Daily Mashriq

بد عنوانوں اور قبضہ مافیا کے خلاف موثر مہم کے تقاضے

بد عنوانوں اور قبضہ مافیا کے خلاف موثر مہم کے تقاضے

خیبر پختونخوا حکومت اور قومی احتساب بیوروکا عدالت عظمیٰ کی جانب سے کرپشن اور بد عنوانی کے مرتکب سرکاری ملازمین کی جانب سے پلی بار گین اور رضا کارانہ واپسی سکیم کے تحت رقم واپس کرنے کے بعد سرکاری عہدوں پر برقرار رہنے والے خیبر پختونخوا کے نو سو سے زائد سرکاری افسران اور دیگر ملازمین کے خلاف انضباطی کارروائی کا آغاز اور شو کاز نوٹسز کا اجراء عدالت کے احکامات کی سنجیدہ پیروی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ تحریک انصاف کی جانب سے جس طرح بدعنوانی کے خلاف جنگ کو ایک جماعتی پالیسی اور منشور کا سنجیدگی کے ساتھ حصہ بنایا گیا ہے اس کے پیش نظر اس ضمن میں دیگر صوبوں کے مقابلے میں نہایت تیزی سے کارروائی ان کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ صرف یہی نہیں بلکہ صوبائی احتساب کمیشن کو فعال بنانے اور اینٹی کرپشن کے محکمے کو بھی کرپشن و بدعنوانی اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے خلاف فوری اور نظر آنے والے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ صوبائی احتساب کمیشن جس مقصدکے لئے قائم کیاگیا تھا اس کے مقاصد ابھی پورے ہوتے نظر نہیں آرہے ہیں بلکہ کمیشن کے قیام کے کچھ عرصہ بعد خود حکومت کی جانب سے قانون سازی کرکے اس کے پر کاٹ دئیے گئے اور اسے عضو معطل بنادیاگیا۔ اسی طرح اینٹی کرپشن کے محکمے کا کوئی کل وقتی ڈائریکٹر نہیں بلکہ اس کا اضافی چارج پہلے سے نہایت مصروف اور کئی ذمہ داریاں نجام دینے الے ڈپٹی کمشنر پشاور کو دی گئی ہیں جس کے لئے بدعنوانی کے مقدمات اور معاملات کے لئے وقت نکالنا اپنی جگہ مشکل کام ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ صرف سرکاری ملازمین کی جانب سے فنڈز ہڑپ کرنے اور رشوت لینے ہی کی بدعنوانی کا ارتکاب مسئلہ نہیں بلکہ سنجیدگی سے تحقیقات کی جائیں تو فراڈ اور دھوکہ دہی کی عجیب و غریب داستانیں سامنے آئیں گی۔ گزشتہ روز ہی ڈپٹی کمشنر پشاور نے بلدیہ کی ایک ایسی جائیداد کو کاغذات غائب کرکے اور دھوکہ دہی سے ہتھیانے کے ایک معاملے کی تحقیقات کاحکم دیا تھا۔ شہر کے عین وسط میں نہایت قیمتی جائیداد کو اگر اس طرح سے ہتھیایا جاسکتاہے تو ملی بھگت سے دیگر اراضی کو ہتھیانا تو چٹکی بجا کر ممکن ہوگا۔ شہر میں قبضہ گروپ کی سر گرمیاں کسی سے پوشیدہ نہیں جن کی اعلیٰ شخصیات اور حکام کی طرف سے سر پرستی بھی کوئی پوشیدہ امر نہیں۔ یقینا اس طرح کے عناصر پر ہاتھ ڈالنا حکومت کے لئے کوئی آسان کام نہیں لیکن اگر صوبے میں حقیقی معنوں میں احتساب کا عمل شروع ہونے جا رہاہے تو کیاصرف نیب سے بار گین کرنے والے سرکاری ملازمین کے خلاف کارروائی عدالت عظمیٰ کے احکامات کی تعمیل ہوگی۔ صوبائی حکومت کی جانب سے حقیقی احتساب اس وقت ہی سمجھا جائے گا جب سرکاری محکموں کے بد عنوان عناصر اور ان کی جانب سے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرنے والوں کو بھی کٹہرے میں لاکھڑا کیا جائے۔ امید کی جانی چاہئے کہ آمدہ ہفتوں میں خیبر پختونخوا میں نہ صرف پہلے سے ہونے والی انکوائریوں اور تحقیقات کے نتیجے میں اور پلی بارگین کرنے والے ملازمین کے خلاف ریفرنس دائر کئے جائیں گے بلکہ قبضہ گروپ اور ان کے سر پرستوں کے خلاف بھی بھرپور مہم سامنے آئے گی۔ نیز سرکاری محکموں میں راشی اور بد عنوان عناصر کے خلاف کریک ڈائون کیا جائے گا۔ تحریک انصاف بطور جماعت بدعنوانی اور قومی دولت لوٹنے والوں کے خلاف جس طرح سینہ سپر ہے اس کا تقاضا ہے کہ ان کی جماعت میں جو بھی نیب زدہ عہدیدار موجودہو اور وہ ریٹائرمنٹ کے بعد کسی سرکاری عہدے اور منتخب عہدے پر ہو ان سب کو ہٹا کر مثال قائم کی جائے۔ جو سرکاری ملازمین پلی بارگین کے بعد ملازمت کا باقی عرصہ پورا کرکے ریٹائر ہو چکے ہوں ان سے پلی بارگین کے بعد سے ریٹائرمنٹ تک کی مراعات واپس لے کر سرکاری خزانے میں جمع کی جائیں کیونکہ بد عنوانی کے از خود اعتراف کے بعد وہ خود بخود سرکاری عہدے کے لئے نااہل ہوگئے تھے۔ جو سرکاری افسران اور ملازمین نیب سے مفاہمت بلکہ سودے بازی کے بعد اپنے عہدوں پر موجود ہیں ان کو عدالت کا فیصلہ آنے تک کم از کم پرکشش عہدوں سے ہٹاکر ایسے محکموں میں لگایا جائے جہاں اختیارات کے ناجائز استعمال اور بدعنوانی کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہوں۔ اگر تحقیقات ہوں تو یہ دلچسپ حقیقت سامنے آئے گی کہ پر کشش عہدوں پر انہی لوگوں کی اکثریت براجمان رہی ہوگی اور جو لوگ لقمہ حلال اور اکل حلال کے فلسفے پر عمل پیرا ہوتے ہیں وہ ہر دور میں دھتکارے ہوئے ہی رہتے ہیں۔ اب بھی اگر خیبر پختونخوا کے سرکاری ملازمین کا سروے کیاجائے تو ایماندار اور دیانتدار عملہ کاپرکشش عہدوں سے بہت دور ہونے کا انکشاف ہوگا۔ صوبائی حکومت کو چاہئے کہ وہ چن چن کر سرکاری عہدوں پر ایسے افسران اور اہلکاروں کا تقرر کرے جو ایماندار اور دیانتدار ہوں۔ سرکاری محکموں کے اصلاح کا اس سے بہتر کوئی فارمولہ نہیں لیکن افسوس اس پر کسی بھی دور میں عمل ہوتا نظر نہیں آتا۔

متعلقہ خبریں