Daily Mashriq

تب اور اب

تب اور اب

چھ سال پہلے کی بات ہے ہمارے ایک دوست میاں شمیم احمد نے جواب ہم میں نہیں رہے' ہمارے ہاتھ پر بندھی گھڑی کی قیمت پوچھی۔ ہم نے کہا بیٹی نے خرید کر دی ہے۔ قیمت مگر اس کی دو فگرز سے زیادہ نہ ہوگی۔ ان کا دوسرا سوال تھا کچھ معلوم ہے ہمارے حکمران جو گھڑیاں ہاتھوں پر باندھتے ہیں وہ کتنی کی ہوں گی۔ ہم نے اپنی اوقات اور بساط کے مطابق دس ہزار سے بات شروع کی۔ ہر بار وہ تین چار ہزار قیمت بڑھانے پر بھی نفی میں سر ہلاتے رہے۔ جب ہمارا اندازہ 50لاکھ پر جا کر ختم ہوا تو پھر انہوں نے ہاں کہہ کر ہمارا جواب درست قرار دیا۔ ہم حیران تھے کہ جب لوگ آسمان پر چاند اور سورج کو دیکھ کر وقت کا اندازہ لگا لیا کرتے تھے تب بھی زندگی اسی طرح رواں دواں تھی۔ دیہاڑی لگانے والا مزدور دوسروں سے وقت پوچھ کر زندہ رہتا ہے۔ ہم آٹھ نو سو کی گھڑی کا استعمال کرتے ہیں ہماری اوقات پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس طرح 50لاکھ روپے کی گھڑی جو لوگ استعمال کرتے ہیں ان کی زندگی کے شب و روز میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا۔ البتہ یہ ضرور اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے اور حکمرانوں کی طرز زندگی کے درمیان کئی لاکھ سالوں کا فرق ہے۔ شنید ہے کہ پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان جو پانی پت کے نواب تھے شہید ہوئے تو ان کے پائوں سے جوتے اتارنے کے بعد معلوم ہوا کہ ان کے موزے صرف پھٹے ہوئے ہی نہ تھے ان کے رنگ بھی ایک دوسرے سے مختلف تھے اور ان کی جیب میں صرف دس بارہ روپے پڑے پائے گئے تب اور اب میں صرف یہ فرق آیا ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو اللہ طویل زندگی دے 50لاکھ روپے کی گھڑی باندھتے ہیں اور ان کی جیب سے کھربوں روپے کی آف شور کمپنیاں برآمد ہوتی ہیں۔ ہمارے دوست گل بہادر خان یوسفزئی نے ہمیں ایک چشم کشا ویڈیو روانہ کی ہے جس میں 1947ء کے پاکستان کی کچھ جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔ اس سے نئے اور پرانے پاکستان کے درمیان ایک واضح فرق نظر آتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ کابینہ کا اجلاس جاری تھا اے ڈی سی نے قائد اعظم سے پوچھا سر' چائے پیش کی جائے یا کافی؟ قائد اعظم نے حیرت سے کہا کیوں؟ یہ لوگ گھر سے چائے پی کر نہیں آئے۔ پھر صاف الفاظ میں بتا دیا جس کو چائے کی طلب ہو وہ گھر جا کر اپنا شوق پورا کرسکتا ہے اس کے بعد کابینہ کے اجلاس میں صرف سادہ پانی سے شرکاء کی تواضح کی جاتی تھی۔ ایک بار گورنر ہائوس کے لئے 38روپے کی کچھ اشیاء خریدی گئیں۔ اس میں کچھ سامان فاطمہ جناح صاحبہ کے لئے تھا حکم دیا کہ یہ رقم ان کے اکائونٹ سے کاٹ لی جائے۔ دو تین چیزیں قائد اعظم کے ذاتی استعمال کے لئے تھیں وہ رقم انہوں نے اپنے اکائونٹ سے ادا کی۔ باقی رقم کی سرکاری خزانے سے ادائیگی کے لئے اجازت تو دے دی لیکن آئندہ کے لئے سرکاری اخراجات میں احتیاط سے کام لینے کے لئے بھی کہا۔ برطانیہ کے بادشاہ کا بیٹا پاکستان کے دورے پر آرہا تھا۔ برطانیہ کے سفیر نے قائد اعظم سے ان کا ائیر پورٹ پر استقبال کرنے کے لئے کہا۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں قائد اعظم کا جواب تھا' شرط صرف یہ ہے کہ اگر میرا بھائی کبھی برطانیہ گیا تو پھر برٹش ٹیم کو بھی ان کو لینے ائیر پورٹ پر آنا پڑے گا۔ زیارت میں شدید سردی پڑ رہی تھی ان کے ذاتی معالج کرنل الٰہی بخش نے نئے موذے پیش کئے ۔ آپ نے پسند فرمائے' قیمت پوچھی۔ بتایاگیا دو روپے۔ بولے' یہ تو بہت مہنگے ہیں' بیماری آدمی ہوں' میں اس عالم میں نئے موزوں کے استعمال کی عیاشی نہیں کرسکتا۔ موزے لپیٹ کر کرنل صاحب کو واپس کردئیے۔ زیارت میں ایک نرس کی خدمت سے متاثر ہوئے ایک روز اس سے پوچھا' بیٹی میں تمہارے لئے کیا کرسکتا ہوں؟ نرس نے بتایا میں پنجاب کی ہوں' میرا سارا خاندان وہاں رہتا ہے ۔ میں یہاں اکیلی ملازمت کر رہی ہوں' میرا ٹرانسفر کرادیجئے۔ نرس کو اداس لہجے میں کہا' یہ محکمہ صحت کا کام ہے۔ میرے دائرہ اختیار میں نہیں۔ آپ نے طیارے میں رائٹنگ ٹیبل لگانے کے لئے کہا۔ فائل وزارت خزانہ کو روانہ کردی۔ اجازت تو دے دی گئی مگر ساتھ یہ نوٹ بھی لگا دیا کہ گورنر جنرل کو اس نوع کے احکامات جاری کرنے سے پہلے اجازت لینا لازمی ہے۔ آپ نے فوری طور پر وزارت خزانہ سے معذرت کردی اور اپنا حکم منسوخ کردیا۔ پھاٹک والا واقعہ تو سب کو معلوم ہے۔ آپ کے اے ڈی سی گل حسن نے آپ کی گاڑی گزارنے کیلئے ریلوے پھاٹک کھلودای۔آپ نے اس پر شدید برا منایا اور کہا کہ اگر میں قاعدے کی پابندی نہ کروں گا تو پھر کسی دوسرے سے کیا توقع کی جاسکتی ہے۔ یہ آج سے ستر سال پہلے کا پاکستان ہے۔ ہم آج ترقی کی بے شمار منزلیں طے کرکے بہت آگے نکل آئے ہیں۔ پھاٹک تو رہا ایک طرف ہم دیکھتے ہیں کہ آج کے حکمرانوں کی آمد سے کئی گھنٹے پہلے تمام سگنل بند کردئیے جاتے ہیں' ناکے لگ جاتے ہیں 'سڑکیں بند ہو جاتی ہیں اور جب تک کسی بھی حکمران کی شاہی سواری گزر نہیں جاتی نہ ٹریفک کھلتی ہے نہ سڑک آزاد ہوتی ہے۔ حکمرانوں کاتو خیر جواب نہیں'ہم نے سرکاری افسروں کی وجہ سے ٹریفک کے کھلنے تک گھنٹوں انتظار کیا ہے۔ وزارت خزانہ کی اجازت سے پہلے ہی جلسوں میں 50کروڑ کی خطیر رقم لوگوں کے پائوں میں رکھنے کے اعلانات ہوتے ہیں ۔ جہاز اور بلٹ پروف گاڑیاں تک خرید لی جاتی ہیں۔ وزراء اور مشیروں کے احکامات پر سینکڑوں لوگ بھرتی کرلئے جاتے ہیں۔ اتنے ہی لوگوں کے تبادلے ہوتے ہیں ۔ اس سے زیادہ لوگ ملازمتوں سے نکال دئیے جاتے ہیں اور اس سے زیادہ افراد کو قواعد و ضوابط کے بغیر ترقیاں دے دی جاتی ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر کیا ہمیں آج 70سال پہلے کے پاکستان کی زیادہ ضرورت نہیں۔ چلئے فیصلہ آپ پر چھوڑ دیتے ہیں۔

متعلقہ خبریں