Daily Mashriq

ہوتا ہے شب وروز تماشا میرے آگے

ہوتا ہے شب وروز تماشا میرے آگے

میں جہاں بھی جس جگہ بھی جاتا ہوں لوگوں کو تنقید کرتے دیکھتا ہوں وہ اپنے اردگرد موجود لوگوں پر ان کے طور طریقوں پر تنقید کرتے نظر آتے ہیں وہ معاشرے کی ہرچیز کے عیب نکالتے ہیںمجھے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ان کی نظر کسی صحیح چیز پر پڑتی ہی نہیں ہے حالانکہ ہونا تو یہ چاہیے کہ اگر آپ کوئی خامی دیکھیں تو اس کا حل تجویز کریں شاید یہ ہمارا قومی مزاج بن گیا ہے کہ ہم ہر چیز میں کیڑے نکالنے کے عادی ہوچکے ہیں!سب کچھ برا تو نہیں ہے کچھ تو اچھا بھی ہو گا ؟جب سے اس کارخانہ حیات کی تعمیر ہوئی ہے تب سے اچھا برا چلتا رہتا ہے دنیا میں ہم اشیاء ، حالات و واقعات کو ان کی ضد سے پہچانتے ہیں ! دن رات، جھوٹ سچ، تاریکی اور روشنی کی پہچان ان کے تضاد ہی سے ممکن ہے اگر رات نہ ہوتی تو دن کہاں ہوتا؟ اچھائی کا وجود برائی کی مرہون منت ہے

بازیچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے

ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے

نیکی بدی ساتھ ساتھ چلتے ہیں دنیا کی پہچان اسی وقت ممکن ہے جب اپنی ذات سے بھی آگہی ہو اپنے آپ کو پہچانے بغیر دنیا کی پہچان کہاں ہوتی ہے؟ جس معاشرے میں ہم رہتے ہیں وہ کوئی اچھی تصویر بھی تو نہیں بنارہا جب اس قسم کی صورتحال ہو تو تنقید تو ہوگی ہمارے بہت سے دانشور ایسے بھی ہیں جو جہاں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہیں وہاں ان کا حل بھی تجویز کرتے ہیں لیکن نقارخانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے خلیل جبران نے کہا تھا ٌ افسوس ہے اس قوم پر جس کے دانشور کی کوئی آواز نہیں ہے جس کا سورما اندھا ہے جس کا وکیل چرب زبان ہے ! جس کی سیاست چالاکی ہے جس کا فلسفہ شعبدہ بازی ہے جس کی صنعت و حرفت پیوند کاری ہے ! افسوس ہے اس قوم پر جس کا ہر قبیلہ ایک قوم ہونے کا دعویٰ کرتا ہے!کیا آج ہمارے یہاں ہر قبیلہ قوم ہونے کا دعویٰ نہیں کررہا ؟ ہم تعصبات میں الجھے ہوئے ہیں وطن عزیز کو قائم ہوئے نصف صدی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن ابھی تک ہم ایک قوم نہیں بنے پاکستان بننے سے پہلے ہم ایک قوم تھے اور ہم نے اپنے لیے ایک علیحدہ وطن کا مطالبہ بھی دو قومی نظریے کی بنیاد پر کیا تھا لیکن آج ہم ایک قوم نہیں بن سکتے ہر قبیلہ ایک قوم ہونے کا دعویٰ کررہا ہے اسی سے تقسیم در تقسیم کا عمل جاری ہے ہم صوبائی تعصب کا شکار ہیں نسل اور زبان کے جھگڑوں میں الجھے ہوئے ہیں فرقہ پرستی کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے یہی وہ وجوہات ہیں جن کی وجہ سے ہماری ہوا اکھڑ چکی ہے ہماری بنیادیں کھوکھلی ہوچکی ہیں !پرانی بات ہے ایک گورا پاکستان کی سیاحت کے لیے آیا خوب گھوم پھر کر جب واپس اپنے وطن کو لوٹا تو وہاں ایک پاکستانی نے اس سے پوچھا کہ سنائو ہمارے وطن میں آپ نے کیا دیکھا ؟ اس نے بڑی معنی خیز انداز میں مسکراتے ہوئے کہا کہ آپ کا وطن بہت خوبصورت ہے تفریح کے بڑے دلفریب مقامات ہیں وسائل کی دولت سے مالا مال ہے اس میں دریا بھی ہیں جنگلات بھی اور سمندر کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے تمھارے وطن میں بہت کچھ ہے بس تم لوگوں نے اپنے آپ کو پہچانا نہیں ہے تم ایٹمی طاقت تو بن چکے ہو مگر تمھاری معیشت کا اب بھی برا حال ہے تم گردن تک غیر ملکی قرضوں میں جکڑ ے ہوئے ہو اور یہ سب کچھ تمھارا اپنا کیا دھرا ہے تمھارا مزاج یہ ہے کہ تم الزامات کی سیاست کرتے ہو دوسروں پر انگلی اٹھانا تمھاری عادت ہے تمھیں اپنے گریبان میں جھانکنا نہیں آتا تم ہر بات میں امریکی سازش ڈھونڈتے رہتے ہو تمھارے دین میں صفائی کو نصف ایمان کہا گیا ہے لیکن تمھاری گلیوں میں کوڑے کرکٹ کے ڈھیر پڑے نظر آتے ہیں! میںنے پاکستان میں بہت کچھ دیکھا لیکن مجھے کسی بھی جگہ کوئی پاکستانی نظرنہیں آیا میں نے وہاں پٹھان ، پنجابی، بلوچی اور سندھی تو بہت دیکھے لیکن کوئی پاکستانی نہیں دیکھا !آج بھی یہی صورتحال ہے ہماری سیاست صرف اور صرف چالاکی ہے ہم شعبدہ باز ہیں ہر شعبہ زندگی میں آپ کو کرتب دکھانے والے نظر آئیں گے ہم چکنی چپڑی باتوں سے ایک دوسرے کو دھوکا دینے میں مصروف ہیں۔

اخبارات میں سب اپنی اپنی ہانک رہے ہوتے ہیں اپنی تعریفوں کے پل باندھے جاتے ہیں اور مخالفین کو برا بھلا کہا جاتا ہے اسی طرح ٹی وی پر ٹاک شوز کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ جاری ہے کون سی بات ہے جو ان ٹاک شوز میں نہیں کہی جاتی کہاں کے آداب اور کہاں کی اخلاقیات ؟ بس دوسرے کی پگڑی اچھالنی ہے ایک دوسرے کو نیچا دکھانا ہے اگر بولنے والوں کی ایک قسم ہوتی تو ہم مطمئن ہوجاتے اور ہمیں صبر آجاتا لیکن یہاں تو بولنے والوں کی اتنی قسمیں ہیں کہ شمار بھی نہیں کی جاسکتیں !جب دانت کو کیڑا لگ جاتا ہے تو اس کا ایک ہی علاج ہوتا ہے کہ دانت کو نکال دیا جائے ہمارے معاشرے کے بہت سے اعضاء کو کیڑ ا لگا ہوا ہے انھیں جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ضرورت ہے لیکن ہم صرف لیپا پوتی سے کام چلانے کی کوشش کررہے ہیں ہم جھوٹ ، بناوٹ اور ریاکاری کو بہت بڑا آرٹ سمجھتے ہیں ہمارا یہ خیال ہے کہ ہم اپنے مسائل بناوٹ اور ریاکاری سے یا دوسروں کو دھوکا دے کر حل کرسکتے ہیں ہمارا معاشرہ بیمار ہے اسے بہت سی وبائوں اور بیماریوں نے گھیر رکھا ہے لیکن وہ ان بیماریوں کا اتنا عادی ہوچکا ہے کہ اب وہ اپنی بیماری کو بیماری ہی نہیں سمجھتا ! ہم دوسروں پر انگلیاں تو بہت اٹھاتے ہیںلیکن اپنے گریبان میں جھانکنے کی زحمت کبھی بھی گوارا نہیں کرتے ! ۔

متعلقہ خبریں