Daily Mashriq


انضمام کے عمل میں روڑے اٹکانے کی روش مناسب نہیں

انضمام کے عمل میں روڑے اٹکانے کی روش مناسب نہیں

حکومت اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوامحمود خان کی طرف سے قبائلی اضلاع کے سیکرٹریٹ کے مختلف محکموں کو صوبائی حکومت کے ماتحت کرنے، قبائلی اضلاع تک پولیس اور عدالتی نظام کی توسیع کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیںتاہم کئی قبائلی اضلاع میں پولیس نظام کے خلاف احتجاج ہونے کے بعد گورنر خیبر پختونخواشاہ فرمان نے قبائلی اضلاع تک پولیس اور عدالتی نظام کی فوری توسیع کی مخالفت کردی ہے ۔اس صورتحال کے باعث قبائلی اضلاع کے سرکاری اداروں کو صوبائی حکومت کے ماتحت کرنے کا عمل بھی سست روی کا شکار ہوگیاہے۔ اب تک قبائلی علاقوں کے صرف ہیلتھ اور ایجوکیشن سیکٹرز کے ادارے صوبائی حکومت کے ماتحت کئے گئے ہیں ۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ قبائلی اضلاع کے معدنیات ڈیپارٹمنٹ کو صوبائی حکومت کے ماتحت کرنے کی بعض حکومتی شخصیات مخالفت کررہی ہیں ۔گورنر کے پریس سیکرٹری اور گورنر ہائوس کے ترجمان نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ گورنرخیبر پختونخوا قبائلی اضلاع تک پولیس اور عدالتی نظام کی فوری توسیع کی اس وجہ سے مخالفت کر رہے ہیںکیونکہ ان کا موقف ہے کہ پولیس اور عدالتی نظام کی توسیع پر قبائلی اضلاع کے عوام کے تحفظات ہیں اوروہاں کی روایات کے پیش نظر پہلے قبائلی عوام کے ساتھ مشاورت ضروری ہے ۔گورنر ہائوس کے ترجمان کے مطابق گورنر خیبر پختونخوانے اس سلسلے میں سات قبائلی اضلاع کے مشران کے ساتھ جرگوں کے انعقاد کا فیصلہ کیا ہے جس میں ان کے ساتھ قبائلی اضلاع میں پولیس اور عدالتی نظام کی توسیع پر مشاورت کی جائیگی۔قبائلی علاقہ جات کے خیبر پختونخوا میں انضمام کے عمل کو جس طرح التواء کا شکار بنایا جارہا ہے وہ مجموعی قبائلی عوام کی امنگوں کے سراسر خلاف ہے ۔ سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ اب جبکہ پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد سرکاری محکموں کوصوبائی محکموں اور اداروں کے ماتحت کرنے کاعمل داری ہے بعض عناصر کی طرف سے اس کی مخالفت سامنے آئی ہے جس کے پس پردہ سوائے اپنے مفادات کے تحفظ کے اور کوئی امر کارفرما نظر نہیں آتا حیرت کی بات یہ ہے کہ وفاق کے نمائندے کو قانون کے مطابق اس عمل کو آگے بڑھانے کی بجائے وہی اس اس راہ میں رکاوٹیں ڈال رہے ہیں جو خود ان کی سابقہ سیاسی جماعت اور وزیراعظم عمران خان کی پالیسی سے ہم آہنگ نہیں بلکہ سراسر خلاف ورزی ہے جس کا وفاقی حکومت کو نوٹس لینا چاہیئے۔ فاٹاانضمام کا عمل آئینی تقاضا اور عوامی مطالبہ ہے جس کو روبہ عمل لانے میں صوبائی حکومت کی مساعی احسن ہیں ۔ قبائلی عوام کو قومی دھارے میں لانے کی مساعی میں تاخیر نہیں ہونی چاہیئے اور اس عمل کو مناسب انداز میں آگے بڑھانے کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے ۔

ای او بی آئی کے پنشنروں کی فریاد

ای او بی آئی کے پنشنروں کی قلیل پنشن کی فریاد اور ہر حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پنشن کی عدم ادائیگی جس طرح ہر دور حکومت کا مسئلہ رہاہے اسی طرح موجودہ حکومت کی جانب سے بھی پنشنروں کی پنشن میں معقول اضافہ نہ کرنا اور گزشتہ حکومت کی اعلان کردہ دس ہزار روپے ماہوار پنشن کی عدم ادائیگی اس لئے زیادہ افسوسناک عمل ہے کہ معمر پنشنروں کی موجودہ حکومت سے سابق حکومتوں سے برعکس توقعات تھیں مگرموجودہ حکومت بھی مختلف نہ نکلی ۔حالیہ بجٹ میں بھی حکومت نے ای او بی آئی پنشن5200سے بڑھا کر6500کر دی تھی مگر اس پر بھی عملدر آمد نہیں ہورہا پنشنروں کے ادارے ای او ابی آئی کے اثاثوں میں جس بڑے پیمانے پر فراڈ کیا گیا اور پنشنروں کی رقم جس طرح حکمرانوں نے غیر قانونی طریقے سے دیگر مدات میںخرچ کی معمر پنشنراس پر نہ تو احتجاج کرسکتے ہیں اور نہ ہی ان کی فریاد سننے والا کوئی ہے ۔ حکومت کو ای او بی آئی پنشنروںکے مسائل کا ادراک ہونا چاہیئے اور ان کو کم سے کم دس ہزار روپے پنشن کی ادائیگی شروع ہونی چاہیئے جبکہ آئندہ بجٹ میں پنشن میں معقول اضافہ کیا جائے ۔ ای او بی آئی کے اثاثوں اور رقوم میں خورد برد کی تحقیقات کرائی جائیں اور بد عنوان عناصر کو کڑی سزا دی جائے ۔

متعلقہ خبریں