Daily Mashriq

''گناہ بے لذت''

''گناہ بے لذت''

پاکستان میں تین طرح کے سیاستدان پائے جاتے ہیں۔ ایک وہ جو الیکشن جیتنے اور حکومت سازی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دوسرے وہ جو منتخب حکومت کے گرنے اور اقتدار پرجھپٹنے کی تاک میں رہتے ہیں اور تیسرے وہ جوبیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کے مصداق کسی نہ کسی حکومت کے ساتھ چمٹ کر اقتدار کا جھولا جھولتے ہیں۔ان تینوں میں سے مظلوم ترین لیکن دھن کے پکے اول الذکر ہیں یا پھر اقتدار میں نہ جانے کیا مزہ ہے کہ یہ جانتے ہوئے بھی کہ آزادی سے کام نہیں کرنے دیا جائے گا،حکومت بناتے ہیں اور پانچ سال پورے کرنے کے لئے ایڑی چو ٹی کا زور لگاتے ہیں۔انہیں خوب علم ہوتا ہے کہ آزاد خارجہ و داخلہ پالیسیاں نہیں بنا سکیں گے ،سیکوررٹی کے معاملات پر گرفت نہیں کر سکیں گے، پھر بھی اقتدار حاصل کرتے اور چومکھی لڑتے لڑتے پرویز رشید جیسے لوگوں کی '' بلی'' چڑھا کر کچھ نہ کچھ وقت گزار ہی لیتے ہیں۔پیپلز پارٹی کی پچھلی حکومت نے پانچ سال پورے کئے لیکن یوں کہ پورا عرصہ پل صراط پر چلتے گزارا۔ان پانچ سالوں میں کوئی ایک دن بھی ایسا نہ تھا جو اس حکومت کے صدر، وزیراعظم یا کسی وزیر نے سکھ کے ساتھ گزارا ہو۔آصف زرداری کی فراست یا پھر مسلم لیگ ن کی فرینڈلی اپوزیشن کی بدولت یہ حکومت پانچ سال تو پورے کر گئی لیکن جس قدر ڈیلیور کرنے کی اہلیت رکھتی تھی اس کا صرف پچیس فیصد بھی ڈیلیور نہ کر سکی۔اب مسلم لیگ ن پل صراط پر چل رہی ہے اور پیپلز پارٹی اسے گرنے سے بچانے کی سرتوڑ کوشش کر رہی ہے۔ میں نے تحریک انصاف کے ایک دوست سے کہا کہ شریفوں کا بس سال ڈیڑھ سال رہ گیا ہے، اگلے الیکشن کا انتظار کر لیں اور انہیں پچھاڑ کر حکومت بنا لیں، مسکرا کر کہنے لگا یہ بہت مشکل ہے ۔جواب سن کر میں انگشت بدنداں رہ گیا۔اور اس سوال کا جواب مل گیا کہ الیکشن کا انتظار کرنے کی بجائے بعض لوگوں اور سیاسی جماعتوں کو مسلم لیگ ن کی حکومت گرانے کی اتنی جلدی کیوں ہے؟ دو سال پہلے کا دھرنا شروع ہوا تواس وقت میری ہمدردیاں کپتان اور اس کی ٹیم کے ساتھ تھیں۔بحیثیت اخبار نویس میں نے کپتان کو اس وقت بھی دیکھا اور پرکھا جب وہ اکثر شکوہ کرتے دکھائی دیتے تھے کہ انصاف کا نعرہ لگانے کے باجود لوگ ان کے ساتھ آنے میں ہچکچا رہے ہیں۔یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں اسلام آباد کے ایک قومی اخبار میں ایک کلیدی پوسٹ پر کام کر رہا تھا۔کپتان بڑے مزے سے ٹانگیں پسارے میرے سامنے بیٹھا تھا اور بڑے اعتماد سے ہر سوال کا جواب دے رہا تھا،اور میں سوچ رہا تھا کہ اس با اصول آدمی کو اگر کبھی حکومت مل گئی تو یہ پاکستان کی تقدیر بدل دے گا،یاد رہے کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب ابھی جہانگیر ترین جیسے لوگ کپتان کے مشیر نہیں بنے تھے۔کپتان کے ساتھ مہرووفا کا یہ تعلق دھرنے تک قائم تھا لیکن جب یہ دھرنا ایک سو چھبیس دنوں پر محیط ہو گیا اور میں نے ایک محتاط اندازہ لگایا کہ اس عرصے میں پاکستان کا کتنا بڑا معاشی نقصان ہوا تو بات اربوں سے کھربوں تک جا نکلی اور یہی وہ وقت تھا جب میں ذہنی طو پر کپتان سے دور ہو گیا۔یادش بخیر ایک وقت وہ تھا کہ جب چین کے لئے محبت ہماری رگوں میں لہو بن کر دوڑتی تھی۔ہمیں بچپن،لڑکپن،نوجوانی میں جو سبق پڑھایا گیا کہ چین ہی ہمارے دکھ درد کا سچا ساتھی ہے۔ لیکن ایک سو چھبیس دنوں کا دھرناچین جیسے اس عظیم دوست کے صدر کے دورہ پاکستان کی راہ میں سد راہ بن گیا اورپاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا کہ چین کے کسی اعلیٰ ترین عہدیدار کا دورہ کسی سیاسی جماعت کے احتجاج کی نذر ہوا ہو۔ ساٹھ ستر سالوں سے ہم جبر کے جس ماحول میں رہ رہے ہیں وہ نہ ہوتا تو ہماری سیاسی جماعتیں بھی سدھر گئی ہوتیں اور ہم ترقی میں ایشیاء کے امام بھی بن گئے ہوتے۔امن بھی ہوتا اور سکون بھی لیکن جنہوں نے ہمارا یہ حال کیاانہیں کوئی افسوس ہے نہ ملال۔کوئی بتائے کہ کیا پاکستان کو امریکی کیمپ میں کوئی سیاستدان لے کر گیا تھا۔تھینک یو امریکہ کے پلے کارڈز کس کے دور میں اونٹوں کے گلے میں لٹکائے گئے تھے۔ بڈھ بیر کس کے دور میں امریکیوں کے حوالے کیا گیا تھا۔روس کے خلاف امریکہ کے جہاد میں کودنا کیا کسی سیاستدان کا فیصلہ تھا؟امریکہ سے اربوں ڈالر کیا سیاستدانوں نے اینٹھے تھے؟شربت گلے جیسی عورتوں کو اس انجام تک کس نے پہنچایا؟طالبان کی حکومت کے خاتمے کے لئے کیا سیاستدانوں نے امریکہ کو اپنا کندھا فراہم کیا تھا؟ کیا عافیہ صدیقی کو نواز شریف یا زرداری نے امریکی بھیڑیوں کے حوالے کیا تھا۔ کس کے عہد جبر میں لال مسجد کی اینٹ سے اینٹ بجائی گئی؟کس کے دور میں ہم افغانستان کے خلاف امریکہ کے ہاتھوں استعمال ہوئے؟ کس کے عہد پر آ شوب میں تحریک آزادی کشمیر کا ستیا ناس ہوا؟ اور کیا اس سب کے بالمقابل کبھی سر جڑے ، کبھی کمیشن بنے،کبھی اعلیٰ سطح کی تحقیقاتی ٹیم بنی؟سیاستدان سے ذرا سی غلطی ہو جائے تو اسے سکول ماسٹر بن کر مرغا بنا دیا جائے لیکن '' وہ '' پہاڑ جیسی غلطیاں بھی کریں توکسی کو جرات سوال نہ ہو تو پھر استعمال کرنے کے لئے تحریک انصاف کی پاک دامنی ہی رہ جاتی ہے کہ نہ اسے کبھی حکومت ملی ،نہ اس کے ذمے کوئی حساب باقی ہے لیکن کون کہہ سکتا ہے کہ حکومت ملنے کی صورت میں کپتان اپنی مرضی چلائے تو اسے بھی پیپلز پارٹی اور ن لیگ کے ساتھ تاریخ کے تنور میں جلنے کے لئے ڈال دیا جائے کیونکہ '' انہیں '' صرف چوہدری سُوٹ کرتے ہیں جو سوال کرتے ہیں نہ اپنی مرضی سے فیصلے کرتے ہیں۔

متعلقہ خبریں