Daily Mashriq

ہمیشہ بہ بے وقوف او بے شعور وی

ہمیشہ بہ بے وقوف او بے شعور وی

انسانی ذہن بھی اللہ پاک کی کتنی حیرت انگیز تخلیق ہے یہ آپ کو پلک جھپکتے ہی ہزاروں برس پیچھے لے جاسکتاہے آپ اپنے تخیل کی قوت سے غاروں میں زندگی بسر کرنے والے انسانوں کو پہاڑوں پرچلتا پھرتا دیکھ سکتے ہیںجو اپنے جسم پر چند پتے لپیٹے ہاتھ میں پتھر تھامے جانوروں کا شکار کرتے تھے پتھروں کو رگڑ کر آگ جلایا کرتے تھے۔ انسان پتھر کے زمانے سے نکلا تو کھیتی باڑی کے عہد میں داخل ہوگیا اس کے لیے زمین اور پانی اہمیت اختیار کرگئے اس کی گزر اوقات کھیتوں میں فصل اگا کر ہونے لگی ہرسال آنے والے سیلابوں کا مقابلہ کرنا انسان نے سیکھ لیا، زمینوں کو قابل کاشت بنا کر اپنے لیے کھانے پینے کا بندوبست کرلیا۔ وقت گزرتا گیا آبادی بڑھنے لگی حضرت انسان کی خوشیاں اور غم ساتھ ساتھ چلتے رہے نت نئے رسم ورواج زندگی کا حصہ بنتے گئے ان کے کلچر میں دریا کا کردار بڑا اہم تھا دریائوں کے کنارے تہذیبیں پھلنے پھولنے لگیں جہاں بہت سے لوگ مل جل کر رہتے ہیں وہاں اختلافات بھی ہوتے ہیں لڑائیاں بھی لڑی جاتی ہیں ۔یہاں سے بات آگے بڑھی تو شہروں تک آپہنچی ، پہاڑوں سے اتر کر آبادیوں کی طرف آنے والے جسمانی طور پر مضبوط ہوتے وہ بڑی آسانی سے شہروںمیں اپنی جگہ بنالیتے۔ 2000BC میںپہاڑوں سے اتر کر آنے والوں نے میسو پوٹیمیا، مصر، وادی سندھ اور چین میں اپنی بستیاں آباد کرلیں۔ یونان کی شہری ریاستوں نے بڑی تیزی سے ترقی کی اور اپنی ثقافت کو دور دوراز کے علاقوں تک پھیلادیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب یونان میں افلاطون،سقراط اور ارسطو وغیرہ نے فطرت اور انسانیت پر بحث مباحثوں کا آغاز کردیاتھا۔ دوسری طرف چین میں کنفیوشس کے پیروکار اس حوالے سے بحث مباحثوں میں مصروف تھے کہ آپس میں الجھی ہوئی خانہ جنگی میں مصروف ریاستوں کو کیسے ایک مضبوط نظام کے تحت لایا جائے تاکہ عوام کے دکھوں اور پریشانیوں میں کمی کی جاسکے ان کے مسائل کا حل تلاش کیا جائے اور دنیا کو رہنے کے قابل بنایا جائے ۔ آج ہم اکیسویں صدی میں داخل ہوچکے ہیں لیکن اگر غور کیجیے تو آج تک کچھ بھی نہیں بدلا سائنس کی ترقی کے ساتھ سہولتوں میں اضافہ تو ہوا ہے فاصلے سمٹ گئے ہیں دنیا کے ہرکونے میں رہنے والے انسان ایک دوسرے سے باخبر ہوگئے ہیں یوں کہیے کہ دنیا آپ کے بیڈ روم میں سمٹ کر آگئی ہے۔ آپ اپنی گود میں رکھے لیپ ٹاپ کے ذریعے دنیا بھر کی سیر کرتے ہیں دنیا کی تہذیبوں کا مطالعہ کرتے ہیں لیکن انسان کی بنیادی جبلت وہی ہے جو پتھر کے زمانے میں تھی۔زندگی کی دلچسپیاں، رنگینیاں،آنے والے کل سے بے خبری، ہر لمحے چونکا دینے والے واقعات، اچھے دنوں کی امید، انہونیوں کا ڈر! ان سب باتوں نے اوراق زندگی میں کتنے رنگ بھر دئیے ہیں۔ پیٹ بھرنے کی ضرورت اور تن ڈھانپنے کی خواہش سے شروع ہونے والا یہ سفر آج وسعت عالم کا احاطہ کیے ہوئے اور انسان دنیا کے اس میلے میں سر پٹ بھاگ رہا ہے۔ اگر دنیا کے اس چند روزہ قیام کو بقول آئن سٹائن ایک ایسی تکون میں ڈھال لیا جائے جو نیکی ، خوبصورتی اور سچائی کے اصولوں پر استوار ہو تو زندگی کتنی اعلیٰ و ارفع ہوجاتی ہے ۔ دراصل زندگی اور جاننے کی خواہش نے ایک دوسرے کو دوام بخشا ہے ابدیت عطا کی ہے ورنہ ہم آج بھی کسی غار کے دھانے پر بیٹھ کر خودرو جھاڑیوں کے پتے چبا رہے ہوتے۔ جو دریافت نہیں ہوا اسے دریافت کرنا ہی ہمارا مقصد حیات ہونا چاہیے کائنات کے یہ اسرار ہی سچے آرٹ اور سائنس کے حصول کا ذریعہ ہیں جو شخص حیران نہیں ہوتا وہ اپنے چاروں طرف پھیلی ہوئی کائنات کے حوالے سے سوالات نہیں اٹھاتا تو وہ پھر اپنے ہونے کا دعویٰ کیسے کرسکتا ہے ؟آپ اپنے اردگرد غور سے دیکھیے ٹی وی کے ٹاک شوز کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ، سیاستدانوںکی ہنگامہ آرائیاں، اپنی اپنی ڈفلی اور اپنااپنا راگ، نگاہوں کو خیرہ کردینے والی خواہشات اپنے اندر کب جھانکنے دیتی ہیں۔ اپنے آپ سے بات کرنے کا وقت بھی تو نہیں ملتا اور وقت ملے بھی تو کیسے! Wordsworth نے سچ ہی کہا تھا: زمین ہمارے لیے اپنی گود خوشیوں سے بھر دیتی ہے اور کرہ ارض کا یہ چند روزہ مکین بنیادی خوشیاں اپنے دامن میں سمیٹ لینا چاہتا ہے خواہشات کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اسے اپنے حصار میں جکڑ لیتا ہے۔ صوفیوں نے شاید اسی لیے ترک خواہش کی بات کی ہے ۔قناعت بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے سادہ زندگی کا حسن بھی اسی کے دم سے ہے۔ یہ سب زندہ حقائق ہیں نجات کی باتیں ہیں لیکن اب ایسی خواہشات کا کیا کیجیے جو انسان کو اپنے سامنے بے بس کردیں۔ اس ساری کہانی کا ہیرو اپنے سامنے موجود دنیا کو ہی سب کچھ سمجھ بیٹھا ہے اور یہی وہ ٹھوکر ہے جو اسے اپنے من میں ڈوب کر زندگی کا سراغ پانے نہیں دیتی۔اس حوالے سے عبدالرحمٰن بابا نے کتنی خوبصورت بات کی ہے: 

ہمیشہ بہ بے وقوف او بے شعور وی

چہ مخمور وی پہ خمار د دے دنیا

متعلقہ خبریں