کہیں نہیں ہوتا۔مسلمانوں کے عروج کا کوئی راز نہیں سوائے اس کے کہ قرون اولیٰ کے مسلمان بس مسلمان تھے اور یکسو تھے۔ ان میں نہ کوئی امتیاز تھا اور نہ ہی تغاوت جبھی تو دنیا پر حکمرانی کر گئے اور اسلام آج بھی انہی کے دم قدم سے باقی ہے۔

رمضان المبارک کی ان پُرنور اور مبارک ساعتوں میں ہونا تو یہ چاہئے کہ اس ماہ مقدس میں ہم اپنی اصلاح پر توجہ دیں اور ان کاموں سے باز آجائیں جو ہمارے معاشرے اور ہماری روزہ مرہ زندگی کا خاصہ بن چکے ہیں لیکن افسوس کہ ہم کو ماہ صیام کی بھی رعایت نہیں بلکہ بعض اوقات تو لگتا ہے کہ ہم اور بگڑ گئے ہیں۔ اس ماہ مقدس میں جس کا مقصد ہی تزکیہ نفس اور صبر وتحمل کی صفات کی مشق ہے دیکھا جائے تو معاشرہ اُلٹا چلنے لگا ہے۔ رمضان المبارک میں لڑائی جھگڑوں میں اضافہ ہوجاتا ہے، ملاوٹ ومہنگائی بڑھ جاتی ہے۔ تندوروں پر روٹی کا وزن کم اور معیار خراب ہو جاتا ہے۔ نانبائیوں کی طرف سے آٹا ٹھیک سے گوندھے بغیر نیم پکا کر اور پابندی کے باجود ڈبل روٹی دوگنے دام فروخت کرنے کی شکایت عام ہوجاتی ہے ۔ایک چھوٹی سی دکان میں بنائے گئے ان تنوروں میں نظافت اور حفظان صحت کے اصولوں کا خیال رکھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ آٹا گوندھتے ہوئے پسینہ برابر شامل تو ہوتا ہی ہے، آٹے اور روٹی بنانے کے تختے پر گندے پیر رکھنے سے دیکھنے والوں کو کراہت ہوتی ہے۔ پشاور میں فوڈ اتھارٹی والے خاصے فعال ہیںان کو چاہیئے کہ سبھی اس ماحول میں آٹا گوندھنے اور روٹی پکانے والوں کی طرزعمل اور شہریوں کی صحت سے کھیلنے والوں کا بھی جائزہ لیں اور مناسب کارروائی کریں۔ دوسری جانب ضلعی انتظامیہ کا بھی فرض بنتا ہے کہ ڈبل روٹی کے نام پر لوگوں کو لوٹنے کا نوٹس لیں۔ ڈبل روٹی کی اگر ماہ صیام کے پیش نظر اجازت دی جائے تو کم ازکم اس کی پکائی تو معیاری ہونی چاہئے۔ یہ شکایت کسی ایک علاقے کے لوگوں کا مسئلہ نہیںبلکہ پورے صوبے میں اس قسم کی صورتحال ہوگی، انتظامیہ حرکت میں آئے گی، فوڈ اتھارٹی والے نوٹس لیں گے تبھی یہ لوگ سدھریں گے۔ جب ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں قسم کا ماحول ملے گا تو تندور والوں سے توقع نہیں کہ وہ خوف خدا کریں، وہ اگر خوف خدا کرنے والے ہوتے تو اس شکایت کی ضرورت نہ ہوتی۔ رمضان المبارک میں مہنگائی میں اضافہ کی کئی شکایات آئی ہیں۔ انتظامیہ کو ان پر توجہ دینے کی بھی ضرورت ہے۔ معمول کی کارروائیوں سے ہٹ کر کچھ سخت اقدامات کئے بغیر رمضان میں اشیائے صرف کی قیمتوں میں مزید اضافہ کی روک تھام ممکن نہیں۔

ہزارہ ڈویژن سے اس کالم میں قارئین کی شرکت خال خال ہی ہوتی ہے۔ ایبٹ آباد سے محکمۂ جنگلات میں روزانہ اجرت پر کام کرنے والے ایک نوجوان (جس کا نام مصلحت کے تحت نہیں لکھا) نے شکایت کی ہے کہ وہ ایک عرصے سے روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں مگر ان کو مستقل نوکری نہیں دی جا رہی ان کے پاس پیش کرنے کیلئے نذرانہ نہیں اور نہ ہی وہ محکمۂ جنگلات کے افسران کے منظورنظر ہیں۔ میں نے ان کا نام اس لئے نہیں لکھا کہ روزانہ اجرت پر کام کرنے والے کو کبھی بھی کام پر نہ آنے کا کہا جاسکتا ہے۔ اس طرح کے ہزاروں لاکھوں نوجوان مختلف سرکاری اداروں میں کام کرتے ہیں، نجی اداروں میں تو مستقل ملازمین کی حیثیت بھی ڈیلی ویجز سے زیادہ نہیں ہوتی اور وہ جبر مسلسل کا شکار چلے آرہے ہیں۔ محکمۂ جنگلات ایبٹ آباد سمیت جہاں جہاں بھی سالوں سے روزانہ اجرت پر لوگ کام کر رہے ہیں ان کیساتھ ہمدردانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ افسران کو اختیارات کا استعمال امانت کے طور پر اور دیانت سے کرتے ہوئے حقدار افراد کو مستقل ملازمت کا موقع دینا چاہئے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس میں اپیل اور گزارش ہوسکتی ہے، جو لوگ کنٹریکٹ پر سالہا سال سے کام کر رہے ہیں ان کو مستقل کیا جائے اور جو لوگ روزانہ اجرت پر کام کر رہے ہیں ان کو کنٹریکٹ پر لیا جائے۔نوجوان طالب علم نور ایم ایس ڈی ایم کوہاٹ سے شکوہ کناں ہیں کہ تعلیمی بورڈوں میں میٹرک اور انٹر دونوں سطح پر نجی سکولوں کے طلبہ کو زیادہ اور سرکاری سکولوں کے طلبہ کو کم نمبر دئیے جاتے ہیں اور سرکاری تعلیمی اداروں کو خواہ مخواہ بدنام کیا جاتا ہے کہ ان سکولوں میں نمبر نہیں آتے۔ مجھے ان کی شکایت سے اتفاق اس لئے ہے کہ واقعی یہ عام مشاہدہ ہے کہ نجی سکولوں کے کم پڑھنے والے طلبہ بھی سرکاری سکولوں کے محنتی طلبہ سے زیادہ نمبر لیتے ہیں، نوجوان کی شکایت پر غور کرتے ہوئے خیال آیا کہ بورڈز کے پرچے تو سرکاری سکولوں کے اساتذہ ہی چیک کرتے ہیں پھر وہ بجائے اس کے کہ سرکاری سکولوں کے طلبہ سے ہمدردی رکھیں یا پھر انصاف سے پرچوں پر نمبر دیں نجی سکولوں کے طالب علموں سے رعایت کیوں برتتے ہیں۔ یہیں پہ آکر نوجوان کی جانب سے ممتحنین پر لگائے گئے الزام کی صداقت کا یقین ہونے لگتا ہے۔ بہرحال سو فیصد عامل معاملہ بدعنوانی کا نہیں اور بھی معاملات ووجوہات ہوسکتے ہیں۔ حکومت کو اس پر غور ضرور کرنا چاہئے کہ خود سرکاری اساتذہ ایسا کیوں کرتے ہیں۔ طالب علم خواہ وہ سرکاری سکولوں کے ہوں یا نجی سکولوں کے ان کے پرچوں کی جانچ پڑتال اور نمبر دینے کا منصفانہ اور یکساں اصول ہونا چاہئے تاکہ ناانصافی نہ ہو۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں