Daily Mashriq


کومبنگ آپریشن اور معاشرتی ہم آہنگی

کومبنگ آپریشن اور معاشرتی ہم آہنگی

کراچی میں ایک ہی دن میں بلکہ آدھے گھنٹے کے دوران فرقہ وارانہ بنیادوں پر چھ افراد کی ٹارگٹ کلنگ کے بعد قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں فعال تر ہو گئی ہیں۔ اگرچہ کومبنگ آپریشن پہلے سے جاری تھا تاہم یہ فعالیت اس لیے نمایاں نظر آتی ہے کہ ایک مسلک کے بعض اہم لوگوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ چھاپے مارے گئے ہیں اور کچھ اسلحہ بھی برآمد کیا گیا ہے۔ یہ کومبنگ آپریشن کب تک جاری رہے گا اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا ۔ تاہم سیاسی اور فوجی اہم ترین شخصیات کے یہ بیانات نظر میں ہونے چاہئیں کہ آخری دہشت گرد کے خاتمے آپریشن جاری رہے گا۔ دہشت گردوں کا بڑی حد تک صفایا کیا جا چکا ہے۔ تاہم کہا جاتا ہے کہ دہشت گردی کی وارداتوں میں 85فیصد کمی آ گئی ہے۔ کامیاب ضرب عضب آپریشن کے بعد بھی دہشت گردوں نے اپنا وجود ثابت کیا ہے اور جہاں کہیں موقع ملا بڑے پیمانے کی وارداتیں بھی کی ہیں جن میں کوئٹہ میں وکلاء پر حملہ اور پولیس ٹریننگ سنٹر پر حملے کو شمار کیا جا سکتا ہے۔ ایک اہم سوال یہ ہے کہ آیا دہشت گردی اور فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کا آپس میں کوئی تعلق ہے یا یہ جدا جدا عنصر ہیں۔ اس کا فوری جواب یہ ہو سکتا ہے کہ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کے محرکین اور دہشت گردی کے محرکین جدا جدا عناصر ہو سکتے ہیں لیکن برسرزمین کام کرنے والے یعنی دہشت گرد حملے کرنے والے اور ٹارگٹ کلنگ کرنے والوں میں سے بیشتر ممکن ہے آپس میں ایک دوسرے سے واقف ہوں۔ دہشت گرد حملے کرنے والے ہوں خواہ فرقہ وارانہ ٹارگٹ کلنگ کرنے والے یہ سہولت کاروں کے بغیر کام نہیں کر سکتے ۔ اس لیے ان کے سہولت کاروں کو کھوج کر نکالنے کے لیے کومبنگ آپریشن ضروری ہے۔ اس کے نتیجے میں اہم معلومات حاصل ہو سکتی ہیں کہ برسرزمین کام کرنے والوں کے آپس میں اگر رابطے ہیں تو کس حد تک ہیں۔ ٹارگٹ کلنگ اور دہشت گرد حملوں میں ایک فرق ہے کہ دہشت گرد حملے کا ہدف کوئی ایک شخص نہیں ہوتا بلکہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ زیادہ سے زیادہ خوف و ہراس پھیلے۔ اگر دہشت گرد کسی دوسرے مقام سے تربیت حاصل کرکے آتے ہیں تو ان کے سہولت کار بھی ہماری گلیوں محلوں میں رہتے ہیں۔ اس لیے ٹارگٹ کلرز ' ان کے سہولت کاروں اور دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں میں فرق نہیں کیا جا سکتا۔ دونوں برابر کے انسانیت دشمن اور ملک دشمن ہیں۔ کراچی میں حالیہ کومبنگ آپریشن اگرچہ فی الحال ایک مسلک کے عناصر کے خلاف نظر آتا ہے تاہم اس کومبنگ آپریشن کے نتیجے میں جو کراچی کے علاوہ ملک کے دوسروں حصوں میں بھی جاری ہے توقع کی جانی چاہیے کہ ایسے سہولت کار دریافت ہوں گے جو دہشت گردوں اور ٹارگٹ کلرز کے بھی میزبان ہوں گے۔ اگر یہ دو الگ الگ عنصر ہوں تو بھی ان کا جرم انسانیت اور ملک کے خلاف جرم ہے جس کے برداشت کرنے کی کوئی گنجائش نہیں۔ سپریم کورٹ نے کچھ عرصہ پہلے کچھ سیاسی جماعتوں کے بارے میں کہا تھا کہ ان کے متشدد ونگ ہیں لیکن جیسے آج کہا جا رہا ہے کہ 61ایسی تنظیموں کی نشان دہی کی جا چکی ہے جو تشدد کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔یہ بھی کہا جارہا ہے کہ حال ہی میں اس فہرست میں دو مزید تنظیموں کا اضافہ کیا گیا ہے جن میں سے ایک کا نام احرار الاسلام بتایا جا رہا ہے۔ احرار الاسلام کا نام اس وقت اخبارات میں آیا تھا جب طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات چل رہی تھی اور احرار الاسلام نے تحریک طالبان پاکستان کی مخالفت کرتے ہوئے دہشت گردی کا راستہ اپنائے رکھنے کا اعلان کیا تھا۔اس کے بعد دو ایک وارداتوں میں اس تنظیم کا نام آیا بھی پھر شاید اس تنظیم نے شہرت حاصل کرنے کی پالیسی تبدیل کر لی۔ اگر اکسٹھ یا تریسٹھ کالعدم تنظیموں کے نام موجود ہیں تو کم ازکم اتنے نام بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فہرست میں موجود ہوں گے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ ان میں سے کچھ یا بیشتر روپوش ہوںلیکن کبھی نہ کبھی اپنے متعلقین سے رابطہ بھی کرتے ہوں گے۔ روپوش لوگوں کے متعلقین کی نگرانی کرنا مشکل کام ہے۔ خفیہ کارایجنسیوں کے اہل کاروں کا انتخاب اور ان کی تربیت ایک وقت طلب کام ہے۔ فوری طور پر بھرتی نہیںکیے جاسکتے۔ دہشت گردی اور ٹارگٹ کلنگ کے لیے کارگزار تیار کرنے کے لیے پہلے تعصب کی ایک فضا تیار کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ محدود مکالمہ کی فضا قائم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جس میں صرف ہم خیال ہوں اوراختلافی نقطۂ نظر کے لیے نفرت اور عدم برداشت کے جذبات ابھارے جائیں۔ یہاں سے پرجوش لوگ بھرتی کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے بعد ان کی نظریاتی اور عملی تربیت کا مرحلہ آتا ہے۔ جس کمیونٹی میں جس معاشرے میں یہ سب کچھ ہوتا ہے اس کے لوگوں کو اس کا اندازہ ہونا چاہیے۔ اس لیے ضروری ہے کہ معاشرے میں مکالمہ کو فروغ دیا جائے۔ اختلافی نقطۂ نظر کے اظہار کے لیے برداشت پیدا کی جائے ۔ یہ رائے عامہ کے قائدین کاکام ہے جن میں نہ صرف علمائے کرام اورسیاسی قائدین آتے ہیں بلکہ مقامی سطح کی قیادت بھی آتی ہے۔ مقامی قیادت مکالمہ کو فروغ دینے اور اجتماعی زندگی میں میل ملاپ کو بہتر طور پر آگے بڑھا سکتی ہے۔ حال ہی میں ملک میںبلدیاتی انتخابات ہوئے ہیں۔ سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے بلدیاتی اداروں سے زیادہ اور کوئی ادارہ موثر نہیں ہوسکتا۔ یہ ادارے کھیلوںکی سرپرستی کر سکتے ہیں ' سماجی مسائل کے حل میں فعال ہو سکتے ہیں۔ اس طرح معاشرے میں ہم آہنگی کے لیے موثر کام کر سکتے ہیں لیکن ان اداروں کے ارکان اپنے علاقے کے لوگوں کو انتظامی اداروں سے بہتر طور پر جانتے ہیں۔ وہ اپنے علاقے کے ذہنی رجحان سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ اور اگر کہیں کوئی قابلِ اعتراض سرگرمیاں ہوتی ہیں تو ان سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ ان اداروںکو فعال کیا جائے تو معاشرتی ہم آہنگی کے فروغ کا باعث بن سکتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں