Daily Mashriq

کتنا سچ کافی ہے؟

کتنا سچ کافی ہے؟

یہ دنیا غالب کے سامنے بازیچہ اطفال رہی اور وہ تماشائے دنیا کا باطن دیکھتے رہے۔ لیکن ہم اس بازیچہ اطفال کے سیاست دانوں کے سامنے طفل مکتب ہیں۔ وہ جو طنابیں کھینچتے ہیں ہم ان کے اشاروں پر مسلسل کٹھ پتلیوں کی طرح ناچتے رہتے ہیں۔ اس بے ثبات دنیا میں دوام پر اسی ایک تماشے کو ہو جس کے کردار بھی ہم ہیں' کہانی بھی اور انجام میں سزا پانے والے بھی ۔ جب کبھی کوئی بات سمجھ آنے لگتی ہے ایک نیا پردہ ہماری نگاہوں کے سامنے گرا دیا جاتا ہے۔ ہم الجھتے رہتے ہیں' جھنجلاتے رہتے ہیں اور پھر کہیں سے ڈور ہلتی ہے ہم ناچنے لگتے ہیں۔ شاید یہ تکلیف اتنی نہ ہوتی اگر یہ احساس اجاگر نہ ہونے لگتا کہ ہم مسلسل کسی کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں اور اس سب کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ سب ہی بے مصرف اور بے فیضہے۔ لاحاصل کے سناٹوں سے گونجتی ہماری دنیا میں کبھی اثبات کا کوئی رنگ پیدا بھی ہونے لگتا ہے تو جمہوریت کی کم سنی اور کمزوری آڑے آجاتی ہے۔ کوئی احتساب کی بات کرے تو یہ غم ستانے لگتا ہے کہ کہیں جمہوریت کی سانس نہ ڈوبنے لگیں۔ جانے یہ سب کیا ہے اور ہم ایسے نا اہل کیوں ہیں کہ خود اپنے ہی مفادات کی حفاظت میں ناکام ہیں۔ جب سے پاناما لیکس کے حوالے سے بات چیت کا آغاز ہوا ہے اور عمران خان نے لوگوں میں اس خیال کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ملک میں کوئی بھی انصاف' احتساب اور قانون سے بالا تر نہیں ہونا چاہئے۔ سوچنے والوں نے ایک نئی نہج میں' ایک نئی سمت میں دیکھنا اور سوچنا شروع کردیا ہے۔ یہ احساس ہی کمال ہے کہ ہم جنگل میں نہیں رہتے اور قانون بالآخر ہر ایک سے' ہر ایک کی خواہش سے بالاتر ہے۔ آج جب مریم نواز' حسین نواز اور حسن نواز کے اثاثہ جات کی بات چیت ہوتی ہے۔ جب نواز شریف کو اپنے وسائل کا حساب دینا پڑتا ہے تو خواہ وہ کس قدر جھوٹ بولیں یا کیسی بھی لفاظی ان کی حمایت میں استعمال کی جائے ایک عام آدمی مطمئن ہونے لگتا ہے کہ شاید اس کے محفوظ ہونے کے دن آرہے ہیں۔ منی لانڈرنگ کیا ہے کی مکمل سمجھ بوجھ نہ ہونے کے باوجود بھی یہ احساس کہ آج کے بعد اگر کوئی ہمیں لوٹنے کا خواہشمند ہوگا تو اگلی جرأت سے پہلے ایک دفعہ سوچے گا۔ عجب اطمینان کو جنم دیتا ہے کہ عمران خان کی سیاست کا مقصد کیا ہے۔عمران خان کی اس سیاست سے کیا خواہشات پیوست ہیں' عمران خان اور تحریک انصاف کا منشور کیا ہے۔ تحریک انصاف کے جلسوں میں کیا ہوتا ہے۔ کوئی کیا کہتا ہے' کیسے ناچتا ہے' یہ ساری باتیں بے معنی سی لگتی ہیں۔ عمران خان کی پشت پناہی یہودی کریں یا عیسائی' فوج کرے یا کوئی اور سیاسی جماعت' اس سے کسی بھی عام آدمی کو کیا نسبت ہم تو اپنا مقصد پورے ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہماری خواہش ہی ہمارا مقصد ہے اور ہماری خواہش ہے کہ اب ہمیں کوئی نہ لوٹے۔ کوئی کتنا بھی طاقتور ہو' کسی نے جلا وطنی کاٹی ہو یا اس کا نانا پھانسی چڑھ گیا ہو' کسی کا باپ وزیر اعظم ہو یا اس ملک کا صدر رہا ہو اب کسی بھی بات کو وجہ بنا کر کوئی ہماری پہلے سے پھٹی ہوئی جیب میں پڑے چند سکوں پر اپنی حرص کی انگلیاں نہ پھیرے۔ ہم بس اپنے کاندھوں پر مزید قرضوں کا بوجھ نہیں چاہتے۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمارے آنگنوں میں کھیلتے ننھے بچوں کو اس ملک کے حکمرانوں کی خواہش کے قرضوں سے ٹھوکر لگے۔ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی لٹیرا' چور ڈاکو ہماری قسمت کا فیصلہ کرے۔ عمران خان کو سیاست کرنی آتی ہے یا نہیں' عمران خان کا اپنا کردار کیسا ہے یا کیا رہا ہے۔ عمران خان کے ساتھ کھڑے انبوہ میں کون لوگ ہیں اور ہم سے کیا چاہتے ہیں' ہمیں اس سب سے کوئی نسبت نہیں۔ ایک جانب اچکے کھڑے ہیں تو چاہے دوسری جانب چور کھڑے رہیں اور ان کے گرد جو تماشائی ہیں اس میں پیپلز پارٹی کے نام کے جیت کرتے اور چھوٹی چھوٹی پارٹیوں کے نام کے نو سر باز رہیں' یہ سب ایک دوسرے کے تماشوں سے محظوظ ہوتے رہیں بس ہمیں یہ معلوم ہو کہ یہ سب ہی ہمیں نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ سب ہی ہمارے دشمن ہیں' یہ سب ہی جونگیں ہیں۔ یہ ادراک ہمیں ہو اور کبھی ایک لمحے کو بھی ذہن میں یہ غلط فہمی جنم نہ لے کہ یہ ہمارے دوست ہوسکتے ہیں۔ ایک لمحے کو بھی خیال میں یہ شائبہ تک پیدا نہ ہو کہ ہماری کوئی خیر خواہی کر سکتے ہیں۔ بس اتنا سچ جان لینا ہی کافی ہے اور اس پر ہم عمران خان کے شکر گزار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو سی پیک کے منصوبے میں ''دوسروں'' کو شامل کرلیتے ہیں تاکہ کہیں کوئی ناراض نہ ہو۔ یہ ہمیں پریشانیوں میں الجھاتے ہیں تاکہ ہماری نظر کبھی اس اصل کی طرف نہ جاسکے جو اصل اور بہت بڑا گھاٹے کا سودا ہے۔ بجلی کے بلوں میں الجھا کر یہ ہم سے انسان ہونے کی خواہش بھی چھین لینا چاہتے ہیں۔یہ ہمارے اصل دشمن ہیں اور ہم انہی کے بہکاوے کا شکار ہیں۔ جب کوئی کسی میڈیا کے سٹوڈیو میں بیٹھ کر دعوے سے کہتا ہے کہ یہ دسمبر میں نہ ہوں گے وہ جو شدید بہکاوے میں سے غصے میں آجاتے ہیں کہ آخر اس نے یہ کہا کیسے اور جو کم بہکاوے میں ہیں خوش ہو جاتے ہیں۔ کوئی یہ نہیں سوچتا یہ سیاست اور سیاست دان تو سارے ہی بہکاوے کے کھیل ہیں۔ ان کی کس بات میں سچائی ہے یہ تو وہ کمال لوگ ہیں جو قتل کے مقدمات سے بچ نکلتے ہیں اور جیل میں ہوتے ہوئے میئر بن جاتے ہیں۔ ان کی شعبدہ بازیاں تو دنیا سے نرالی ہیں لیکن پھر خیال آتا ہے کہ بس ان کا اصل جان لینا بھی بہت ہے کہ ابھی تک تو ہم اس سے بھی واقف نہ تھے۔ لیکن پھر سوچتی ہوں کہ کتنا سچ کافی ہے کیا بس اتنا؟۔

متعلقہ خبریں